80

راولاکوٹ (ساجد محمود سے) حکومت آزادکشمیر سردار میر اکبر خان

راولاکوٹ (ساجد محمود سے) حکومت آزادکشمیر سردار میر اکبر خان کی طرف سے پانی کی سہولت دینے کا مطالبہ کرنے والی خواتین سے نامناسب رویہ اپنانے اور دھمکیاں دینے پر متحرک سیاسی و سماجی خواتین رہنما بھی سامنے آگئیں۔

سابق ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی میڈم شاہین کوثر ڈار۔ جنرل سیکرٹری مسلم لیگ خواتین ونگ الماس گردیزی ۔جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن نبیلہ ارشاد ایڈوکیٹ سدھن ایحوکیشن کانفرنس خواتین ونگ کی چئیرپرسن خدیجہ زرین . سابق چیرپرسن مسلم کانفرنس خواتین ونگ نائلہ گردیزی تحریک انصاف کی سینئیر رہنما شازیہ کیانی ایڈوکیٹ ، راہمنا جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(شاھین ) صدف فیض اور دیگر کی واقع کی بھرپور مذمت نمائدہ خصوصی روزنامہ تلافی سے گفتگو کرتے ہوئے خواتین راہنماؤں نے اسے افسوس ناک قرار دیا سابق ڈپٹی اسپیکر اسمبلی و مرکزی راہنما پاکستان پیپلزپارٹی شاھین کوثر ڈار نے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور وزارت کا قلمدان واپس لینے کا مطالبہ کیا وزیر جنگلات اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چئیرپرسن نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے اس واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر کو اپیل کی ہے کہ خواتین کی تضحیک کرنے پر وہ سردار میر اکبر خان سے وزارت کا قلمدان واپس لیں۔ انہوں نے کہا کے یہ سب واقعات تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں

چیئرپرسن سدھن ایجوکیشن کانفرنس خدیجہ زرین بھی واقع کی مذمت کی اور افسوس ناک قرار دیا
مسلم لیگ خواتین ونگ کی جنرل سیکرٹری الماس گردیزی نے واقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نا یا ہمارا پارٹی کا کلچر ہے نہ ریاست قیادت واقع کا نوٹس لے
مسلم کانفرنس کی سنئیر راہنما سابق چیرپرسن خواتین ونگ سیدہ نائلہ گردیزی نے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا سیاسی جماعتیں خواتین کا احترام کریں ہمارا مذہب بھی اسی کا درس دیتا ہے۔تحریک انصاف کی سینئیر رہنما شازیہ کیانی نے واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا مسلم لیگ نے پچھلے چار سال سے بری طرح اخلاقی قدروں کو پامال کیا ہے عوام ان کی اصلیت جان چکی
خواتین راہنماؤں کو مزید کہنا کہ خواتین نے ہمت کر کے وزیر حکومت کا راستہ اپنے بنیادی حق کیلیے روکا اور درخواست کی کہ وہ بہت دور سے سر پر پانی اٹھا کر لاتی ہیں لہذا انہیں گھروں کے قریب پانی مہیا کیا جائے لیکن سردار میر اکبر انکے ساتھیوں نے خواتین کا اہم مسلہ سننے اور حل کرنے کی یقین دہانی کی بجائے انکی تذلیل کی حبکہ اب اطلاعات ہیں کہ جس خاتون نے ہمت کر کے اس واقع کی ویڈیو بنائی اس کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جو انتہائی افسوس ناک ہے۔
لبریشن فرنٹ( شاھین ) کی راہنما صدف فیض نے بھی بھر پور مذمت کرتے ہوئے ہو واقعہ کو افسوس ناک قرار دیا

خواتین رہنماوں نے کہا کہ ان دھمکیوں پر سردار میر اکبر اور انکے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہئیے اور ان خواتین کا ساتھ عوامی سطح پر دیا جانا چاہیئے جنہوں نے ہمت کر کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیر حکومت سے سوالات اٹھائے اور ایسے کرداروں کو بے نقاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں