114

تولی پیر کی 24 فٹ سڑک کا منصوبہ کیوں ڈراپ ہوا؟

تولی پیر کی 24 فٹ سڑک کا منصوبہ کیوں ڈراپ ہوا؟

از۔ خواجہ کاشف میر

حکومت آزادکشمیر نے 30 کلو میٹر طویل سیاحتی سڑک کھائگلہ ٹو تولی پیر لسڈنہ کی 24 فٹ چوڑائی نظر ثانی کا منصوبہ ڈراپ کر دیا۔ اب یہ سڑک بشمول دیوار۔ نالی وغیرہ سمیت 18 فٹ بنے گی جو تعمیر ہونے کے بعد قابل استعمال 12 سے 14 فٹ ہو گی۔

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اس منصوبے کی اصولی منظوری دے چکے تھے لیکن پونچھ کے حکومتی ذمہ داران اور سیاسی قیادت اس اصولی منطوری کو ورک آرڈر میں تبدیل کرانے میں ناکام رہے۔ اس دوران تعمیراتی کمپنی نے 24 فٹ چوڑی سڑک بنانے کیلیے کام تیزی سے شروع بھی کر رکھا تھا جو اب بوجہ فنڈز کی عدم فراہمی حکومتی انکار کے بعد پونچھ ضلع کے ایکسین شاہرات کی طرف سے جاری کردہ اس حکم کے بعد روکوا دیا گیا ہے۔ تاہم وزیر تعمیرات عامہ نے آج بھی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران یہ یقین دلایا ہے کہ یہ سڑک ہر حال میں 24 فٹ ہی بنے گی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وزیراعظم نے اس منصوبے کی توسیع کی منظوری دیدی تھی تاہم کچھ بیوروکریٹ اس منصوبے کی توسیع میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ چوہدری عزیز پر عزم ہیں کہ وہ کام بند نہیں ہونے دیں گے جبکہ توسیع کرا کر رہیں گے۔

وزیرتعمیرات شاہرات چوہدری محمد عزیز نے اس اہم منصوبے کی اہمیت سمجھتے ہوئے بہت متحرک ہو کر کئی سالوں سے جاندار کام کیا اور پوری کوشش کی کہ یہ سڑک 24 فٹ چوڑی تیار ہو ۔ جسکے انہوں نے 18 کلو میٹر تک سڑک کو 26 سے 28 فٹ تک کٹائی بھی کرا دی لیکن وہ خود وزیر شاہرات ہونے کی باوجود بھی ابھی تک 18 فٹ سے 24 فٹ سڑک کا دوبارہ ورک آرڈر نہیں کرا سکے۔سابق وزیر حکومت و انتخابی امیدوار اسمبلی راولاکوٹ مسلم لیگ نواز سردار طاہر انور۔ چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ نوید صادق۔ مشیر حکومت اعجاز یوسف سمیت پونچھ میں مسلم لیگ ن کی قیادت بھی اس سب ناکامی کے ذمہ دار ہے جو حکومت اور بیوروکریسی سے یہ منصوبہ آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔

یاد رہے کہ راولاکوٹ ۔ باغ اور حویلی کہوٹہ کے سنگم پر سیاحتی مقام تولی پیر واقع ہے جہاں سال بھر جہاں سیاحوں کا رش ہوتا ہے وہیں اس 30 کلومیٹر سڑک کے گرد ہزاروں لوگ بھی آباد ہیں جو یہ سڑک استعمال کرتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز حکومت کا دعوی تھا کہ وہ اس سڑک کو سیاحتی راہداری کے طور پر بنا رہے ہیں اور جلسے جلوس اور سرکاری میٹنگز میں اس سڑک کا کریڈٹ لیتے نظر آتے تھے۔

مقامی سیاسی قیادت ہو یا عام لوگ ۔ انہیں وقتی طور پر شاید اس منصوبے کے ڈراپ ہونے سے غرض نہیں ہو گی لیکن ہم اس 24 فٹ چوڑی پختہ سڑک کیلیے کوشش اس لیے کر رہے تھے کہ یہ شاہراہ جہاں تین اضلاع کو ملاتی ہے وہیں علاقے کی سیاحت کی ترقی اور علاقے میں بسنے والی آبادی کی ضرورت کیلیے اگلے 30 سال کیلیے کافی تھی۔
(کاشف میر)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں