54

محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت

مظفرآباد(عبدالحکیم کشمیری)محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت،کھائی گلہ تولی پیر لسڈنہ 30کلومیٹر روڈ تصریحات کے مغائر بدوں منظوری بالا اتھارٹی قومی خزانے کو 24کروڑ 80لاکھ روپے کی پھکی لگانے کی کوشش۔72کروڑ کے منصوبے کی لاگت 96کروڑ 92لاکھ تک پہنچانے کیلئے وزیر تعمیرات عامہ اور ٹھیکیدار مختار عباسی کا کرپشن پر جائنٹ وینچر عوام علاقہ کے احتجاج کے بعد بے نقاب ۔ایک بڑا منصوبہ جو حکومت کی نیک نامی کا باعث بننا تھا وزیر تعمیرات عامہ کی مال بنائو مہم کی وجہ سے بدنامی کا باعث بنا ۔ٹھیکدار مختار عباسی نے 18فٹ سڑک متعلقہ فورم کی منظوری کے بغیر 24فٹ تعمیر کرنا شروع کر دی۔آزادکشمیر کی تاریخ کے دلچسپ سکینڈل ،طارق محمود شعلہ ایڈوائزر ایم اینڈ ڈی محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور کمشنر پونچھ ڈویژن مسعود الرحمان پر مشتمل دو رکنی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔رپورٹ کے مطابق کھائی گلہ،تولی پیر،لسڈنہ 30کلو میٹر روڈ کے منصوبہ کی ابتدائی منظوری مبلغ 61کروڑ 42لاکھ 13ہزار روپے کی منظوری آزادکشمیر کابینہ ترقیاتی کمیٹی کے اجلاس منعقدہ مورخہ 2اپریل 2019 کو ہوئی۔منصوبہ کا مجوزہ نظر ثانی پی سی ون مورخہ 18اگست 2020محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں دفتر چیف انجینئر شاہرات نارتھ کی جانب سے موصول ہوا۔تاہم سیکرٹری ورکس کی جانب سے سکیم کی نظر ثانی کی تحریک ریکارڈ کا حصہ نہیں۔ پرنسپل اکاؤنٹنگ افیسر کی رضا مندی کے بغیر منصوبہ کی مجوزہ نظر ثانی لاگت مبلغ 96کروڑ 92لاکھ 37ہزار روپے کر دی گئی۔طارق شعلہ اور مسعود الرحمان پر مشتمل کمیٹی نے جملہ ریکارڈ صورت موقع اور آفیسران و اہلکارا ن اور نمائندہ فرم کے بیانات کا تنقیدی جائز ہ لیا جس کی روشنی میں سفارشات مرتب کر کے حکومت کو رپورٹ پیش کی۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ یا ٹھیکیدار نے منظور شدہ منصوبہ کے ورک آرڈر کے مطابق Earthwork Cross Sectionکمیٹی کو پیش نہیں کیں اور نہ ہی ٹھیکیدار یا محکمہ نے اس سلسلہ میں کوئی ثبوت پیش کیا کہ منظورشدہ Cross sectionکے مطابق ارتھ ورک کیا گیا یا نہیں۔انکوائری کمیٹی نے RD.No 145پر چیف انجینئر شاہرات،ایکسیئن شاہرات راولاکوٹ اور نمائندہ ٹھیکیدار کی موجودگی میں سب انجینئرایاز کے ہاتھ میں موجود ارتھ ورک کی کراس سیکشن کے مطابق موقع پر نشاندہی طلب کی جب کمیٹی نے متعلقہ بک کا ریکارڈ ملاحظہ کیا تو سب انجینئر سے حاصل کی گئی کراس سکیشن بکس نظر ثانی پی سی ون کے مطابق تھی اور ٹھیکیدار اس کے مطابق موقع پر کام کرتا پایا گیا۔بعد ازاں ایس ڈی او،ایکسین اور نمائندہ ٹھیکیدار نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کراس سیکشن بک کے مطابق ہی کام ہو رہا ہے تاہم اس کراس سیکشن بک کی ملکیت محکمہ اپنے حق میں اور ٹھیکیدار اپنے حق میں بیان کرتا رہا۔موقع سے ضبط کی گئی کراس سیکشن بک کا موازنہ محکمہ پی اینڈ ڈی میں موجود منظور شدہ کراس سیکشن سے کیا گیا تو اس میں واضح تضاد پایا گیا۔جس سے یہ ثابت ہوا محکمہ شاہرات موقع پر مجوزہ نظر ثانی سکیم کے مطابق کام کروا رہا ہے اور آفیسران محکمہ شاہرات کے زائد ازسکوپ کام سے لاعلمی اور لاتعلقی کا موقف درست نہیں ہے۔محکمہ کا یہ موقف کہ ٹھیکیدارنے محکمانہ ہدایات کے منافی ازخود اضافی کام کیا اس لئے بھی درست نہیں پایا گیا کہ نظرثانی پی سی ون مرتب کرنے کے بعد محکمانہ نمائندگان نے موقع پر محکمہ جنگلات کو درخت مارک کرنے کیلئے 28-30فٹ چوڑائی کیلئے نشاندہی کی۔اس سلسلہ میں ناظم شاہرات کا مکتوب محررہ 22-6-2020واضح ثبوت کے طور پر شامل ہے نیز ایکسیئن متعلقہ نے بھی سڑک پر تیزی سے کام جاری رکھنے کے احکامات دئیے ہوئے ہیں لہذ ا محکمانہ معاونت و ویزبیلٹی ثابت ہے۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی مانیٹرنگ ٹیم نے مورخہ 3اکتوبر 2020کو منصوبہ کا معائنہ کیا جس کے بعد ایکسیئن شاہرات نے ٹھیکیدار کو زائد از سکوپ کام نہ کرنے کی تحریری ہدایت کی اس سے قبل محکمہ کی جانب سے ٹھیکیدار کو منع کرنا بیان تو ہوا لیکن زائد ازسکوپ کام کو روکنے کیلئے کوئی موثر اقدام نہ کیا گیا اور ٹھیکیدار کی جانب سے ورک آرڈر کی وائلیشن کے باوجود محکمہ اندر سکوپ ادائیگی کرتا رہا۔لہذا محکمہ کے آفیسرا ن و اہلکاران ذمہ داری سے مبرا نہیں ہیں ۔موقع ملاحظہ ریکارڈ و نمائندہ ٹھیکیدا ر کے بیان سے واضح ہے کہ فرم نے انتہائی دیدہ دلیری سے ورک آرڈر کے مغائر نہ صرف کام کیا بلکہ موقع پر کیے گئے تمام کام کی ذمہ داری قبول کی اور باوجود عدم دستیابی نثر ثانی معاہدہ ورک آرڈر تاریخ موقع پر موبیلائز پایا گیا اور اضافی کام کرنے پربضد ہے۔نمائندہ ٹھیکیدارنے اپنے بیان میں تمام ذمہ داری وزیر تعمیرات عامہ اور محکمہ پر منتقل کرنے کی کوشش کی ٹھیکیدار کو تحت قواعد ورک آرڈر تحریری شکل میں دیا جاتا ہے جس کے مغائر کسی نئے تحریری حکم یا منظوری کی صورت میں ہی کیا جا سکتا ہے۔لہذا ٹھیکیدار پر ریکارڈ شدہ بیان اور موقع پر کیے گئے کام کی روشنی میں صریحاً خلاف ورزی ثابت ہے۔حکومت نے عوام علاقہ اور سیاحوں کی سہولت و دفاعی ضروریات کے پیش نظر 72کروڑ روپے کی خطیر رقم کا منصوبہ منظور کیا جس کے باعث حکومتی نیک نامی میں اضافہ ہونا چاہئیے تھا لیکن محکمہ کے افیسران کی طرف سے بد انتظامی اور ٹھیکیدار کی جانب سے غیر ذمہ داران طور پر قبل ازمنظوری نظرثانی سکیم موقع پر منظور شدہ سکوپ سے زائد اضافی کام کرنے کے باعث عوام کی توقع بڑھی اور انہوں نے حکومت کا شکریہ ا دا کرنے کے بجائے احتجاجی تحریک شروع کر دی جس کے ذمہ دار ٹھیکیدار اورمحکمہ ہیں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ محکمہ منصوبہ و ترقیات کی جانب سے 31اگست 2020کو وزیر اعظم نے منظوری پر نظر ثانی کیے جانے کی تجویز پر وزیر اعظم نے 11ستمبر 2020اتفاق نہیں فرمایا۔منصوبہ کا نظرثانی پی سی ون مالیتی 969.237ملین روپے براہ راست دفتر چیف انجینئر کی جانب سے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو مورخہ 18اگست2020کو ارسال کیا۔نظرثانی پی سی ون اور منظور شدہ پی سی ون کی لاگت میں 248.000ملین روپے کے واضح فرق اور ضلع پونچھ کے C&W Sectorمیں منظور شدہ منصوبہ جات کے پانچ سال زائد تھرو فاروڈ کی وجہ سے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی ایک ٹیم نے نظرثانی پی سی ون کو موقع کے مطابق ویریفائی کرنے کیلئے 3اکتوبر 2020کو منصوبہ کا دورہ کیااس وقت موقع پر منظور شدہ سکوپ کے بجائے نظرثانی سکیم کے تحت کام جاری تھا وزیر اعظم کے اعلان وزیر تعمیرات عامہ کے مسلسل دوروں اور یقین دہانی اور محکمہ کی جانب سے ٹھیکیدار پر موثر کنٹرول نہ ہونے کے باعث سڑک کے مجوزہ نظر ثانی منصوبہ کے مطابق کشادگی کا کام جاری رہا جس کے باعث عوام علاقہ کی اس امید اور توقع کو جلا ملی کہ نثر ثانی سکیم کے مطابق روڈ کی کشادگی ہوگی اور منصوبہ منظور ہوگا عوام علاقہ میں نظر ثانی سکیم منظور نہ ہونے کا تاثر پیدا کیا گیا جس کے باعث امن عامہ کی صورتحال پیدا ہوئی اور اس وقت بھی درپیش ہے جس کا حکومتی نیک نامی کی خاطر تدارک ضروری ہے۔ کمیٹی کی صرف سے مرتب کردہ سفارشات کے مطابق ورک آرڈر معاہدہ کے مغائر موقع پر کشادگی،سولنگ کا کام کرنے اور جاری رکھنے کے باعث ٹھیکیدار،فرم نہ صرف ورک آرڈر کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی بلکہ بدوں منظوری کام کے باعث عوام کی توقعات میں اضافہ کر کے حکومت کیلئے امن عامہ کا مسئلہ پیدا کیا لہذا متذکرہ فرم کے خلاف محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات کو تحت قواعد کارروائی کے احکامات صادر کیے جائیں تاکہ ڈویلپمنٹ سیکٹر کا مالی و انتظامی نظم و ضبط بحال رہ سکے۔محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات ترقیاتی بجٹ کا خطیر حصہ خرچ کرنے کا ذمہ دار ہے منصوبہ متذکرہ میں متعلقہ آفیسران نے تحت قانون ٹھیکیدار سے کام کروانے کے بجائے دوعملی کا مظاہرہ کیا۔تمام واقعات کا جائزہ لینے سے محکمہ شاہرات پونچھ سرکل،ڈویژن کی ضعیف العملی اور The Poorest Level of Governanceکا اظہار ہوا جس میں ٹھیکیدار محکمہ پر حاوی پایا گیا لہذا فرائض منصبی کی موثر طریقہ سے انجام دہی نہ کرنے اور منصوبہ پر منظور شدہ سکوپ کے مطابق عملدرآمد کروانے کیلئے ضروری اقدامات سے پہلو تہی Ommissionکرنے والے متعلقہ آفیسران،اہلکاران کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے۔موقع پر تیس کلو میٹر کے اندر تقریباً 12کلو میٹر لمبائی میں کشادگی کا کام ہونے کے باعث توقعات Raiseہو چکی ہیں جن کو متعلقہ سطح پر ملحوظ رکھنا اور مینج کیا جانا ضروری ہے۔انتظامی،سیاحتی و دفاعی اہمیت اور بین الاضلاعی رابطہ سڑک ہونے کے پیش نظر محکمہ شاہرات کی جانب سے تحت قواعد مرتب کردہ نظرثانی پی سی ون کو مجاز فورم پر بہرصورت زیر غور لایا جائے او ر متعلقہ ضلع کے تھرو فاروڈ اور مالی وسائل کی دستیابی کے تناظر میں متذکرہ منصوبہ کی Phased Mannerمیں تکمیل کیلئے مجاز فورم کو فیصلہ کی تحریک کی جائے۔ترقیاتی منصوبہ جات کی دوران تعمیر موثر مانیٹرنگ اور عملدرآمد کیلئے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ سطح پر ضلعی انتظامیہ اور ترقیاتی محکمہ جات کے آفیسران پر مشتمل قائم کمیٹیز کو موثر اور فعال بنانے کے احکامات صادر فرمائے جائیں تاکہ اس نوع کے مسائل باعث حکومتی نیک نامی متاثر نہ ہو۔ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا انحصار حکومتی مجبوریوں کے تابع ہے تاہم آزادکشمیر کی تاریخ کا یہ ایک ایسا دلچسپ اسکینڈل ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی ۔آزادکشمیر میں ٹھیکیدار عموماً تصریحات سے کم کام کر کے پیسے بچاتے ہیں اس منصوبے میں ٹھیکیدار نے تصریحات سے زیادہ کام کیا۔18فٹ کی سڑک کو 24فٹ تک کر دیا ۔ٹھیکیدار مختار عباسی کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ محکمہ شاہرات اس کی گود میں ہوتا ہے اور وہ محکمہ کے آفیسران کو خوش رکھنا اس کا واحد کاروباری سیکرٹ ہے جو اس کی کامیابی کا ضامن ہے کیا ہر دور کے وزیر تعمیرات عامہ شاہرات سے اس طرح کے بڑے ٹھیکوں میں پارٹنرشپ کرنا اور یوں ہی منصوبوں کی لاگت بڑھا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا رہا ؟ آزادکشمیر میں احتساب کا عمل نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے عناصر کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ۔ کیا پروگریسیو ٹیکنیکل ایسوسی ایٹ کے مالک مختار عباسی کو ماضی میں جو ٹھیکے دئیے گئے ان کی لاگت میں کس حد تک اضافہ ہوا اور اس میں کون کون شامل رہا اس پر کوئی انکوائری کمیشن بنے گا اور بالخصوص وزیر تعمیرات عامہ چوہدری عزیز نے جس طرح تعمیرات عامہ کےآفیسران سے مل کر 24کروڑ روپے کرپشن کرنے کی کوشش کی کیا اس پر کوئی کارروائی ہوگی یا ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی ارباب اختیار کی مصلحت کا شکار ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں