47

بشیر میمن کی گفتگو جھوٹ پر مبنی ہے جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں،شہزاد اکبر

کراچی (مانیٹرن ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا سابق ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بشیر میمن کے الزامات پر ردعمل سامنے آیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق شہزاد اکبر نے کہا کہ بشیرمیمن کی نجی ٹی وی پروگرام  میں جھوٹ پر مبنی گفتگو دیکھی، بشیرمیمن کو قاضی فائزکےمعاملے پروزیراعظم یا مجھ سےملاقات کےلیے کبھی نہیں بلایا گیا، بشیرمیمن اور وزیر قانون کے درمیان بھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ بشیرمیمن کو کبھی بھی کسی انفرادی شخصیت کے خلاف کوئی کیس شروع کرنے کا نہیں کہا تھا، وفاقی کابینہ نے ایف آئی اے کو صرف بغاوت کا ایک کیس بھجوایا تھا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ بشیرمیمن کے بہتان پر قانونی کارروائی کےلیےوکلا کو ہدایات جاری کر دی ہیں، بشیر میمن کو کبھی بھی کسی مخصوص فرد کے خلاف کوئی کیس شروع کرنے کا نہیں کہا ۔خیال رہے اس سے قبل نجی ٹی وی پروگرام میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ مجھے بلا کر کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف انکوائری کریں، میں نے کہا کہ میرے ٹی آر اوز میں یہ نہیں آتا، پولیس قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے ہم غیرقانونی کام کیسے کرسکتے ہیں وہ بھی ایک جج کے خلاف۔ وزیراعظم نے کہا محمد بن سلمان جو کہتا ہے وہ ہوتا ہے، میں نے کہا سعودی عرب میں بادشاہت ہے پاکستان میں جمہوریت ہے، پاکستان میں صرف گرفتار کرنا نہیں ہوتا جرم بھی ثابت کرنا ہوتا ہے، یہ خواجہ آصف پر غداری کیس بناناچاہتے تھے۔سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ مجھے وزیراعظم ہاؤس بلا یا گیا جہاں ان سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے کہا کہ آپ قابل افسر ہیں کام شروع کریں ہمت کریں آ پ کرسکتے ہیں، اس وقت تک مجھے نہیں پتا تھا کہ کیس کیا ہے، شہزاد اکبر کے کمرے میں گئے تو کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیس بنانا ہے اور انکوائری کرنی ہے، وہاں سے میں، اعظم خان اور شہزاد اکبر تینوں فروغ نسیم کے آفس گئے جہاں ڈاکٹر اشفاق بھی موجود تھے، او ای سی ڈی کا ڈیٹا ڈاکٹر اشفاق کے پاس تھا، ہم فروغ نسیم کے آفس گئے وہ بھی کنوینس تھے کہ ایف آئی اے یہ کیس بنائے، میں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کیخلاف انکوائری ایف آئی اے کا نہیں سپریم جوڈیشل کونسل کا کام ہے، میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ہمارے ٹی آر اوز میں یہ نہیں آتا، انہو ں نے کہا کہ ایف بی آر اور آپ مل کر انکوائری کرو جسے میں نے مسترد کردیا،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں