85

بھولا چرس

بھولا چرس
رات کی تاریکی میں گاؤں سے دور آس پاس کے ماحول سے بے خبر منشیات کا استعمال کرتے کچھ نوجوان ، جن میں چاچا بشیرے کا بیٹا بھولا بھی شامل بھولے کا اصل نام شاید کچھ اور لیکن پورے گاؤں میں وه بھولے کے نام سے ہی مشہور ، ماں باپ کے ساتھ ساتھ وہ گاؤں والوں کی آنکھوں کا بھی تارا تھا ، ہوتا بھی کیوں نہ وہ تھا ہی ایسا ملنسار ، محنتی ، پڑھائی میں سب سے آگے وه معصوم سابچہ واقعی بھولا ہی تھا ، چاچا بشیرا مستقبل کے حالات سے بے خبر آنکھوں میں اپنے بیٹے کے سنہری مستقبل کے خواب لیے عمر کے اس حصے میں بھی دیار غیر میں دن رات محنت کرتے ہوئے اُس کی خواہش اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کی خوابوں میں وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھتا تو ایک نئے جوش کے ساتھ محنت کرنے میں لگ جاتا ، گاؤں سے میڑک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد مزید تعلم کے لیے آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کے سپنے لیے بُھولے نے شہر کا رخ کیا دو سال کی دن رات کی محنت کا بعد جب رزلٹ اُسکے ہاتھ میں آیا تو اُسکا لگا کہ اُسکی محنت کا صلہ مل گیا ہے اُسکا ڈاکٹر بنے کا خواب پورا ہونے کے قریب ہے ہمارے معاشرے کی ناانصافی کہ ایک دولت مند آدمی کا بیٹا جو با مشکل امتحان میں پاس ہوا اُسکا تو میڈیکل کالج میں داخل ہو جاتا ہے لیکن پوزیشن ہولڈر بھولے کا نہیں ہوتا . اسی مایوسی کے عالم میں اُسکی ملاقات شہر میں منشیات فروشوں کے کچھ کارندوں سے ہو گئی گاؤں کے سیدھے سادے مصوم سے بھولے کے ساتھ اُنھوں نے دوستی بڑھانا شروع کردی ، ان لوگوں کا طریقہ واردات کے یہ لوگ سب سے پہلے انسان کے اندر مایوسی پھیلاتے ہیں اُس کے سامنے معاشرے میں ہونی والی زیادتیوں ، محرومیوں کا ذکر کرتے ہیں ، اُن کو اپنے مستقبل سے مایوس کرتے ہیں ، اُن لوگوں کی مثالیں دیتے ہیں جو پڑ لکھ کر بھی ناکام زندگی گزارتے ہیں اس طرح سے وہ انسان کے اندر پہلے مکمل مایوسی پیدا کرتے ہیں اور پھر اُسکو نشے کی طرف مائل کرتے یہی انھوں نے بھولے کہ ساتھ بھی کیا ناانصافی کا شکار بُھولا جلدہی اُن کے جال میں پھنس گیا اور نشے کی بری لت میں پڑ گیا ، شہر سے جب یہ خبرگاؤں پہنچی تو گاؤں والوں کا رویہ بھی اُس سے بدل گیا کسی نے اسکے بے داغ ماضی کو نہیں دیکھا کسی نے وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی ، گاؤں والے جو کبھی بھولے سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اُنھوں نے بھولے سے منہ موڑ لیا جن لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کے اُن کے بچے بھولے سے دوستی رکھیں انھوں نے اپنے بچوں کو بھولے سے ملنے سے روک دیا غرض جتنے منہ اتنی باتیں اُس کا نام بھولے سے بھولا چرسی ہو گیا ہر کوئی اسکو چرسی کے نام سے پکارنے لگا وه تنہائی اور احساس محرومی کا شکار ہوگیا منشیات فروشوں کے کارندوں کی باتیں اُسکو سچ لگنے لگی اور یہی وہ وقت جب وہ مکمل طور پر اس دلدل میں پھنس گیا . والدین اپنے اکلوتے بیٹے کہ مستقبل کو تباہ ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکے اور کچھ عرصہ بیمار رہنے کہ بعد اس دنیا جہاں سے کوچ کر گئے ، ماں باپ کے بعد بھولے کو سمجھانے والا اس دینا میں کوئی نہ رہا اور جلد ہی ماں باپ کی چھوڑی جمع پونجی کو نشے میں اڑادیا ، آج گاؤں سے باہر درختوں کے نیچے اُسکا ٹھکانہ اور سڑکوں پر لوگوں سے بھیک مانگنا اُس کا کام ، یوں قوم کے مستقبل کا ایک معمار جس نے اپنے والدین کا سہارا بننا تھا جس نے اِس قوم کی خدمت کرنی تھی جس نے اس معاشرے کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کرنا تھا وہ منشیات کی لعنت کی وجہ سے اپنے ماں باپ کے لیے ذلت و رسوائی اور اس قوم پر بوجھ بن گیا اس معاشرے کے لیے ایک ناسور بن گیا ، منشیات فروش ملک وقوم کہ مجرم ان کا ساتھ دینے والے اُن کے جُرم میں برابر کے شریک ، یہ لوگ نہ تو کسی رحم کے مستحق نہ معافی کے ، یہ ہمارے نوجوانوں کے قاتل ، قانوناً قتل کی سزاموت اجتماعی طور پر منشیات کے خلاف آواز نہ اٹھانا ہمارے معاشرے کا بھی مجرمانہ فعل ، منشیات فروش اس ملک اور قوم کے مجرم ، تو اسکے خلاف آواز نہ اُٹھانے والے بھی اس معاشرتی برائی کے حصہ دار ، بھولے کو بھولا چرسی بنانے میں ہمار ا یہ معاشره بھی قصور وار نفرت نشے سے کریں انسان سے نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں فعل کی بنیاد پر انسان ہی سے نفرت کی جاتی ہے بجائے اس کے کے اِس انسان کو بمددری اور تو جو کہ ساتھ نشے سے دور کرنے کی کوشش کی جائے . کاش بھولے سے نفرت انگیز رویہ نہ اپنایا جاتا ، کوئی ایک دفعہ بھولے سے بات کر لیتا اسکو سمجھانے کی کوشیش کرلیتا اُسکے ساتھ ہوئی ناانصافی کا کوئی ازالہ ہوتا کوئی اسکو حوصلہ دلاتا اُسکے اندر جو مایوسی تھی اُسکو اُمید میں بدلنے کی کوششیں کرتا ، اُسکو مقصد کے حوصول کے لیے دوبارہ کوشیش کر نے کا حوصلہ دیتا ، اُس کے سامنے اُن لوگوں کی مثالیں رکھتا جن کا ماضی فٹ پاتھ پر گزرا لیکن اپنی محنت سے انھوں نے معاشرے میں ایک مقام بنایا اور آج ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں کاش کوئی اسکو بتاتا کے کامیابی ناکامی اللہ کے اختیار میں ہے ، کاش کوئی اسکے اندر کی مایوسی کو ختم کرنے کی کوشیش کرتا ، ہمارا یہ معاشرہ اسکو اس طرح نہ دھتکارتا ، کوئی اسکے ماضی کو دیکھتا ہمارا معاشره بھی عجیب انسان کے ماضی کی لاکھوں اچھائیوں کو چھوڑ کر صرف اسکی برائیوں کو ہی دیکھتا ہے ، معاشرے کا اچھا رویہ شاہد اسکو واپسی زندگی کی طرف لوٹ آنے کا موقع دیتا ، اسکے ساتھ اس نفرت سے پیش نہ آتے ، اسکو اس دلدل سے نکالنے کی کوشیش کرتے تو شاید بھولا آج تک بھو لا ہی رہتا بھولا چرسی نہ بنتا علامہ اقبال نہ کیا خوب کہا اپنے کردار پر ڈال کر پردہ اقبال ہر شخص کہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں