356

آئین شکنی کیس میں پرویز مشرف کی درخواست مسترد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق صدر کے سامنے 3 آپشن رکھ دئیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے آئین شکنی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے التواءکی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ پرویزمشرف تو قوم کومکے دکھاتے تھے، اگر سابق صدر پیش نہ ہوئے عدالت خود فیصلہ کرئے گی. سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کی سماعت کی ، سماعت میں عدالت نے پرویز مشرف کے سامنے تین آپشنز رکھ دیئے، پہلا آپشن پرویز مشرف آئندہ سماعت پر ہوکر بیان ریکارڈ کروائیں، دوسرا آپشن اگر نہیں پیش ہوتے تواسکائپ پر بیان ریکارڈ کروائیں اور تیسرا آپشن اگر وہ اسکائپ پر بھی بیان ریکارڈ نہیں کرواتے تو ان کے وکیل بیان ریکارڈ کروائیں.عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے کیس کو التواءمیں ڈالنے کی درخواست مسترد کردی اور کہا ان 3 آپشنزمیں سے کسی پرعمل نہ ہواتو سپریم کورٹ خودفیصلہ کرے گی. چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمے میں کہا پرویزمشرف تومکے شکے دکھاتے تھے، یہ ناہوعدالت کو مکے دکھا دیں،اندازہ تھا پرویز مشرف ہسپتال میں داخل ہوجائیں گے، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف نے عدالت کوسنجیدگی سے نہیں لیا،عدالت کے ساتھ کھلواڑ کیاجا رہا ہے.
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاسوال یہ ہے ایک ملزم پیش نہیں ہورہا، اب کیاہو سکتاہے؟ایک ملزم جان بوجھ کر پیش نہیں ہوتاتوکیاعدالت بالکل بے بس ہے؟ اگرقانون اس صورتحال پرخاموش ہے توآئین سپریم کورٹ کواختیار دیتاہے. دوران سماعت مشرف کے وکیل نے کہا پرویز مشرف بیرون ملک حکومت کی اجازت سے گئے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل صاحب حکومتوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہے، عدالت کی ترجیح صرف قانون ہے، یہ نہیں ہوسکتاکہ کوئی ملزم نظام انصاف سے بچ نکلے، یہ بہت غلط تاثر پیدا ہو رہاہے کہ کچھ لوگ قانون سے بالا ترہیں.
چیف جسٹس نے کہا اگر قانون خاموش ہے تو اس کاحل سپریم کورٹ نکالے گی، بہتر حل ہے کہ ملزم کو ایک اور مناسب موقع دیا جائے، نہ آئے تواسکائپ پربیان دینے کاموقع فراہم کیاجائے، بیماری کی وجہ سے اسکائپ پرنہیں آتے تو ان کے وکیل سے سوال جواب کئے جائیں، میرے خیال میں وکیل بہتر جواب دےگا. جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ وہ خو دجیسے قوم کومکے دکھاتے تھے، عدالت کوبھی آکرمکے شکے دکھانا نہ شروع کر دیں، علاج کے لئے باہرجاناقانونی حق ہے، ایسی مثالوں نے دوسروں کیلئے بھی مشکلات پیداکر دی ہیں.
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کوئی ایسی غلط مثال نہیں بننے دیں گے، جس سے لگے کچھ لوگ قانون سے بالاترہیں ، ٹرائل ہر حال میں ہو گا اولیور کرومویل کی مثال ہمارے سامنے ہیں، مشرف اپنے ہوش وحواس میں ہیں، پاک بھارت ایشوپرمشرف نے بہت سمجھدارانہ بیانات دیئے، وہ دیگرموضوعات پر بیانات ، انٹرویو دے سکتے ہیں، اپنے کیس میں کیوں نہیں. سپریم کورٹ میں پرویزمشرف کیخلاف کیس کی سماعت میں وقفہ کے بعد عدالت نے کہا توقع ہے کہ ٹرائل کورٹ مشرف کے بیان ریکارڈکرانے پرحل نکالے گی ، رجسٹرار خصوصی عدالت کے مطابق ٹرائل پر 28 اپریل کی تاریخ مقرر ہے، مشرف کا بیان ریکارڈکرنے کے حوالے سے معاونت طلب کی گئی ہے.
عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی پھر ہم مسئلہ حل کریں گے بعد ازاں کیس کی سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں