336

تعلیمی بددیانتی از قلم عوامی نمائندہ

کوٹلی یونین کونسل قمروٹی۔ عوامی نمائندہ کے نام سے جانے جانے والے صاحب کی سلطان محمود ملک کو بزریعہ ای میل تحریر موصول ہوئی۔

عوامی نمائندے کی تحریریں ہمیشہ مثبت ہوتی ہیں۔ ادارے کا ان کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں عوام اس کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

السلام و علیکم قارئین!

روزنامہ تلافی کی بہت اچھی کوشش ہے کہ معلومات کے ساتھ ساتھ کالم نگاروں کو بھی اپنے خیالات دنیا سے شئیر کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔اس پر میں ایڈمن اور ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
یہ میرا پہلا باقاعدہ کالم ہے۔اب بلا تاخیر موضوع زیر بحث پر بات کرتے ہیں۔

گو کہ *آزادکشمیر میں خواندگی کی شرح* پاکستان کی نسبت بہتر ہے لیکن گزشتہ تقریبا نصف عشرے سے *تعلیمی نظام* میں خرابیاں زور پکڑ رہی ہیں جنکا حل نہ نکالا گیا تو *مستقبل تاریک* نظر آتا ہے۔

مقداری تعلیم Quantity Education اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر گلی نکڑ پر *علم کے ٹھیکیدار* نظر آئیں گے۔اگر سرکاری سکولوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بہت سے *سفارشی* محض پیسے کے چکر میں بھرتی ہوتے ہیں۔اپنی جگہ 5،6 ہزار پر کسی *محنتی بیروزگار* کو سکول میں چھوڑ جاتے ہیں۔خود کوئی دکانیں سنبھال رہا ہے۔کوئی گھر کے کام کاج میں مصروف ہے۔کوئی معلمی کے *مقدس پیشے* سے بددیانتی کرتے ہوئے سکول اوقات میں عطائیت کا کاروبار کر رہا ہے۔

خود مہینے میں ایک مرتبہ چکر لگا کر *رزق حلال* کمانے کی سعی کرتے ہیں۔اگر مستقبل کے معمار کی یہ حالت زار ہے تو مسقبل کے ستاروں کی کیا حالت ہوگی۔

نجی اداروں کی کارستانیوں سے بھی عوام واقف ہے۔معیار کے نام پر بھاری بھرکم *فیسیں* وصول کر کے عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔محض 2 ،3 ہزار روپے پر *گریجویٹس* کی تذلیل کی جاتی ہے۔مالکان لاکھوں کما کر بھی اساتذہ کی *عزت نفس* کو مجروح کرتے نظر آتے ہیں۔

حکومت وقت بالخصوص *محکمہ تعلیم* کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے۔ایسے ملازمین جو خود لاکھ لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں اور اپنی جگہ 5 ہزار پر استاد رکھا ہوا ہے انہیں فورا *معطل* کرنا چاہیئے۔

نجی اداروں پر بھی نظر رکھی جائے اور اساتذہ کو *معقول* تنخواہ کے علاوہ عزت نفس کا تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔

*تعلیمی معیار* میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کیا جائے تاکہ مستقبل تابناک ہواور ہم آئیندہ نسلوں میں بہترین اقدار منتقل کر سکیں۔

*تعلیمی کمیٹیاں* بنائی جائیں جس میں سکول میں درپیش مسائل پر باقاعدہ میٹنگز ہوں تاکہ ایسے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے۔

فیڈ بیک ضرور دیں تاکہ ہم سب کی اصلاح ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں