14

بھارتی ہٹ دھرمی گذشتہ ایک سال سے سرینگر مظفرآباد اور راولاکوٹ ،پونچھ بس سروس کی بندش کے باعث منقسم کشمیر کے شہری تیسری عید پر بھی آر پار نہیں جا پائیں گے

ہٹیاں بالا(خصوصی رپورٹ)بھارتی ہٹ دھرمی ،اور انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزی گذشتہ سال سے سرینگر مظفرآباد اور راولاکوٹ ،پونچھ بس سروس کی بندش کے باعث مقسم کشمیر کے شہری تیسر ی عید پر بھی آر پار نہیں جا پائیں گے دونوں اطراف کے کشمیریوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال فروری میں نام نہاد پلوامہ حملے کے بعد بھارتی انتہا پسند حکومت نے گذشتہ سال پچیس فروری کےروز سے سرینگر مظفرآباد بس سروس اور آٹھ مارچ کے روز سے سرینگر مظفرآباد ٹرک سروس اور اپریل میں راولاکوٹ،پونچھ بس اور ٹرک سروس کو پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر بند کر دیا تھا بس سروس کی بندش کے باعث منقسم کشمیر میں اپنے پیاروں کے ہاں عید منانے کے خواہشمند تیسری عید پر بھی آر پار نہیں جا پائیں گے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آر پار سفر کے خواہشمند مسافروں اور تاجروں میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے گذشتہ ایک سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے بعد بھی دونوں اطراف کے تاجروں کے اربوں روپے آر پار پھنس چکے ہیں جس کی وجہ سے ایل او سی تاجر شدید مالی پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ دو طرفہ تجارت سے منسلک ہزاروں افراد بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں منقسم کشمیر کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں اور ایل او سی تاجروں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی اس شدید ترین خلاف ورزی کا فوری طور پر نو ٹس لے دنیا میں تو منقسم لوگوں کو ملنے کے لیئے خصوصی بندوبست کیا جاتے ہیں لیکن کشمیر میں تو بھارت کی جانب سے بین الاقومی قوانین کی خلاف ورزیاں کر کے منقسم کشمیریوں کو ایک دوسرے سے دور کیا جا رہا ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں