90

(سب کھیلتے ہیں غریبوں سے)

عوامی عدالت
(تحریر امجد فاروق)
قارٸین بڑے لمبے عرصے کے بعد آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہو رہا ہوں اصل میں اس دنیا کے اندر زندگی ایسی مشینی انداز میں گزرتی ہے کہ وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے ۔ اپنا کام تو میں کرتا رہا لیکن آپ کی نظر کوٸی تحریر نہ کر سکا ۔اب موضوع پر آتے ہیں غفورا بھی کہیں گم سا ہو گیا تھا مہنگاٸی نے ایسا رگڑا دیا غفورے کو کہ اُس کے پانچوں کیا سات طبق ہی روشن ہو گٸے میں نے گم رہنے کی وجہ پوچھی تو ہنس کر کہنا لگا صاحب اپنی سناٸیں کیسے گزر رہی ہے آج کل اتنی فرست کہاں دن بھر روزی روٹی کی تلاش مہنگاٸی ہے کہ کمر توڑ رہی جس پر غریبوں نے بھروسہ کیا تھا اُسے سمجھ ہی نہیں آتی کیا کرے اور کیا نہ کرے بس بانگیاں مارے جا رہا ہے اور بیوروکریسی اپنا کھیل کھیل رہی ہے کہ کہیں یہ خان نام کی شے سے جان چھوٹے کیونکہ ملک کو لوٹنے میں تو زیادہ کردار ان بیوروکریٹس کا ہوتا ہے ۔جعلی فاٸلیں تو یہ بناتے ہیں اور سو میں ستر روپے کرپشن کے ان کی جیبوں میں جاتے ہیں اور باقی تیس پرسنٹ سیاستدانوں کی اولادیں حرام خوری کرتی ہیں ۔ بلکہ آج کل تو ہوا خوری بھی ہونے لگی ہے ہم ایسے لمبڑ اور دقیانوسی جہاں میں رہتے ہیں جہاں اوپر دو روپے کی چیز مہنگی ہوتی ہے تو مارکیٹ میں بیٹھے ڈاکو راتوں رات مہنگاٸی مہنگاٸی کا رونا رو کر بیس روپے بڑھا لیتے ہیں اور ان کوٸی چیک اینڈ بیلینس نہیں بس اپنا حصہ وصول کیا تحفے طاٸف قبول کیے خود سستے ریٹ پر اولادوں کو پالا اور غریبوں کو جہنم میں جاٸیں کا ٹاٸٹل دے کر جان چھڑاٸی اور نیت یہ رکھی کہ مخلوق متنفر ہو اور اس خان سے جان چھڑاٸے کیونکہ خان باقی معاملات میں غلط ہو سکتا ہے لیکن ایک حقیقت ہے کہ وہ تجوری چور نہیں ہو سکتا ساری زندگی اس قوم کو لوٹنے والے ہی ہمیشہ اس قوم کے مسیحا رہے قوم لٹتی بھی رہی اور نعرے بھی لگاتی رہی اور خود کو تعلیم یافتہ بھی اور ذہنی ترقی والا بھی کہتے رہے قارٸین غفورا کہتا رہ اور میں سنتا رہا کیونکہ غفورے کی باتوں سے حقیقت جھلک رہی تھی اور سچ کہتا بھی کیوں نہ کیونکہ سب کام تو اس کے سامنے ہو رہے تھے ایک شہر میں آٹا آٹھ سو کا بیس قدم پر ہزار کا اور پچاس قدم پر بارا سو کا مرغی کا ریٹ ایک دوکان پر ایک سو اسی روپے دوسری پر دو سو تیسری پر اڑھاٸی سو اور کسی پر ڈیڑھ سو یہ سب تماشے جب سامنے ہوں اور پراٸیس کنٹرول کمیٹی خاموش ہو انجمن تاجران کے نماٸیندے مصلحت کا شکار ہوں تو پھر تو غفورے کے تندو تیز جملے کرپٹ لوگوں کے دلوں میں سوراخ تو کرینگے کل تک بوٹ بوٹ کی مخالفت اور نظریاتی نظریاتی سیاست کا راگ الاپنے والے اور اُن کے ساتھ سُر ملانے والے ووٹر سپورٹر کو جب یہ راگ تبدیل کر نا پڑا تو بجاٸے شرمندگی کے ڈھٹاٸی کے ساتھ اس بیانیے کو بھی عزت دینے میدان میں میں کود پڑے اس غلام اور زرخرید قوم کا حشر ایسا ہی ہونا چاٸیے جس قوم کو ہاتھوں کے اشاروں پر نچایا جاٸے وہاں مہنگاٸی بے حیاٸی ہی دیکھنے کو ملے گی قارین میں نے غفورے کو کہا کہ بس کرو بس کرو کس کو سنا رہے ہو جو کالے پاٸپ چارپاٸی کے نیچے رکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے حکمرانوں سے اپنا حصہ وصول کرلیا جو کچی سڑک پر گلے میں ہار ڈال کر مجرا کرتے ہیں جو صحت ک سہولتیں نہ ہونے پر بھی اپنے لیڈر کو تعمیرو ترقی کا ہیرو کہتے ہیں جو سڑکوں پر کمیشن لے کر اپنے بینک بیلینس بڑھانے والوں کو اپنا قاٸد مانتے ہیں جنھیں انصاف کے لیے صدیوں سے انتظار ہے اور ہر روز لاٸین میں لگ کر اگلی تاریخ کا انتظار کرتے ہیں جنھیں جب چاہا سرعام مہنگاٸی کر کے لوٹا جاتا ہو اور وہ اپنے مخالفین کو برا بھلا کہہ کر مہنگاٸی کرنے والے کو ڈیفنڈ کرتے ہیں اور مہنگاٸی شاید اُن کا بھاٸی ہی کیوں نہ کر رہا ہو اس اخلاق سے عاری قوم کا مستقبل کبھی تابناک نہیں ہو سکتا یہ روتی ہوٸی غلام چڑیا ہے نہ یہ احتجاج کو نکلے اور نہ ہی حاشیہ برداری سے باز آٸے یہ چوروں ڈاکووں کی محافظ قوم ہے جس کا جملہ ہے کرپشن کرنا سیاستدان کا حق ہے اسی لیے تو وہ ایم ایل بنا تھا اس قوم کو جگانا والا خود ذہنی مریض بن جاٸے گا جن کو کشمیر کے اندر ظلم ہوتا نظر نہ آٸے اور سوشل میڈیا پر لطیفے سناتے پھریں جو شعرو شاعری کے دلدادا ہوں کہاں یہ قوم اور اس پر ایماندار حکمران آٸے چوروں پر کبھی ایماندار نہیں بلکہ ڈاکو حکمرانی کرتٕے ہیں قارٸین سخت الفاظ استعمال کر رہا ہوں کہ شاید کو روشنی کی رمک باقی ہو اور وہ چنگاری جاگے جو اس نظام کو تہس نہیس کر دے اور کرپٹ لوگوں کی تعریفیں نہیں بلکہ چوکوں چوراہوں پر ان کے پوسٹر لگیں کہ نمبر ون چور نمبر ٹو چور پھر کہیں جا کر ہمیں بھی بنیادی سہولتیں مل سکتی ہیں ورنہ یہاں زبانی انقلابی اور سوشلسٹ نعروں کا کوٸی فاٸدہ نہیں ہو گا کوشش کروں گا اب اپنے قلم کو مسلسل استعمال میں لاوں اور اپنے حصے کی شمع جلاوں کیونکہ میں نے بھی کہیں جا کر کسی کے سامنے اپنا آپ پیش کرنا ہے اور اُس بارگاہ میں کہہ دینا ہے ہم تو جاگ رہے تھے مالک تیری یہ مخلوق کسی اور رازق سمجھ کر غلامی کی دلدل میں پھنس گٸی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں