2,671

قائد کشمیر کہلانے کا حق شیخ عبداللہ کو ہے، سردار خالد ابراہیم

راولاکوٹ(بیورو رپورٹ) جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سربراہ و ممبر قانون ساز اسمبلی خالد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ قائد کشمیر کہلانے کاحق شیخ عبداللہ کو ہے باقی سب لوگ مخصوص علاقوں تک محدود ہیں شیخ صاحب کے نظریات سے بھی اختلاف ہے خود مختار کشمیر بھی ایک نظریہ ہے مگر کسی پر کوئی نظریہ ٹھونسہ نہیں جا سکتا.

قائداعظم نے گیارہ اگست سیتالیس کو جو تقریر کی تھی وہی ہماری کشمیر پالیسی ہے فاروق حیدر نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں ایک اچھا کام کیا تھا کہ اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو گھر بیج دیا تھا اب کی بار وہ ایک کام کر دیں کہ آزاد کشمیر اسمبلی توڑ دیں تاکہ پاکستان سے پہلے یہاں الیکشن ہوں لوگ مرضی سے نمائیندے منتخب کریں پاکستان میں پہلے الیکشن ہونے سے یہاں کے لوگ بھی وہاں کی حکومتی پارٹی کو کامیاب کر دیتے ہیں خود مجھے ااپنی پارٹی کے ٹکٹ پر لوگوں نے سات ہزار ووٹ دیئے نواز شریف کا اتحادی ہوا تو چوبیس ہزار دیئے

فاروق حیدر کی طرف سے آئینی ترامیم پر عمل درآمد کا دعوی مشکل لگتا ہے اسمبلی توڑ دیں یہ بڑا کام ہو گا آزاد کشمیر میں متناسب نمائیندگی کی طرز پر انتخابات ناگزیر ہیں

ان خیالات کا اظہار جے کے پی پی ، ضلع پونچھ کے کنونشن میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے کیا اس کنونشن میں سیاب شریف نے ضلعی صدر کے انتخاب میں عامر رفیق کو۴۲ کے مقابل ۵۲ سے ہرا یا کنونشن سے سیاب شریف ،عامر رفیق ،عزت بیگ خان افتخار، خالد محمود ،خادم طائر عارف خان آصف گیلانی ،ثاقب نعیم نیاز رضا ،ماسٹر فاروق ،ایڈوکیٹ امین سجاد خان ایڈوکیٹ طارق اسحاق ،ارشد غازی ،عاشق خان ،رزیق ایڈوکیٹ ،نے خطاب کیا جبکہ دلفراز خان عرف ماواں نے سیاب شریف کو مبارک دی

دریں اثناء ایک تقریب سے خطاب کرتے خالد ابراہیم خان نے کہا کہ ، اقوام متحدہ میں شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کی حکومت کی نمائندگی کی تھی جبکہ ابراہیم خان نے کہا تھا کہ میں آزاد حکومت کا صدر ہوں، کشمیریوں کی نمائندگی کرتا ہوں، بیس ہزار کی فوج کھڑی کر چکا ہوں، بیس ہزار کی مزید فوج تیار کر رہا ہوں، میری حکومت کو آئینی حکومت تسلیم کیا جائے کشمیر کی تحریک مذہبی تحریک نہیں تھی بلکہ حق خودارادیت کی تحریک ہے جو دہرے ٹیکسوں کے نفاذ اور ظلم و جبر کیخلاف شروع کی گئی تھی، ہم بھی تمام کشمیریوں کے حق خودارادیت کی لڑائی لڑ رہے ہیں، کسی خاص مذہب کے لوگوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے،

چوبیس اکتوبر1947ء کی حکومت انقلابی حکومت تھی جو اب جمہوری تحریک بن گئی ہے، جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے، غیر مشروط ووٹ کا حق ہونا چاہیے، محدود حق کے ہم حامی نہیں ہیں، ہماری تحریک اتحاد و اتفاق کی بھی نہیں بلکہ اختلاف کی تحریک ہے، ایک نظریے پر بات کرنے سے ہم بنیادی اساس سے محروم ہو جائینگے،شیخ عبداللہ برصغیر کا بڑا لیڈر تھا اس سے ہم نے اختلاف کیا، تاریخ پر کام ریسرچ سکالرز کرتے ہیں، غیر جانبدار تاریخ دانوں خاص کر مغرب کے ریسرچ سکالرز اور تاریخ دانوں کی تحقیقات پر مبنی تاریخ لکھی ہوئی ہے، یہ کہنا قطعاً مناسب نہیں کہ ہماری تاریخ مرتب نہیں ہوئی، ہم جو تاریخ خود مرتب کرینگے وہ تعصب پر مبنی ہو گی، کرسٹوفر سنیٹنگ، کی تصنیف ان ٹولڈ سٹوری آف پیپل آف آزادکشمیر میں واضح طور پر تحریر کیا گیا ہے کہ آزادکشمیر کی تحریک پونچھ کے لوگوں نے خود شروع کی تھی، اس پر قبائلی لیبل لگایا گیا، دو الگ الگ ٹیکسوں کا نفاذ اس تحریک کی بنیاد بنا، انکی اس تصنیف کی بنیاد غازی ملت سردار ابراہیم خان کا ایک انٹرویو بنااس کے علاوہ کرسٹوفر لیمب ، پیٹرک فنچ سمیت دیگر تاریخ دانوں نے ہماری تاریخ کو بہترین انداز میں مرتب کررکھا ہے، ر، خالد ابراہیم خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ چوبیس اکتوبر کی حکومت سترہ اکتوبر کو بننے والی حکومت کی تشکیل نو تھی، سردار محمد ابراہیم خان، سردار عبدالقیوم خان اور کے ایچ خورشید کی زندگیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، ہمیں انکی تقلید کرنی چاہیے،

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کو کشمیریوں پر اعتماد تھا، انہوں نے کبھی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار نہیں دیا، غازی ملت ابراہیم خان نے کبھی اقوام متحدہ میں خطاب نہیں کیا، اقوام متحدہ میں شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کی حکومت کی نمائندگی کی تھی جبکہ ابراہیم خان نے کہا تھا کہ میں آزاد حکومت کا صدر ہوں، کشمیریوں کی نمائندگی کرتا ہوں، بیس ہزار کی فوج کھڑی کر چکا ہوں، بیس ہزار کی مزید فوج تیار کر رہا ہوں، میری حکومت کو آئینی حکومت تسلیم کیا جائے ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں