316

منشیات کے ہمارے معاشرے پر اثرات

ازقلم محمد فاضل خان

نوجوانوں میں منشیات کا استعمال ہمیشہ معاشرتی زندگی پر تباہ کن اثرات کی وجہ بنتا ہے، منشیات کا استعمال جسمانی اور نفسیاتی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے ، انسان کے سوچنے ، محسوس کرنے اور دوسرے لوگوں سے برتاؤ کی صلاحت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے جس میں دل ، پھیپھڑے کا متاثر ہو نا اور کہیں دوسری بیماریوں کا ہونا ہے . منشیات ایک زہرے قاتل ہے جو کہ نہ صرف آہستہ آہستہ انسانی زندگی کی تباہی کا باعث بنتا ہے بلکہ صحت مند اور محترک معاشرے کی تباہی کا سبب بھی بنتا ہے ، کسی بھی ملک ، قوم ، معاشرے ، کے روشن مستقبل کے ضامن اُسکے نوجوان ہوتے ہیں ، علام اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر . . . پر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ . ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط نوجوان نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت بلکہ اپنی قوم اپنے معاشرے کی بھی تعمیر و ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں ، منشیات کے عادی نوجوان نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک اور قوم کے زوال کا سبب بنتے ہیں اور معاشرے میں پھیلنے والی مختلف برائیوں کا اور معاشرے کی تباہی کا سبب بنتے ہیں ، راولاکوٹ کے مضافاتی علاقے بن بہک . پکھر ، علی سوجل اور اردگرد کے علاقے ان منشیات فروشوں کا آجکل خاص ٹارگٹ ہیں یہ علاقے شہر سے دور ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے دور اور جنگلات کی وجہ سے اُن کے آسان ٹارگٹ ہیں ، یہاں کے معصوم بچوں کو ورغلا کر اپنا گاہک بنانا آسان ہے ان علاقوں میں جتنی تیزی سے منشیات کا استعمال بڑ رہا ہے اور ہمارے نوجوان اور بچے جتنی تیزی سے اس لت میں مبتلا ہو رہے ہیں یہ ہمارے لیے لمحہ فکر ہے اگر ہم نے فوری اس طرف توجو نہ دی اور اس پر قابو پانے میں دیر کر دی تو اسکے ہمارے بچوں کے مستقبل پر تباہ کن اثرات پڑیں گئے ، ہم نے اگر اپنے آس پاس موجود منشیات کے کاروبار میں ملوث لوگوں کی نشاندی کرکےاُنکو روکنے کی کوشش نہ کی تو کل اس لت کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے ہم خود ذمہ دار ہونگے آج اگر کسی اور کا بچہ اس لت میں پڑ چکا ہے تو کل خدانخوس ہے ہمارا بچہ بھی اس کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی تو اس معاشرے کا حصہ ہے معاشرے میں پیدا ہونی والی خرابی کو اگر روکا نہ جائے تو وہ پورے معاشرے کو ہی تباہ کردیتی ہے ، ہمیں اجتماعی طور پر اس برائی کو ختم کرنے کی کوششیں کرنی ہوگئی ، ہمیں اسکے سدباب کے لیے عملی اقدامات کرنے ہونگے انکھیں بند کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کو تباہ نہیں ہونے دینا ، ہمیں معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو ٹھیک کرنا ہوگا اپنے بچوں کو ایک ایسا ماحول مہیا کرنا ہوگا جہاں اُن کا مستقبل محفوظ ہو ، اس کا روبار سے منسلک لوگ بے شک طاقتور ہیں مختلف قانون نفاذ کرنے والے اداروں کے کچھ لوگوں کی انکو پشت پناہی بھی ہو گئی ، ان لوگوں کے طاقتور ہونے کی وجہ سے انفرادی طور پر کی گئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی ہمیں اجتماعی طور پر معاشرے میں موجود اس برائی کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرنی ہو گئی . اسکے خلاف ہر محاز پر لڑنا پڑے گا لوگوں کو بتا نا ہوگا کے منشیات کی وجہ سے ہمارے مستقبل کے معمار کیسے تباہ ہورہے ہیں ، ہمیں اپنے بچوں پر خاص توجو دینا ہوگئی ہمیں اُن کو شعور دینا ہوگا منشیات کے اُن پر پڑنے والے جسمانی ، سماجی معاشرتی نقصانات کے بارے میں اگاہ کرنا ہوگا ، منشیات کے کاروبار سے منسلک لوگ اس قوم ، ملک اور معاشرے کے لیے ایک ناسور ہیں ، ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں ، یہ بہت سارے خاندانوں کی تباہی کے ذمہ دار ہیں کیا گزرتی ہوگئی اُن ماں باپ پر جن کی اولاد اُن کا سہارا بننے کے بجائے اُن کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث بن جائے ، یہ دولت کے پجاری کسی بھی رحم کے مستحق نہیں ہیں ، ہمیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کہ لیے اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے ان لوگوں کے خلاف جہدو جہد کرنی ہو گئی معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے کوشش کرنا جہاد ہے – لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کے ہمارے وہ نوجوان جو ان لوگوں کی سازش کی وجہ سے اس لت میں پڑ چکے ہیں ہمیں ان سے ہمدردی ہے ، وہ ہمارے لیے قابل نفرت نہیں ، یہ لوگ اپنی نا دانی میں ان ظالم لوگوں کی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور غلط اور تباہی کے راستے پر چل پڑے ، ہمیں کوشیش کرنی ہے کے ان نوجوانوں کو دوبارہ زندگی کی طرف لے کر آئیں انکو دوبارہ ایک اچھا انسان بننے میں انکی مدد کریں ، یہ لوگ دوبارہ ہمارے معاشر ے اور قوم کا حصہ بن سکتے ہیں ایک اچھا شہری بن سکتے ہیں اپنے اردگرد موجود ہر اُس بندے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگئی جو اچھائی کی طرف آنے کی کوشش کرے ، مجھے یقین ہے ہم حلات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس مسلہ کے حل کی طرف توجو دیں گئے اور جلد ہی ہم اپنی کوشیش سے معاشرے کے اندر سے اس ناسور کو نکال باہر پھینکے گئے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں