42

سیراڑی قتل کیس میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔عوامی حلقے سراپا احتجاج

عباسپور(صائمہ بتول)گزشتہ دنوں یونین کونسل سیراڑی میں 14سالہ لڑکی کی پراسرار موت واقع ہوئی .جس کو لیکر عوام کے اندر غم وغصہ ہے .عوام اورسماجی حلقے اس کو قتل قرار دے رہے ہیں جبکہ ورثہ نے اسکو طبی موت قرار دیا ہے.عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ لڑکی کو اس کی بھاوج نے قتل کیا ہے اور معاملہ دبایا جا رہا ہے دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوامی حلقے آواز اٹھا رہے ہیں لیکن ہجیرہ انتظامیہ مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے تفصیلات کے مطابق تحصیل ہجیرہ کے گاوں دواڑیکوٹ سیراڑی میں میٹرک کی طالبہ کی پراسرار موت ہوئی۔ واقعہ ہجیرہ کی نواحی گاوں داڑیکوٹ میں پیش آیا۔ذرائع کے مطابق مقتول کے بھائی اور والد بھی حقائق کو چھپا رہے ہیں اور اسے طبعی موت قرار دے رہے ہیں.جبکہ عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ تبسم خادم مقتولہ کی بھابھی آئے روز اس ہ ظلم وستم جاری رکھے ہوئے تھی اور قتل کے روز بھی اسے مارا پیٹا گیا جسم پہ زخم کے نشانات بھی دیکھے گے جس کی تصدیق مقتولہ کو غسل دینے والی خواتین نے بھی کی ہے ورثا نے قتل کو چھپانے کے لیے پوسٹ مارٹم بھی نہیں ہونا دیا اور پولیس بھی لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیات جن میں صوبیدار نیاز احمد ۔صغیر خان ۔محمد مشتاق ۔الیاس کشمیری اور دیگر نے بھی اپنے ایک مشترکہ بیان میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آئی جی پولیس اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں سے اپیل کی ہے کہ وہ واقع کا نوٹس لے کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں تا کہ قاتل کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں