6

اسلام آباد بیورو جرنلسٹ ایسوسی ایشن ربجا نے حکومت اور وفاقی وزارت اطلاعات کو نئی میڈیا پالیسی کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کر دی

اسلام آباد (تلافی نیوز )راولپنڈی اسلام آباد بیوروز جرنلسٹ ایسوسی ایشن RIBJAنے حکومت پاکستان اور وفاقی وزارت اطلاعات کو نئی میڈیا پالیسی کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کر دی تفصیلات کے مطابق وفاقی دارلحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کے صحافیوں کی فعال اور متحرک صحافتی تنظیم راولپبڈی اسلام آباد بیوروز جرنلسٹ ایسوسی ایشن ربجا کے صدر سردار شوکت محمود نے تنظیم کے جنرل سیکرٹری غلام مرتضی ملک نائب صدر شوکت علی ستی جوائنٹ سیکرٹری ارشد علی یوسفزئی سنیئر صحافی ربجا کی گورننگ باڈی کے ممبر کے جے ایف کے سابق صدر اعجاز عباسی کے ھمراہ وفاقی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان وفاقی سیکرٹری اطلاعات اکبر دورانی پرنسیپل انفارمیشن آفیسر طاھر حسن ممبر میڈیا کمیٹی و ڈی جی انٹرنل پیبلیسٹی ونگ (پی۔آئی۔ڈی) طارق محمود کو نئی مجوزہ میڈیا پالیسی کے حوالے تجاویز تحریری طور پر پیش کر دی ان تجاویز میں سرکاری اشتہارات کو صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواوں کی ساتھ مشروط کرنے علاقائی اخبارات کا کوٹہ 25 فیصد سے 50 فیصد کرنے قومی اور علاقائی اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی ادائیگیاں ایک ساتھ کرنے سرکاری محکمہ جات کو اعتماد میں لیکر نئی پالیسی بنانے قومی وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کے ثمرات سے علاقائی اخبارات کوفائدہ پہچانے بنیادی حقوق کے حوالے پاکستان کے ائین کے منافی اور رائیج الوقت قوانین کے مغائر حق تلفی پر مبنی سلوک کے خاتمے پی۔آئی۔ڈی میں تمام اخبارات جو روزانہ مارکیٹ میں آتے ھیں کے ساتھ یکساں برتاو کرنے علاقائی اخبارات کی اپنے اپنے علاقوں میں ناگزیر اھمیت افادیت کے پیش نظر اور انکے ساتھ وابسطہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو شدید معاشی دباو سے نکالنے کے لیئے خصوصی اقدامات کرنے میڈیا مکمل طور پر سنٹرلائز کرنے کے بجائے 50 فیصد اختیار متعلقہ محکمے کو دئیے جانے تاکہ فنڈز کے حصول میں مشکلات نہ پیش آئیں سرکاری محکمہ جات کی جانب سے میڈیا میں شامل کیئے گے اخبارات کو بغیر کسی معقول وجہ کے نہ نکالنے بھاری رشوت اور سفارش کی بنیاد پر ماھانہ کروڑوں روپیئے کے اشتہارات لینے والے ڈمی اخبارات کی حوصلہ شکنی کرنے اور روزانہ باقاعدہ شائع ھونے والے اخبارات کو معقول اشتہارات دئیے جائیں تاکہ وہ اپنے اخراجات کے ساتھ اپنے ساتھ وابسطہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بروقت تنخواوں کی ادائیگی ھوسکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں