8,505

راولاکوٹ، نعمان خالق قتل کیس میں‌ بڑی پیش رفت، قریبی پڑوسی سلمان الطاف اور بہن نے قتل کا اعتراف کر لیا

راولاکوٹ (بیورورپورٹ) راولاکوٹ نعمان خالق کی بوری بند نعش کے کیس میں‌ بڑی پیش رفت، مقتول نوجوان نعمان خالق کے ورثاء کی طرف سے گرفتارکروائے گئے نوجوان اور اس کی بہن نے دوران تفتیش قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا.

پولیس ذرائع کے مطابق نواحی گاؤں پوٹھی بالا کے نوجوان نعمان خالق جس کی دوماہ بعد لاش نواحی علاقے ٹھنڈی کسی کے مقام سے ملی تھی ، اس لاش کے ملنے کے بعد ورثاء نے قریبی پڑوسی سلمان الطاف اور اسکے بھائی سمیت دیگر خاندان کو ملزم ٹھہراتے گرفتار کروایا تھا.

دوران تفتیش سلمان الطاف اور اسکی بہن (ح )کویہ اعتراف کرنے پر کہ نعمان خالق نے بلیک میلنگ کررکھی تھی اس پر تنگ ہوکر ان دونوں نے قتل کیا اس اعتراف کے بعد گھرانے کے سربراہ الطاف خان اس کی اہلیہ اور بہنوئی کو بے قصور اور بے گناہ ٹھہراتے ہوئے رہا کردیا گیا.

واضح‌رہے کہ پوٹھی بالا سے تعلق رکھنے والے نعمان خالق کی بوری بند لاش 6 دسمبر کو ٹھڈی کسی کے مقام پر سے برآمد ہوئی تھی جسے دو ماہ قبل گھر سے غائب ہو گیا تھا.

قتل کا واقعہ کب اور کیسے پیش آیا.

17 سالہ قاتل سلمان الطاف اور اسکی بہن مسماۃ ح نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول نعمان خالق نے سلمان الطاف کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بنا رکھیں‌تھیں‌جن کی بناء پر وہ انھیں‌بلیک میل کر رہا تھا، وقوع کے روز یعنی دو اکتوبر کو بھی نعمان خالق انکے گھر چلا گیا اور رات سلمان الطاف کے کمرے میں‌گزاری،
قاتل کے مطابق صبح نعمان خالق اسکی بہن کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا، قاتل کے مطابق مقتول نے نشہ کر رکھا تھا اور اسکا پستول بھی اسکے پاس ہی تھا.
روز روز کی بلیک میلنگ سے تنگ بہن بھائی نے اس کانٹے کو ہمیشہ کیلئے اپنی راہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور اسکے قتل کا پروگرام ترتیب دیا.
سلمان الطاف نے مقتول کو بہلا پھسلا کر دوسرے کمرے کی چھت پر بھیجا تا کہ اسکے پستول پر قبضہ کیا جا سکے. پستول پر قبضہ کرنے کے بعد اسنے نعمان کو نیچے بلایا اور خود سیڑھیوں‌کے پاس چھپ کر کھڑا ہو گیا. جیسے ہی مقتول سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا اسنے سلمان نے اسکے سر میں‌گولی مار دی جس سے نعمان خالق موقع پر جاں‌بحق ہو گیا.

17 سالہ قاتل کی دیدہ دلیری ملاحظہ ہو کہ اس نے قتل کرنے کے بعد بہن کو یورنیورسٹی چھوڑا اور رینٹ‌کی کار میں‌رات 12 یا 1 بجے لاش کو ٹھڈی کسی کے مقام پر کوڑے کرکٹ‌کے ڈھیر میں پھینک دیا جو 6 دسمبر کو کچرا چننے والے پٹھان بچوں‌کے ہاتھ لگی.

سارے کیس میں پولیس کا کردار کیا رہا.

اس سارے کیس کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پولیس محکمے کی ناکامی اور نا اہلی اور روائتی سستی کھل کر سامنے آتی ہے. دو ماہ پانچ دن تک کوئی کاروائی نہ کرنے والی پولیس نے لاش کی برآمدگی کے ایک ہفتے بعد ہی قتل کا معمہ سلجھا لیا، حالانکہ فرض کی بروقت ادائیگی ایک انسانی جان بچا سکتی تھی.

دوسری طرف سیاسی سماجی حلقوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جب لاش ملنے کے بعد متاثرہ خاندان کے کہنے پر گرفتاریاں کی گئیں اور انھی گرفتاریوں سے قتل سے انکشاف ہو اتو کیونکر دوماہ تک مقتول کے خاندان کی طرف سے روز روز تھانے میں حاضری کے باوجود انھی اعتراف کرنے والے ملزمان کے خلاف نامزدگی کے باوجود ایف آئی آر کیوں‌درج نہ کی گئی.
پولیس نے مقتول پارٹی سے رشوت کیوں لی؟ اس واقعہ میں ملوث ایس ایچ او اور تفتیشی آفیسر کو معطلی کا ڈرامہ رچا کر تبدیل کرنے کا کھیل کیوں کھیلا گیا .
ڈی آئی جی پولیس پونچھ چوہدری سجاد ایس ایس پی چوہدری امین دوماہ تک تمام صورت حال سے باخبر ہونے کے باوجود کیونکر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں