38

دِلوں کے حکمران سابق وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ ممتاز حسین راٹھور

دِلوں کے حکمران سابق وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ ممتاز حسین راٹھور
تحریر :ثاقب راٹھور
29 جون انیس سو تینتالیس کو ممتاز حسین راٹھور راجہ عنایت اللہ خان جاگیردار اعلیٰ کشمیر کے ہاں پیدا ہوئے. راجہ ممتاز حسین راٹھور کے چار بھائی ہیں جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں راجہ فریدون خان راٹھور مرحوم راجہ الطاف حسین خان راٹھور مرحوم راجہ مظفر حسین ظفر اٹھور اور راجہ نسیم راٹھور راجہ مظفر حسین ظفر صاحب ایک بلند پایہ شاعر ہیں ہیں. راجہ ممتاز حسین راٹھور کے والد کو ایک نجومی نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ آپ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس ملک کا بادشاہ بنے گا مگر ان کو نجومی کی اس بات پر یقین نہیں تھا جو کہ بعد میں ثابت ہوئی .راجہ ممتاز حسین راٹھور کی عمر آٹھ سال تھی کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا راجہ عنایت اللہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے. راجہ ممتاز راٹھور والد کی وفات کے وقت دوسری جماعت کے طالب علم تھے ممتاز راٹھور آٹھ سال کی عمر میں یتیمی کے دکھ سے نبرد آزما ہوئے. ان کی والدہ ایک نیک سیرت خاتون تھیں. اس زمانے میں حکومت آزاد کشمیر میں دھڑہ راجگان میں ایک پرائمری سکول قائم کیا. جہاں پر راجہ ممتاز حسین راٹھور کو سکول میں داخل کروا دیا گیا .جب تیسری جماعت تک پہنچے تو ان کے استاد نے کہا کہ بیٹا تو ملک کا نام روشن کرو گے.
جب پانچویں جماعت کا امتحان پہلی پوزیشن لے کر پاس کیا تو والدہ بچے کی مزید تعلیم سے پریشان ہوگی کہ سکول پر یقین تھا پھر انہوں نے سولی ہائی سکول جس کو آجکل جلال آباد کہتے ہیں وہاں پہ داخل کروادیا آٹھویں جماعت کا امتحان لاہوربورڈ کے زیراہتمام ہوتا تھا. پلندری امتحانی مرکز سے مڈل پاس کیا اور میٹرک کرنے کے لئے گورنمنٹ ہائی سکول عباس پور میں داخلہ لیا. میٹرک امتحان میرپور سے پاس کیا اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے راولپنڈی کے گارڈن کالج میں داخلہ لیا. یہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا آغاز راولپنڈی اور میرپور کے کالجوں سے ہی ہوگیا تھا. انیس سو اٹسٹھ میں انہوں نےاین ایس ایف کی بنیاد رکھی وہ این ایس ایف کے بانی صدرکہلائے.بی اے پاس کر کے وہ کراچی ایل ایل بی کی ڈگری کرنے چلے گئے.ایس ایم لا کالج سے انہوں نے لا کی ڈگری حاصل کی.ممتاز راٹھور جب کراچی زیر تعلیم رہے وہاں پر انہیں سٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر مختلف جیلوں میں بھی رہنا پڑا. ان کی تقاریر کی رپورٹ جنرل محمد ایوب خان تک بھی پہنچی تو انہوں نے ممتاز راٹھور پر سخت نگرانی کا حکم دیا کیا ممتاز راٹھور تعلیم مکمل کرکے جب واپس وطن آئے تو والدہ نے ان کی شادی کروا دی . اللہ تعالی نے پہلی شادی سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں. ممتاز راٹھور کے بیٹے راجہ مسعود ممتاز راٹھور سابق ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں.انیس سو پچھتر میں معمولی علالت کے باعث ان کی اہلیہ محترمہ وفات پاگئیں.
اس وقت سینئر وزارت کے منصب پر تھے سینئر وزارت کے دوران ہی انہوں نے دوسری شادی محترمہ فرحت راٹھور سے کی جو اس وقت ممبراسمبلی تھی. محترمہ فرحت راٹھور سے ممتاز راٹھور کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں. جن میں راجہ فیصل ممتاز راٹھور ہیں جو کہ سابق وزیر حکومت رہے ہیں اور اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری ہیں. فیصل راٹھور نے کافی حد تک گلدستہ راٹھور کی حفاظت کی.
سیاسی سفر
راجہ ممتاز حسین راٹھور آزاد کشمیر کے تیسرے وزیر اعظم تھے. وہ وزیراعظم 29 جون 1990 سے 5 جولائی 1991 ء تک رہے.طالب علم راہنما کے طور پر انہوں نے جموں و کشمیر نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن قائم کی. وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک وکیل بن گئے. 1970 میں انہوں نے مسلم کانفرنس کے امیدوار کے طور پر پہلی مرتبہ انتخاب میں حصہ لیا، اور اپر حویلی سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن بن گئے.
اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز پر انہوں نے بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شمولیت اختیار کی. 1975 میں وہ پی پی پی کے امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے اور خان عبدا الحمید خان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے سینئر وزیر بن گئے. اس کے بعد ان کے پاس فنانس، جنگلات اور ریونیو کی وزارتیں میں رہیں . انہوں نے پانچ بارمسلسل انتخابات جیتا.
انہوں نے وزیراعظم، قائم مقام صدر، اسپیکر، آزاد جموں اور کشمیر اسمبلی کے سینئر وزیر کے طور پر کام کیا. وہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید کے پیروکار تھا. 1990-1991 میں اپنی وزیراعظم کے دوران کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی جدوجہد کا آغاز کیا. انہوں نے تنازعات کے پرامن حل کے لئے بات کی. انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورموں پر اپنے خطاب کے دوران کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم پر بھارت کے خلاف آواز اٹھائی. ممتاز راٹھور پاکستان پیپلز پارٹی کے ان لیڈروں میں سے تھے جنہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پارٹی کے لئے قربانیاں دیں.
پارٹی کے ساتھ مکمل وابستہ رہے ہیں. انہوں نے جمہوریت کی تحریک میں بہت اہم کردار ادا کیا. ممتاز حسین راٹھور ایک انتہائی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے مرحوم راٹھور ایک اچھے مقرر تھے. جو حاضرین و سامعین کو بہت جلد اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے وہ نجی محفلوں کی رونق تھے قدرت نے انہیں خداداد صلاحیتوں سے بھی خوب نوازا تھا وہ خوش لباس خوش خلاق ہنس مکھ ا نسان تھے. بلاشبہ وہ کشمیریوں کے ہردلعزیز رہنما تھے.
16جون 1999 کا دن مجھے آج بھی یاد آتا ہے. اس وقت بھلے ہی میری عمر چھوٹی تھی لیکن مجھے وہ لمحات ابھی بھی یاد ہیں. ہمیں سکول میں گرمی کی چھٹیاں تھیں.اچانک کسی نے خبر دی کہ راجہ ممتاز حسین راٹھور اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں. یہ علم تھا کہ رات وہ محمود گلی ریسٹ ہاؤس میں تھے. مجھے سب یاد ہے کہ کچھ سمجھ بوجھ نا ہوتے ہوئے بھی میں نے اپنے گھر سے بازار کی طرف دوڑ لگا دی.جب بازار کی طرف جا رہا تھا تو میری ان آنکھوں نے ہر انسان کو دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھا.کربلا کا منظر تھا وہ ایسا لگ رہا تھا کہ جناب راٹھور کے دکھ میں یہ پہاڑ درخت غرض کہ پرندے بھی رو رہے ہیں. اس وقت سب لوگ سوگ میں تھے. تب اتنی عقل نہیں تھی آج سوچتا ہوں ایسا کیا دیا تھا ممتاز راٹھور نے ان لوگوں کو جو اس قدر والہانہ محبت کرتے تھے. جوب ملتا تھا کہ ممتاز راٹھور نے لوگوں میں پیار بانٹا تھا.لوگوں کے درد کو اپنا سمجھا تھا. اسی لیے دلوں پر راج کیا. میں بات کر رہا تھا ان لوگوں کی جن میں بچے جوان بزرگ خواتین شامل تھے ننگے پاؤں خواتین سر پر چادر اوڑھنا بھول گئ تھیں. بس انکی ایک ہی منزل تھی کہ ممتاز راٹھور کا آخری دیدار کر لیں. میں نے اپنی زندگی میں کسی انسان سے ایسی محبت پہلی مرتبہ دیکھی تھی. پورے آزاد کشمیر سے لوگ آپنے محبوب کا دیدار کرنے آ رہے تھے.
میں نے بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا جو کبھی گاڑی کے بغیر دو قدم نہیں جاتے تھے. وہ میلوں پیدل سفر کر کے آ رہے تھے. جو بندہ جناب راٹھور کا دیدار کر لیتا تھا وہ اپنے آپکو خوش قسمت سمجھتا تھا. بچہ ہونے کی وجہ سے میں بھی ممتاز راٹھور صاحب کے جنازے والی چارپائی کے قریب پہنچ گیا اور اپنے اپکو کو ان خوش نصیبوں میں شامل کر لیا. ممتاز واقعی ممتاز تھے. انکو رخصت ہوئے آج 21 سال گزر گئے ہیں لیکن انکے جانے کا دکھ آج بھی ویسا ہی ہے.وہ ایک درویش صفت انسان تھے. انکا کل اثاثہ انکے علاقے حویلی کے لوگ تھے. جن کے لیے انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی وزیراعظم ہاؤس کے دروازے کھول دیئے تھے. اور وہ تاریخی الفاظ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں کہ آج سے حویلی کا ہر فرد وزیراعظم ہے. انہوں نے کبھی برادری ازم کی بات نہیں کی. حویلی کے تمام قبائل کو ایک گلدستے کی صورت میں جوڑ کر رکھا.
بالآخر 16 جون 1999 ء کو محمود گلی حویلی کے ریسٹ ہاؤس میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے . وہ اپنی ماں سے بہت پیار کرتے تھے اسی وجہ سے انکو اپنی ماں کی قبر کے ساتھ ضلع حویلی کہوٹہ گاؤں پلنگی میں مدفون ہیں.16 جون کو ہر سال ان کی برسی منائی جاتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں