65

بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے او ر تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا مقبوضہ علاقے میں مسلسل 196ویں روزبھی فوجی محاصرہ بدستور جاری رہا

سرینگر (ویب ڈیسک ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنے جبری قبضے کے خلاف مزاحمت کا بھرپور مظاہرے کرنے پر کشمیریوں کو خوف و دہشت کا شکار بنانے کے لیے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے سرینگر ، بڈگام، اسلام آباد ، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں گزشتہ کچھ دنوں کے دوران تلاشی آپریشنوں کے دوران متعدد نوجوان گرفتار کر لیے ۔
ان علاقوں کے رہائشیوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ فوجیوں نے انکی زندگیاں جہنم بنا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکار گھروں میں گھس کر مکینوں کو ہراساں کرتے ہیں اور گھریلواشیاء لوٹ لیتے ہیں ۔مقبوضہ علاقے میں ہفتہ کو مسلسل 196ویں روزبھی جاری فوجی محاصرے اور براڈ بینڈ اور تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کی معطلی کی وجہ سے وادی کشمیر کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے ذرائع نے کہا ہے کہ قابض انتظامیہ نے سرینگر کے علاقے حیدر میں واقع حریت کانفرنس کے علیل چیئرمین سید علی گیلانی کی رہائشگاہ کے اطراف میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ کردیاہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور فوجی اہلکار لوگوں کو سید علی گیلانی کے گھر کے اندر جانے نہیں دے رہے حتی ٰ کہ انکے اہلخانہ کو بھی گھر میں داخل ہونے یا گھر سے باہر آنے نہیں دیا جارہا۔
واشنگٹن میں قائم ’’ورلڈ کشمیر ایویئرنس فورم‘‘ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی اور کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کے کنوینر سید عبداللہ گیلانی نے اپنے بیانات میں مسلمانوں سے بالعموم جبکہ کشمیریوں سے بالخصوص اپیل کی ہے کہ وہ سید علی گیلانی کی جلدصحتیابی کیلئے دعا کریں۔ قابض حکام نے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے سابق افسر اور کشمیری سیاست دان شاہ فیصل پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا ہے۔
شاہ فیصل گزشتہ برس 14اگست سے زیر حراست ہیں۔ کشمیر تحریک خواتین نے تحریک آزادی کشمیر کے معروف رہنما عبدالغنی ڈار المعروف عبداللہ غزالی کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ عبداللہ غزالی کو سرینگر کے علاقے مائسمہ میں ایک مسجد میں شہید کیا گیاتھااور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے قتل میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوںکا ہاتھ ہے۔سینئر حریت رہنما غلام محمد خان سوپور ی نے سوپور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اورجموںوکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میںمعروف آزادی پسند رہنماغلام محمد بلہ کو انکی شہادت کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
غلام محمد بلہ کو 1975 میں آج ہی کے دن اندرا عبداللہ معاہدے کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنے پر گرفتار کر کے دوران حراست شہید کیا گیاتھا۔دہلی میں مقیم غیر ملکی سفارتکاروں نے جنہوں نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیاتھا، بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ علاقے میں مواصلاتی ذرائع پر ابھی تک نافذ پابندیوں کو فوری طورپر اٹھالے۔امورخارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے بارے میں یورپی یونین کی ترجمان Virginie Battu-Henrikssonنے صحافیوںکو بتایا کہ یورپی یونین علاقے میں مواصلاتی ذرائع پر عائد پابندیوں کا فوری خاتمہ دیکھنا چاہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں