53

تیسرا فریق۔۔۔؟

(شفقت راجہ)
جذبات، خواہشات اور احساسات کوئی مادی وجود نہ رکھتے ہوئے بھی زندگی کی ایسی علامات ہیں جن کے بغیر زندگی کی تشریح کرنا مشکل ہے تاہم ان کے اثرات میں ہم اپنی زندگی سے جڑی ان جیسی چند اور بے جان چیزوں کو زندگی جیسا یا بعض اوقات زندگی سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں ۔ اپنی سرزمین سے محبت اور جڑت بھی احساسات و جذبات پر مشتمل قدرتی رشتہ ہے۔ اسی لئے جموں کشمیر کے معاملے میں ہمارا ادب افسانہ اور شاعری سے لیکر فلسفہ، تاریخ اور سیاست سبھی ان جذبات و خواہشات کا آئینہ ہیں۔سرزمین جموں کشمیر کے موجودہ حالات میں ہم ان احساسات کے اثرات سے مغلوب ہو کر اپنی شراکت دار حیثیت کی موجودگی کے ایسے ہزار حوالے بھی رکھیں مگر حقیقت یہ ہے کہ تنازعہ جموں کشمیر کے جنوری 1948(اقوام متحدہ) سے اب تک مسلمہ فریق پاکستان اور بھارت ہی ہیں اور اسی لئے ریاستی عوام کیلئے تیسرے فریق کی حیثیت کا مطالبہ جنگ بندی لکیر کے آرپار (دونوں منقسم حصوں میں) اس تنازعہ میں حصہ داری یا حیثیت کیلئے موجود ہے۔ اب جبکہ متنازعہ ریاست کے ایک حصہ پر انتہاپسندبھارتی سرکار نے صرف فوجی نہیں بلکہ آئینی و انتظامی قبضہ بھی مکمل کر لیا ہے کہ جہاں جبری غلامی، خوف و ہراس اور ریاستی دہشت گردی کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور بی جے پی کے ایجنڈے (ہندتوا) کے علاوہ تمام سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر قدغن ہے۔ اب حکومت پاکستان کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اقوام متحدہ چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اپنے زیرانتظام جموں کشمیر کے متنازعہ حصے کی آئینی و انتظامی (حکومتی) حیثیت کا باقاعدہ تعین کرے اور اس حیثیت کو تسلیم بھی کرے۔ سفارتی سطح پر بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے بہتر ہے کہ تنازعہ جموں کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی میں اس تسلیم شدہ حکومت کو بھی حصہ داری دی جائے تاکہ اس تنازعہ کو دوطرفہ (bilateral) سے سہہ طرفہ (trilateral) مسلہ بنایا جا سکے۔پاکستان کے زیرانتظام ان ریاستی علاقوں کی آئینی حیثیت کا تعین تنازعہ جموں کشمیر کے ابتدائی مراحل میں ہی کر دینا چاہئے تھا کیونکہ یہ سوال ابتدا ہی سے وہاں موجود تھا جس کیلئے ابتدائی حکومت آزاد کشمیر کے سربراہ سردار ابراہیم خان حکومت پاکستان کو یہ تجویز دے رہے تھے کہ حکومت پاکستان کو ہماری حکومت (آزادکشمیر) کو ریاستی عوام کی نمائندہ حکومت مانتے ہوئے ہمارا پاکستان کیساتھ الحاق قبول کر لینا چاہئے اور ریاست میں اس قانونی حیثیت سے پاکستانی فوج بھیج کر سری نگر اور جموں پر قبضہ کر لینا چاہئے (کشمیر ساگا)۔ آگے چل کر سردار ابراہیم خان ہی نے حکومت پاکستان کیساتھ معاہدہ کراچی میں اپنی اسی نمائندہ حکومت کی موجودہ بے اختیار حیثیت اور گلگت بلتستان پر حکومت پاکستان کا مکمل اختیار تسلیم کر لیا تھا۔ بعدازاں سردار عبدالقیوم خان (مسلم کانفرنس ) بھی الحاق پاکستان کیساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست کی وحدت اور علیحدہ ریاستی تشخص کے موقف پر قائم رہے ہیں ۔ اس مسلے کو دراصل کے ایچ خورشید (لبریشن لیگ) نے بڑی شدومد کیساتھ بحیثیت پہلے منتخب صدر (آزادکشمیر) اٹھایا تھا اور انہی خطوط پر آج تک موجودہ وزیراعظم فاروق حیدر بھی وہی مطالبہ کبھی روتے گڑگڑاتے، کبھی کرب و ملال تو کبھی غصےمیں دہراتے ہیں۔ اس بات کو جاننے میں حیرانگی کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ اکتوبر 1947 سے اپریل 1957 تک دس سال سے کم عرصےمیں آٹھ بار ہمارے صدر ریاست تبدیل ہوئے جن میں چند دنوں اور مہینوں کے صدور بھی شامل ہیں۔ کے ایچ خورشید اس معاملے میں خوش قسمت ثابت ہوئے کہ وہ مئی 1959 سے اگست 1964 تک حکومت میں رہے اور آخر انہیں مستعفی ہونا پڑا تھا اور پھر عبدالحمید خان کرسی صدارت پر براجمان ہو گئے۔ کے ایچ خورشید کا بحثیت قانون دان (اور منتخب صدر) موقف یوں تھا کہ ریاست جموں کشمیر سے ہماری مراد وہی ریاست ہے کہ جس کا مسلمہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ تھا (یعنی کل ریاستی جغرافیہ اور اقتداراعلیٰ)۔ اس لئے کے ایچ خورشید نے پاکستانی زیر انتظام متنازعہ ریاستی خطے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے الگ الگ انتظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر پر مشتمل پوری ریاست کیلئے ایک جانشین نمائندہ حکومت کا موقف اپنایا کہ جو بھارتی زیر انتظام ریاستی حصوں کی آزادی کیلئے بھی بہتر خطوط پر کام کر سکے (مسلہ کشمیر کیسے الجھا)۔
یہاں مجھے خورشید حکومت کے خاتمے اور جنگ 1965 سے بعد کے حالات میں ممتاز راٹھور کا وہ ردعمل یاد آیا جو انہوں نے اس وقت کے سیاسئ منظرنامہ کے عکاس اپنے ایک مفصل مضمون “مسلہ آزاد کشمیر” میں خورشید حکومت کے خاتمے اور نئی حکومتی تشکیل کے عمل،آزادکشمیر کی حیثیت اور کمزور نظام پر خوب نشتر برسائے اور اس سیاسی ماحول میں تقسیم ریاست کے شکوک و شبہات یوں ظاہر کیے کہ “ حکومت پاکستان صرف آزاد کشمیر پر ہی قناعت کر کے اسے کلی طور پر اپنے ساتھ شامل کرلینا چاہتی ہے”۔ اس پر یہ شکوہ بھی کیا کہ “اپنی حالت زار کا رونا رونا غداری ہے تو پھر ۔۔کشمیر کا ہر فرد غدار ہے” اور آزاد کشمیر کے نظام میں بہتری کیلئے چند تجاویز کیساتھ یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ “حکومت پاکستان کے ارباب اختیار سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسلہ کشمیر سے پہلے مسلہ آزادکشمیر حل کریں“۔ (ممتاز راٹھور)
میری (راقم) ذاتی رائے میں مسلہ آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے جموں کشمیر کے تنازعہ کے حل میں بھی آزاد جموں و کشمیر (بشمول گلگت بلتستان) کی آئینی و انتظامی حیثیت کے تعین اور اسے تسلیم کرنا کافی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جموں کشمیر تنازعہ اور بھارتی زیر قبضہ ریاستی خطوں کی نجات کیلئے، ریاست کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی و سفارتی حمایت کے حصول کیلئے پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر(گلگت بلتستان) کی نمائندہ قانونی حیثیت کا تعین یعنی تیسرا فریق موجودہ وقت اور حالات کی ضرورت ہے۔(SR)
ذرا سوچئے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں