87

شہریوں کی جان کی حفاظت کیلئے جتنے بھی سخت اقداما ت اٹھانے پڑے اٹھائیں گے،وزیراعظم آزاد کشمیر

مظفر آباد (تلافی نیوز ) وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان کی حفاظت کیلئے جتنے بھی سخت اقداما ت اٹھانے پڑے اٹھائیں گے۔کرونا کے خطرناک مرض سے شہریوں کی جان بچانے کیلئے لاک ڈائون کا فیصلہ کیا اور پابندیا ں عائد کیں۔حکومت آزادکشمیر نے ریاست کے اندر کرونا کا پہلا مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد دیگر صوبوں سے پہلے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔
نئے تعمیر ہونے والے وزیراعظم ہائوس اور آفیسر کلب مظفرآباد کو قرنطینہ سینٹر کیلئے مختص کیا ،تینوں ڈویژنز میں کرونا ٹیسٹنگ لیب کا قیام اور آزادکشمیر میں37قرنطینہ سینٹرزقائم کیے گئے ہیں ۔ کرونا الرٹ آئی ٹی سینٹر قائم کیا گیا جس میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران آزادکشمیر آنے اور جانے والوں کا جملہ ڈیٹا مرتب کر لیا گیا ہے ۔
کرونا کمبیٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا۔
مزدور پیشہ اور دہاڑی دار افرادکیلئے کی خصوصی معاونت کررہے ہیں۔ ڈاکٹرز اور صحت کے دیگر ملازمین کو ایک ماہ کی بنیادی اضافی تنخواہ اور ذخیری اندوزی اور گراں فروشی سے نمٹنے کیلئے مجسٹریٹ تعینات کیے گئے ۔ لوکل گورنمنٹ کے تعاون سے گائوں کی سطح پر204 کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں جو باہر سے آنے والے افراد کاڈیٹا انتظامیہ کو مہیا کرینگی۔
آزادکشمیر ابھی تک کرونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اب تک چھ افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جن میں سے چار میرپور جبکہ 2بھمبر میں آئسولیشن وارڈز میں ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں5اگست سے جاری کرفیو فی الفور ختم کرے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ۔کرونا وائرس کے پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر سیاحوں پر پابندی اورخانہ بدوشوں پر سب سے پہلے پابندی حکومت آزادکشمیر نے لگائی۔
وزیر اعظم آزادکشمیرپیر کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ میںوزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر مصطفی بشیر، وزیر تعلیم بیرسٹر افتخا رگیلانی، معاون خصوصی راجہ امداد علی طارق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات مدحت شہزاد اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈا غلط قرار دیاہے ، حکومت آزادکشمیر پاک فوج سے ملکر اقدامات کررہی ہے ۔
وزیر اعظم نے ایل او سی پربھارتی گولہ باری اور فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے بھائی بیٹیوں اور بہنوں سے اظہار یکجہتی کرتاہوں ۔ بھارت مشکل وقت میں اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے۔ مقبوضہ کشمیر میں 14 ہزار بچے بھارتی قید میں ہیں انہیں گھر جانے دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہجیرہ کا ایک شخص لاہور میں کورونا سے جان بحق ہوا اس کے میت کو یہاں نہیں لایا گیا۔
ایک مریض پہلے سے کینسر کے مریض ہیں ایک خاتون عمر رسیدہ ہیں وہ ابھی سروائیو کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم سے استدعا ہے کہ احتساب والاکام زرا روک دیں۔ اس کے لیے بڑا وقت ہے میر شکیل الرحمان کو رہا کریں ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بعد ہم نے اقدامات اٹھائے ۔ اپوزیشن کی مثبت تجاویز پر عملددرآمد کرینگے۔
اس حوالہ سے علماء کرام نے بھی بہترین کردار ادا کیا اور عوام کو آگاہی فراہم کی۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے کسی بھی ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ یا قرنطینہ سینٹر قائم نہیں کیا بلکہ اس مقصد کیلئے الگ عمارات مختص کی گئی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو راولاکوٹ اور میرپور میں پری فیب آئسولیشن سینٹرز تجویز کیے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے کرونا سے نمٹنے کیلئے کرونا کمبیٹ فنڈ قائم کیا جس میں اب تک 9کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں ۔
کرونا کمبیٹ فنڈ میں وزراء، ایم ایل ایز و ملازمین کی تنخواہوں کی مد جمع کیے گئے ہیں۔ مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ کرونا کمبیٹ فنڈ میںدل کھول کر عطیات دیں ۔وزیر اعظم نے کہاکہ محکمہ صحت نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے بجٹ سے 15کروڑ روپے کی لاگت سے ہنگامی طور پر کام شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت فوری طور پرمقبوضہ کشمیر میں چودہ ہزار قیدیوں جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں کو رہا کرے ۔
انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر 19سال سے پولیو فری سٹیٹ ہے جس کا کریڈٹ محکمہ صحت کی انسداد پولیوٹیم کو جاتا ہے ۔ہم اسی ٹیم کے ساتھ کرونا کے خلاف بھی کام کررہے ہیں جس کے ساتھ انتظامیہ اور پولیس بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس کی ابھی تک کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی اس سے بچائو کا واحد طریقہ احتیاط اور سماجی روابط کو محدود کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اطلاعات راجہ مشتاق احمد منہاس اور وزیر سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی احمد رضاقادری پر مشتمل کمیٹی کشمیر ہائوس میں قائم سینٹر میں کام کررہی ہے جو آزادکشمیر کیلئے آنا والا امدادی سامان وصول کرکے آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں بھیجے گی۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ز اور قرنطینہ سینٹرز میں کام کرنے والوں کی صحت کی حفاظت اولین ترجیح ہے اس حوالہ سے حفاظتی کٹس تمام اضلاع کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ آزادکشمیر میں آٹا کا ذخیرہ موجود ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ میرپور ٹیسٹنگ لیب دو روز میں کام شروع کر دے گی جبکہ کوٹلی اور راولاکوٹ کی ٹیسٹنگ لیب کا سامان بھی جلد پہنچا دیا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں