daily-talafi-خواجہ طارق سعید 45

خواجہ طارق سعید کے ساتھ فیصل راٹھور کی برادری کے طویل مذاکرات ناکام

حویلی(نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل و سابق وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور کی برداری کے ساتھ سابق امیدوار اسمبلی و چیئرمین زکواۃ کونسل آزادکشمیر خواجہ طارق سعید کے پلنگی میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے، دونوں سیاسی شخصیات مفاہمت کے ساتھ گزشتہ دو انتخابات میں حصہ لیتی آئی ہیں ، پہلی مرتبہ فیصل راٹھور کو مشترکہ امیدوار بنایا گیا جنہوں نے الیکشن جیتے اور وزیر حکومت بنے جبکہ دوسری مرتبہ خواجہ طارق سعید امیدوار اسمبلی بنے اور الیکشن لڑے لیکن وہ الیکشن ہار گئے تھے۔ پلنگی سے مصدقہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز خواجہ طارق سعید نے فیصل ممتاز راٹھور کی برادری کے ان لوگوں کے ساتھ تین گھنٹے تک مذاکرات کیے جنہیں فیصل راٹھور کا مکمل سیاسی اعتماد حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ طارق سعید نے مذاکراتی کمیٹی کو بتایا کہ پہلی مرتبہ جب فیصل راٹھور نے الیکشن لڑا تو ہم نے اپنی تمام یونین کونسلز سے اسے بھاری اکثریٹ سے الیکشن جتایا لیکن طے شدہ وعدے اور معاہدے کے مطابق فیصل راٹھور نے حکومتی فنڈز سے حصہ دیا نہ اسکیمیں دیں اور نہ ہی ہمارے لوگوں کو ایڈجسٹ کیا، جب گزشتہ الیکشن میں خواجہ طارق سعید الیکشن لڑے تو فیصل راٹھور ان کو اپنی یونین کونسلز کے پولنگ اسٹیشنز سے الیکشن نہیں جتا سکے بلکہ وہ تمام انتخابی پولنگ اسٹیشن بھی وہ ہارے جہاں سے کبھی بھی اس سے قبل چوہدری محمد عزیز نہیں جیتے تھے۔ طارق سعید نے یہ نقات بھی سامنے لائے کہ فیصل راٹھور پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے تو انہوں نے مرکزی، ضلعی اور تحصیل کی سطح پ جتنی بھی تنظیمیں بنائیں ان میں ہمارے نامزد کردہ لوگوں کو جگہ ہی نہیں دی، اپنی مرضی کی تنظیمیں بنائیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تنظیموں کے اکثر عہدیدار کی پارٹی چھوڑ کر چلے بھی گئے۔ فیصل راٹھور نے نہ ہی پارٹی تنظیم سازی میں طارق سعید کے گروپ کی نمائندگی لی اور نہ وزیر حکومت بننے کے بعد حکومتی فنڈز، اسکیمیں یا ملازمتوں میں طے شدہ حصہ دیا۔ پلنگی میں فیصل راٹھور کی سیاسی ٹیم کے ساتھ طویل مذاکرات میں طارق سعید نے موقف اختیار کیا کہ اس تمام صورتحال میں وہ فیصل راٹھور پر مزید اعتماد نہیں کر سکتے اور سیاسی طور پر ساتھ نہیں دے سکتے اس لیے بہتر یہی ہے کہ فیصل راٹھور پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ نہ لیں۔ راٹھور برادری کے زعماء کا ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق خواجہ طارق سعید نے کہا کہ مجھے 26 ہزار سے لوگوں نے گزشتہ الیکشن میں ووٹ دیئے ہیں اور لوگوں نے ووٹ اس لیے دیئے کہ ہم ان کے کام کرا سکیں ، علاقے میں بہتری لا سکیں ، تعمیر و ترقی کر سکیں اور لوگوں کے روزگار کا انتظام کر سکیں۔ ہم اب مزید پانچ سال ضائع نہیں کر سکتے اور نہ ہمارے کارکنان ہمیں مزید پانچ سال اپوزیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں،خواجہ طارق سعید نے عندیہ دے دیا ہے کہ وہ حولی کہوٹہ بھر کے کارکنان کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں اور اگلے ایک، ڈیڑھ ماہ میں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں