120

مادر آف پکھر

“مادر آف پکھر”
مارچ 1993ء کی بات ھے۔میرا ٹرانسفر راولاکوٹ سے بطور سینئر ٹیچر گرلز ہائی سکول بن بہک ھوا۔نئے لوگ تھے نیا ادارہ تھا۔کچھ تھوڑا مشکل لگا۔اور خود کو اجنبی فضاوْں میں محسوس کیا۔ ایسا لگا کہ ایڈجسٹ ھونے میں ٹائم لگے گا۔سکول جاتے ھوئے دوسرا یا تیسرا دن تھا۔ایک بہت ھی نفیس اور شفیق سی خاتون کو سکول کی بلڈنگ سے تھوڑا فاصلے پہ درخت کی چھاوْں میں بیٹھے کلاس لیتے پایا۔۔اُن کی شخصیت میں کوئی ایسی کشش تھی کہ میں نہ چاہتے ھوئے بھی اُن کے پاس کلاس میں اُن سے ملنے چلی گئی۔اُن سے سلام کیا اور اپنا تعارف بھی کروایا۔اُن کے چہرے پہ مشفقانہ سی مسکراہٹ آئی اور مجھے خوش آمدید کہا۔اور یہ یقین دھانی کروائی کہ انشاءاللّہ آپ کو یہاں کوئی مسْلہ نہیں ھو گا۔یہ میری اُن سے پہلی ملاقات تھی۔بعد کہ چھ سالوں کی قربت نے یہ باور کروایا کہ میم منظور انتہائی ملنسار، مہان نواز اور شفیق خاتون ھیں۔
چھ سال کے دوران میں میں نے اُن کو ہمیشہ اپنی کلاس میں ھی پایہ۔حتیٰ کہ بریک میں بھی وہ سٹاف روم میں نہ آتیں۔اتنی پروفیشنل تھیں کہ اُن کی اس انتھک محنت اور لگن پہ رشک آتا تھا۔
جب بھی اُن سے ملنے کا دل چاہا اُن کے پاس بیٹھنے کا من چاہا ۔اُن کے پاس کیکر کے درخت کی چھاوْں میں جا کہ بیٹھے۔اُن سے ہمیشہ سیکھنے کو ملا۔وہ صحت کے حوالے سے زیادہ ٹھیک نہیں تھیں۔اُن کو گنٹھیا تھا۔اُس عرصے میں ھی اُن کو یہ بیماری لاحق ھوئی تھیں ۔تھوڑا چلنے میں مشکل ھوتی تو اسی لیے بس اپنی کلاس تک ھی محدود رہتیں تھیں۔ھم سارے لوگ ھی اکثر فارغ اوقات میں اُن کے پاس جا کہ بیٹھ جاتے۔اُن سے اُن کی بلند ہمتی کی باتیں سنتے۔وہ ہمیں بتاتیں کہ کس طرح کس مشکل سے بچوں کو لے کہ پیدل سکول جاتیں رہیں ھیں۔
تب کے سالوں میں میرے بیٹے بھی بہت چھوٹے تھے۔میں اکثر اُن کو ساتھ لے جاتی تو مجھے مشکل میں دیکھ کہ میری حوصلہ افزائی کرتیں ۔اور یہ کہہ کہ میرا حوصلہ بڑھاتیں کہ”مس نسیم یہ وقت بھی گزر جائے گا۔بچے کب بڑے ھوجاتے ہیں پتہ ھی نہیں چلتا۔”اور پھر واقعی میں پتہ ھی نہیں چلا کہ کب اور کیسے وہ وقت گزر گیا۔۔اُن کی کہی ھوئی باتیں ھمارے لیے ایک حوصلہ اور عزم لیے ھوئے تھیں۔
وہ بہت مہمان نواز تھیں۔بہت خالص ،سچی اور ھمدرد خاتون تھیں پورے سٹاف کی سال میں دو دفعہ دعوت بناتیں۔اُن کی دعوت اتنی شاندار اور پُرخلوص ھوتیں۔کہ آج اتنے سالوں بعد بھی اُن کے خلوص اور چاہت کی خوشبو آئے۔
کچھ عرصے بعد میرا ٹرانسفر ھو گیا۔لیکن اس کے بعد بھی اُن سے رابطہ بدستور رہا۔صحت اُن کی جب زیادہ خراب ھو گئی تو اُنہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی۔۔اُن کی اپنے علاقے کے تعلیمی خدمات لازوال ہیں۔اپنے علاقے کی نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراہستہ کرنے والی پہلی خاتون ھیں۔پکھر ویلفئیر ایسوسی ایشن نے اس عظیم خاتون کو ان کی لازوال تعلیمی خدمات کے اعتراف میں” مادر آف پکھر ” کا خطاب دیا ھے۔۔یہ عظیم خاتون گھنٹھیا کے مرض میں ایک لمبے عرصے تک مبتلا رہیں ھیں۔اور اب کچھ عرصے سے کینسر جیسے موزی مرض کا بھی شکار رھیں ھیں۔اورطویل ترین علالت کے بعد آج مورخہ 27 اپریل 2021ء کو بعد نماز عصر رمضان کے مقدس ترین ماہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔اللّہ پاک اپنے اس مہمان کو اس مقدس ماہ کے صدقے میں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا کرے۔آمین ثمہ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں