31

راولاکوٹ(محمد خورشید بیگ ) آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اجمل بلوچ

راولاکوٹ(محمد خورشید بیگ ) آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں تاجران کی پرامن ریلی میں فائرنگ کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کرتے ہوئے اصل ملزمان کو سامنے لایا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ، آل آزادکشمیر انجمن تاجران اور انجمن تاجران راولاکوٹ کے منتخب صدر سردار افتخار فیروز اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر فوری ختم کر کے انہیں رہا کیا جائے۔ بصورت دیگر پورے پاکستان اور آزادکشمیر کے تاجر سخت رد عمل دینے پر مجبور ہونگے۔ ایک لایعنی لاک ڈاﺅن، بجلی کی لوٹ شیڈنگ، جبری ٹیکسوں اور دیگر مسائل کے خلاف انجمن تاجران کی ایک پر امن ریلی پر حملہ کیا گیا، ویڈیوز موجود ہیں، جن میں سامنے نظر آرہا ہے کہ سڑک پر تصادم ہوا، فائرنگ ہوئی اور اس میں ایک شخص زخمی بھی ہوا لیکن ایک جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں کہا گیا کہ کسی دکان میں جا کر افتخار فیروز اور اسکے ساتھیوں نے فائرنگ کر کے مضروب کو زخمی کیا۔ ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمہ میں تاجروں کی قیادت کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری ایف آئی آر میں ملوث ملزمان کو تاحال گرفتار نہ کیا جانا بھی تشویش ناک ہے۔ تاجروں کو ایک سازش کے تحت لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تاجروں کو تقسیم نہیں ہونے دینگے، تاجروں کے درمیان پیدا ہوئی دوریاں اور اختلافات ختم کروائیں گے۔ تاہم پر امن احتجاج پر ہونیوالا حملہ کسی صورت قبول نہیں، اس حملے اور فائرنگ کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ وزیراعظم آزادکشمیر، آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری نوٹس لیں۔ وہ یہاں غازی ملت پریس کلب میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ انجمن تاجران راولپنڈی کے نائب صدر سردار ثاقب نسیم، فرنیچر ایسوسی ایشن کے صدر تاج عباسی کے علاوہ آل آزادکشمیر انجمن تاجران کے چیئرمین سردار افتخار زمان، سینئر نائب صدر و صدر انجمن تاجران کوٹلی ملک یعقوب، جنرل سیکرٹری انجمن تاجران کوٹلی انوار بیگ، مشتاق سدوزئی، خان قادر، مسعود بیگ، سادات ریاض، عابد اشفاق، قاضی کامران، ایاز عارف، ساجد حنیف، راجہ رحیم، جعفرعلی میر اور دیگر تاجر رہنما بھی موجود تھے۔ قبل ازیں شاہراہ غازی ملت پر آزادکشمیر انجمن تاجران اور انجمن تاجران راولاکوٹ کے عہدیداران نے مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ اور دیگر ساتھیوں کا استقبال کیا اور انہیں سیکڑوں گاڑیوں کے قافلے کے ہمراہ راولاکوٹ پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ جہاں انہوں نے سردار افتخار فیروز کی قیادت میں گرفتار رہنماﺅں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ غازی ملت پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر انکا مزید کہنا تھا کہ تاجر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ملکی معیشت کے تمام شعبہ جات بحران کا شکار ہیں، کوئی ادارہ منافع بخش نہیں ہے، لیکن اس سب کے باوجود تاجر ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ملکی معیشت کو چلا رہے ہیں۔ لیکن بدلے میں تاجروں کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ انکے جان و مال کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ کورونا وباءنے سب سے زیادہ تاجروں کو متاثر کیا لیکن حکومت نے ایک روپے کی مدد نہیں کی، اس کے باوجود لاک ڈاﺅن صرف تاجروں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ لاکھوں افراد پر مشتمل جلسے کئے جا رہے ہیں۔ وہاں کورونا وائرس کا خطرہ حکومت کو نظر نہیں آتا لیکن دکان میں بیٹھا تاجر کورونا وائرس کے خطرے کے طور پر نظر آتا ہے۔ پوری ملک میں ایک پالیسی چل رہی ہے۔ آزادکشمیر میں بھی اسی پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے۔ سکول اور کالجز چل سکتے ہیں، سیاسی اجتماعات ہو سکتے ہیں تو پھر شہر میں لاک ڈاﺅن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پاکستان میں کسی شہر میں کوئی لاک ڈاﺅن نہیں ہو رہا۔ شہر کھولنے اور بند کرنے کے اوقات کار طے کئے گئے ہیں۔ ایسا ہی اصول آزادکشمیر میں بھی اپنایا جائے۔ اس کے علاوہ کوئی طریقہ قابل قبول نہیں ہے۔ اگر حکومت نے یہ روش تبدیل نہ کی تو اس بار راولاکوٹ یا آزادکشمیر کے دس اضلاع میں شٹر ڈاﺅن نہیں ہو گا بلکہ پاکستان بھر میں تاجر سراپا احتجاج ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سردار افتخار فیروز تاجروں کا منتخب نمائندہ ہے۔ پورے کشمیر و پاکستان کے تاجر افتخار فیروز کے ساتھ ہیں۔ کسی ذاتی مسئلہ کی وجہ سے افتخار فیروز آج تھانے میں قید نہیں ہے بلکہ وہ تاجروں کے حقوق کی بازیابی کےلئے جدوجہد کرتے ہوئے جھوٹے مقدمہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہے۔ افتخار فیروز اور ساتھیوں کو انصاف دلانے کےلئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں