10

آزادکشمیر کے ریاستی تشخص اور یو این چارٹر کو چھیڑے بغیر سینٹ اور قومی اسمبلی

آزادکشمیر کے ریاستی تشخص اور یو این چارٹر کو چھیڑے بغیر سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی کےآپشن پرغورہونا چاہیے۔ سردار تنویر الیاس خان کی تجویز

اسلام آباد( )وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی و پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت سے ثابت ہو چکا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں عوام تحریک انصاف کی حکومت کو وفاق اور صوبوں میں پسند کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گلگت بلستان کو عبوری صوبہ بنا کر وہاں کے عوام کی 74 سالہ محرومیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اقوام متحدہ کی جموں کشمیر تنازعے بارے قراردادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آزادکشمیر کے ریاستی ڈھانچے کو تبدیل کیے بغیر سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی کے آپشن پر بحث ہونی چاہیے، اس تجویز پر بھی غور کرتے ہوئے مباحثہ ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے صوبہ پنجاب میں سردار عثمان بزادر کی صورت میں بہترین وزیر اعلیٰ دیا ہے جو پوری کیبنٹ کو لیکر چل رہے ہیں،پنجاب میں سرمایہ کاری کے ساتھ تمام شعبوں میں تیزی سے کام ہو رہا ہے جبکہ ہر شعبے میں جدت سے بھرپور نئے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈیٹر سٹیٹ ویوز سید خالد گردیزی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے جانے والے ظہرانے میں کشمیری صحافیوں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سردار تنویر الیاس خان کہا کہ آزادکشمیر میں مختلف ادوار کی حکومتوں کے سربراہان کو تعمیر و ترقی بارے کئی تجاویز دیں جن میں مظفرآباد اور راولاکوٹ میں ایکسپریس وے کے منصوبے شروع کرنا، سیاحت کیلئے ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے سمیت میوزیم بنانے جیسی کئی تجاویز دیں جن سے علاقے کی معیشت پر فوری اور واضح فرق پڑ سکتا تھا لیکن عمل نہیں کیا گیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت اگر گلگت بلتستان کے بارے میں سنجیدہ ہوتی تو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقت جسٹس مجید ملک کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے اقدامات کیے جاتے لیکن اس فیصلے کے خلاف خود آزادکشمیر حکومت سپریم کورٹ چلی گئی تھی۔

آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے کبھی بھی گلگت بلتستان کو اپنے ساتھ لیکر چلنے کی کوشش نہیں کی ، اب حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کو وہاں کے عوامی مطالبے پر عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ آزادکشمیر کے ریاستی تشخص کو چھیڑے بغیر اور یو این چارٹر کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر آزادکشمیر کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی مل جائے تو اس کا فائدہ پورے خطے اور لوگوں کو ہو گا، اس تجویز کے حوالے سے کشمیریوں کے درمیان مباحثہ ہونا چاہیے۔

سردار تنویر الیاس خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آزادکشمیر کی سیاست یا انتخابات میں خود حصہ لینے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا لیکن اس حوالے سے بہت سے لوگ مشورہ دے رہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں باضابطہ حصہ لوں، ماضی میں کئی بار میرے بارے میں افواہیں پھیلائی گئیں کہ میں آزادکشمیر کی سیاست میں آ رہا ہوں تو میں ان خبروں کی بارہا تردید کر چکا ، انہوں نے کہا کہ میں خود آزادکشمیر کی سیاست میں آؤں یا نہ آؤں لیکن جو کچھ وہاں چل رہا ہے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔

سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آزادکشمیر میں پی ٹی آئی کی جو تنظیم ہے وہ انتہائی کمزور اور بری طرح سے گروپ بندی کی شکار ہے، تحصیل اور ضلع کی سطح پر چھ، چھ اور آٹھ آٹھ دھڑے بنے ہوئے ہیں ان کو ختم کیا جانا چاہیے اور اس کی ذمہ داری پارٹی کے صدر اور تنظیم کی بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آمدہ الیکشن میں پی ٹی آئی بہترین مینڈیٹ کے ساتھ آزادکشمیر میں حکومت بنائے گی ، پارٹی کی مضبوطی اور الیکشن کی تیاریوں بارے اپنا کردار ضرور ادا کروں گا۔ سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کے نام پر آزادکشمیر میں سیاست اور حکومت کی جاتی ہے لیکن عوام کو جان بوجھ کر بنیادی سہولیات سے محروم رکھاجاتا ہے۔برداری ازم اور علاقائی ازم آخری حدوں کو چھو رہے، گورننس کے مسائل بہت سنگین ہیں، آزادکشمیر میں میرٹ نام کی چیز نہیں، حکمران اور بیوروکریسی خود آزادکشمیر میں رہنا اور علاج کرانا تک پسند نہیں کرتی، اس لیے ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ اس چھوٹے سے خطے کو ماڈل ریاست کے طور پر بنایا جائے جہاں روزگار کے مواقع مقامی طور پر پیدا ہو سکیں ، مقامی زراعت کو فروغ دیا جا سکے اور سیاحت کے شعبے کو اصل معنوں میں انڈسٹری بنا دیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکمران اگر ذاتی فوائد سمیٹنے کی بجائے گورننس اور تعمیر و ترقی پر توجہ دیں تو یہ خطہ معاشی طور پر خود کفیل بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جنگلات ختم ہو رہے ہیں، پانی کے چشمے تک آلودہ ہو چکے ہیں، پہاڑی علاقوں میں جانا اور رہنا پوری دنیا پسند کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں بنیادی انفراسٹریکچر پر ہی توجہ نہیں دی گئی۔ سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ برادری ازم، علاقائی ازم یا ذاتی پسند نہ پسند کی بنیاد پر اگر حکومت کی جائے گی تو اس کا نقصان تمام انتظامی ڈھانچے کو پہنچتا ہے جبکہ میرٹ پر اگر تعیناتیاں ہوں تو اس کا فائدہ عوام اور اداروں کو ہوتا ہے۔سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ مجھے وفاق میں ذمہ داریاں دی جارہی تھیں لیکن میری چوائس پر مجھے پنجاب میں ذمہ داری دی گئی کیونکہ پنجاب پاکستان کو چلاتا ہے اور اس کی زراعت اور ٹیکسٹائل انڈسٹری ملک کو آگے لیجانے میں تیز رفتار اور اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے ہر وہ قدم اٹھا چکے ہیں اور اٹھا رہے ہیں جن سے ان کا اعتماد بحال ہو، پنجاب سے 125 ملین ڈالر کا فروٹ اور سبزیاں ایکسپورٹ کی جارہی ہیں، ہم اپنی پیداوار اور معیار پر مزید توجہ دیں تو یہ ایکسپورٹ بہت زیادہ ہو سکتی ہے اسی طرح دیگر شعبہ جات میں بھی تیزی سے کام کیا جا سکتا ہے اور ہماری حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے کہ ملکی ایکسپورٹ بڑھے، کسانوں کو سہولیات اور ریلیف دے رہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار بڑھ سکے، انہوں نے کہا کہ پورے ملک کی ایکسپورٹ 23 بلین ڈالر ہے اس میں پنجاب سے پیدا ہونے والی کاٹن کی ایکسپورٹ 8 بلین ڈالر ہے۔ سردار تنویر الیاس خان کے اعزاز میں سید خالد گردیزی کی طرف سے دیئے جانے والے اس ظہرانے میں منیجنگ ایڈیٹر شہزاد خان، کنٹرولر نیوز خواجہ کاشف میر، ویب ایڈیٹر عامر گردیزی نے میزبانی کی جبکہ اے کے این ایس کے سابق صدر عامر محبوب، ایڈیٹر کونسل کے صدر راجہ کفیل ، جی ٹی وی کے ڈائریکٹر نارتھ عبدالقیوم بخاری۔کشمیر جرنلسٹس فورم کے سیکرٹری جنرل عقیل انجم، سابق وائس چیئرمین پریس فاونڈیشن امجد چوہدری،روزنامہ اوصاف کے ایڈیٹرکشمیر افیئرزبشارت عباسی۔کنٹری نیوز کے چیف ایڈیٹر سردار حمید، صدائے چنار اخبار کے ایڈیٹر اعجاز عباسی،جموں کشمیر اخبار کے ایڈیٹر شہزاد راٹھور، کشمیر لنک اخبار کے ایڈیٹر خواجہ متین، کشمیر ٹائمز اخبارکے ایڈیٹر عابد عباسی، کنٹری نیوز کی ایڈیٹر پارسا بخاری،سینئر صحافی سید شیراز گردیزی، راجہ ماجد افسر، عرفان سدوزئی، خواجہ کاشف رفیق، رازق بھٹی، جاوید اقبال اور دیگر بھی شریک ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں