68

مسلہ  جموں کشمیر بین الاقوامی تناظر میں

تحریر سردار عامر ایڈوکیٹ

کشمیر دیکھنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ مسلہ ہے کیا؟ ۔ عام طور پر جو وہاں کے بسنے والوں کی سوچ یہ ہے کہ جموں کشمیر کا مسلہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نا کوئی مذہبی مسلہ ہے نا کوئی سرحدی مسلہ ، بلکہ یہ وہاں پر بسنے والے تقریباً دو کروڑ کشمیریوں کی آذادی کا مسلہ ہے أن کی شناخت کا مسلہ ہے ، أن کی خوشحالی کا مسلہ ہے اور أن کے وسائل پر أن کے اختیارات کا مسلہ ہے ۔
لیکن ہندوستان اور پاکستان نے ہر فورم پر اس مسلے کو بین الاقوامی طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ مسلہ سرحدی اور مذہبی ہے ۔ اس سوچ کو لے کر ان کو کافی پزیرائی بھی ملی ہے کیوں کہ معاہدہ تاشقند اور شملہ معاہدہ کے بعد دونوں ملکوں نے اس مسلے کو ہندوستان اور پاکستان کا اندرونی مسلہ قرار دیا اور جو اس کیس کے بنیادی فریق تھے أن کو اس مسلے سے ہی نکال دیا ۔

پاکستان نے پہلے ہی معاہدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا تھااور ۷۰ کی دہائی میں جو سٹیٹ سبجیکٹ رول ( ریاست جموں وکشمیرکے باشندوں کے علاوہ کوئی بھی وہاں زمین نہیں خرید سکتا) تھا اسے بھی ختم کر دیا تھا ۔
جس کی دیکھا دیکھی میں ہندوستان نے ۵ اگست ۲۰۱۹ کو طاقت کے زور پر اپنے زیر کنڑول جموں کشمیر سے ۳۵ اے اور ۳۷۰ کا خاتمہ کر کہ وہاں کرفیو لگا دیا جس کو آج تقریباً پانچ ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے ۔

اس وقت عام شہری سے لے کر مختلیف سوچ رکھنے والی جماعتوں کے کارکن اور قائدین کو نظربند اور مختلیف جیلوں میں منتقل کیا ہوا ہے ۔ وہاں یسین ملک جو لبریشن فرنٹ کے چئیرمین ہیں جن کا سیاسی ایمان یہ ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے حامی اور جدوجہد کے عمل میں ہیں أن کو بدنام ذمانہ تہاڑ جیل جہاں اس سوچ کے بانی مقبول بٹ شہید کو اس جرم کی سزا میں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا تھا قید کر کےرکھا ہوا ہے اور وہ وہاں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر کو اس وقت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جیل میں منتقل کیا ہوا ہے ۔ وہاں کے لوگ بنیادی سہولتوں ، کھانا ،تعلیم، صحت سے محروم ہیں ۔
وہاں کے محنت کش طبقے کی فصلوں سے لے کر جو چھوٹے صنعت کاری کے کارخانے تھے سب فاشسٹ مودی سرکار نے تباہ و برباد کر دیے ہیں ۔ وہاں بالخصوص نوجوانوں اور بچوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور عورتوں کی عصمت داری کی جارہی ہے ۔ آر ایس ایس کے گھنڈے دندناتے پھر رہے ہیں ۔
کہا یہ جاتا ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج ہے ۔ دنیا کے حالات سے باخبر رہنا اب کوئی مشکل کام نہیں ۔سب کحچھ معلوم ہونے کے باوجود بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں ، انسانی حقوق کے چیمپین ملک خاموش کیوں؟ اس کی وجوہات جانے بغیر اس مسلے کا حل نہیں نکل سکتا ۔
جب میں اس مسلے کو بین الاقوامی تناظر میں دیکھتا ہوں تو مجھے سمجھ میں آتا ہے کہ اب صرف ہندوستان اور پاکستان کے مفادات ہی اس مسلےکے ساتھ نہیں جوڑے ہوے بلکہ بین الاقوامی سامراجی قوتوں کے مفادات بھی اس مسلے کے ساتھ جوڑے ہوے ہیں۔

اس کے لیے میں ایک لکھاری Arundhati Roy کے ایک مشہور قول “Once weapons were manufactured to fight wars, now wars are manufactured to sell weapons” ۔کا سہارا لے کے آگے بڑھوں گا ۔ اس سٹیٹمنٹ کا مکمل اطلاق ریاست جموں وکشمیر پر ہوتا ہے ۔ اب اسلحہ تیار کرنے والے ملکوں کے مفاد میں ہے کہ چھوٹے ملک جو پہلے معاشی طور پر کمزور ہیں ان کے آپس میں جنگیں پیدا کی جائیں تاکہ وہ اپنا اسلحہ بیچ سکیں ۔ ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا اس خوف ناک سرمایہ دارانہ دور کے اندر جہاں ایک ملک اپنے سے کم معاشی مضبوط ملک کا استحصال کرتا ہے وہاں ہم کشمیری بھی اسلحے کی ٹیسٹ ٹیوب لیبارٹری میں ایندھن بن رہے ہیں ۔
ہندوستان اور پاکستان میں دشمنی کی واحد وجہ ریاست جموں وکشمیر ہے جس کی بارڈر پرآے دن پنجہ آزمائی ہوتی ہے اور متاثر وہاں پر بسنے والے ہوتے ہیں جو انسان کے بنیادی حق Right to Life سے محروم ہیں ۔ ورنہ وہگہ بارڈر پر ہولی اور عید جیسے تہوار پر مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں ۔ پاکستان اور ہندوستان کشمیر کی بارڈر پر پنجہ آزمائی کے لیے امریکہ اور چین سے اسلحہ درآمد کرتے ہیں اور دفاع کے نام پر اپنے اپنے ملک کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس پر خرچ کرتے ہیں ۔
یہ تب ہی ممکن ہے جب ہندوستان اور پاکستان کی کشمیر ایشو پر آپس میں کشیدگی رہے گی ۔ چین جو آنے والا سپر پاور ملک بنے جا رہا ہے اس کا سی پیک منصوبہ ہماری دھرتی گلگت بلتستان کے دامن سے گزر رہا ہے یہئ وجہ ہے کہ جب ہندوستان نے ۵ اگست کو ۳۵ اے اور ۳۷۰ختم کیا تو پاکستان سے زیادہ چین کو مسلہ ہوا جس کے شور شرابے پر ایک لمبے عرصے کے بعدسلامتی کونسل کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اس لیے اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ ہماری آزادی میں رکاوٹ بین الاقوامی سامراج بھی ہیں ۔
ان تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ہماری حقیقی آذادی کی ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے غریبوں ، مزدوروں اور محنت کشوں کی آذادی جوڑی ہوئی ہے کیونکہ اسلحہ خریدنے پر لگائے جانے والے پیسے یہ ملک اگر اپنی غریب عوام پر لگائیں تو یہ ملک بھی معاشی طور پر مضبوط اور خوشحال ہو سکتے ہیں ۔ ان دونوں خطوں میں لوگ کھانا ،تعلیم ،علاج جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ جہاں کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر دی ہیں کے تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ بغاوت کے ڈر سے یہاں طلبہ سیاست پر بھی پابندی ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرہ بانجھ پن کا شکار ہے ۔
آخر میں اپنی باتوں کو سمیٹتے ہوے اگر اپنی ناقص راے کا استمعال کرتے ہوے یہ تجزیہ کروں کہ مسلہ کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان تک محدود کر کے جدوجہد کرنا اس کا حل نہیں ہے ۔ اس مسلے کو بین الاقوامی تناظر میں دیکھنا پڑے گا۔ جب تک بین الاقوامی سامراجی قوتوں جو ہماری ریاست کی Beneficiaries ہیں ان کی طاقت سرمایہ دار نظام ہے ان کی رٹ کو ایک متبادل معاشی نظام سے چیلنج نہیں کریں گے ۔تب تک حقیقی آزادی ناممکن ہے ۔
قومی اور معاشی سوال دونوں اہم ہیں اور جہاں لوگوں کو قومی سوال کے لیے شعوری اور نظریاتی طور پر تیار کیا جارہا ہے وہاں معاشی سوال زیر بحث ہونا چاہیے۔ کیونکہ جامع معاشی پلان کا تعین کیے بغیر، مکمل آزادی لینامخص ایک خواب ہو سکتا ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں