360

موٹاپے سے نجات، ایک آساں مگر مستقل عمل از قلم محمد امین الدین

موٹاپا انسان کی ایک ایسی کمزوری ہے جسےوہ خوشی سے اپناتا ہے ۔  ایک موٹے انسان کو صحت مند  ہرگز نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ اس کے کمزور ہونے کی نشانی ہے  جو اسے ضرورت سے زیادہ کھانے پر مجبور کرتی ہے ۔ 
کوئی بھی شوق اگر حد سے زیادہ ہو تو وہ نقصان دہ ہوتا ہے  ، ٹھیک اسی طرح ضرورت سے زیادہ کھانا بھی صحت کیلئے نقصان دہ ہے ۔

ضرورت سے زیادہ کھاکر موٹاپے کو اپنانے کے علاوہ انسانی زندگی پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں ،
  موٹے انسانوں میں خود اعتمادی کی کمی پائی جاتی ہے  اور  اسکا آغاز صبح سویرے کپڑوں کے انتخاب سے ہی شرو ع ہو جاتا ہے ۔

انسانی جسم میں چربی بیماریوں کیلئے دعوت عام ہے جس میں اکثر جان لیوا ہوتی ہیں جیسے عارضہ قلب اور ہائی بلڈ پریشر

  موٹے انسانوں میں چڑچڑے پن کی ایک خاص قسم ہوتی ہے جو انھیں محسوس تو نہیں ہوتی لیکن اسکا اظہار اکثر و اوقات کرتے رہتے ہیں۔  

وقت پہ کھانا
جسطرح دن کام کیلئے اور رات آرام کیلئے ہےٹھیک اسی طرح انسانی جسم میں خوراک کی طلب کے   اوقات  بھی مقرر ہیں ، اسلئے مناسب وقت پر مناسب غذا موٹاپے کو بھگانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ دن بھر بھوکے رہنے کے بعد شام کو جم کر کھانا یا کھانے کے فوری بعد سونا  بھی موٹاپے کیلئے دعوت خاص ہے ،

کم مقدار میں کھانا
رسول مقبول ؐ نے فرمایا تھا کہ ہمیشہ بھوک چھوڑ کر کھاؤ، موجودہ سائنس اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ پیٹ بھر کر کھانا نہ صرف صحت کیلئے خطرناک ہے بلکہ موٹاپے کی بڑھوتری کا کلیدی کردار ہے۔  اسلئے ہر قسم کی غذا کھائیں لیکن کم مقدار میں۔

جسمانی حرکت
جسمانی حرکت سے مراد ہر روز کی سخت جسمانی ورزشیں نہیں ہیں بلکہ 24 گھنٹوں میں کم سے کم ایک گھنٹے کی جسمانی حرکت جیسے پیدل چلنا، ہلکا دوڑنا یا کسی نا کسی کام میں جسم کو مشغور رکھنا شامل ہیں۔  جیسے تین  وقت کا کھانا انسانی جسم کیلئے ضروری ہے اسی طرح کم سے کم ایک گھنٹے کی جسمانی حرکت بھی اتنی ہی ضرروری ہے۔

مناسب غذا
مناسب غذا سے مراد اکثر اوقات سخت ترین ڈائٹنگ لی جاتی ہے جوانسانی جسم سے زیادتی ہے ، مناسب غذا میں سب کچھ کھایا جا سکتا ہے لیکن ایک خاص ترتیب سے  جیسے  تلی ہوئی اشیاء کے شوقین احباب اچھے کوکنگ آئل کا استعمال کریں اور خوراک کی مقدار پہ خاص دھیان دیں۔
ہری اور کچی سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال   ، کھانے کے ہر دور کے ساتھ ہری سبزیوں جیسے سلاد پتہ، کھیرے، پالک وغیرہ کا استعمال جسم میں فائبر کی کمی کو پورا کرتا ہے جو نظام ہضم کو بہتر کرتا ہے۔  دن میں کم سے کم ایک بار فروٹ کا استعمال بھی انسانی جسم کی خاص ضرورت ہے۔
صبح سویرے  نہار پیٹ لیمن اور ادرک کے جوس کا ایک گلاس نہ صرف فالتو چربی کو گلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ اس سے آپکا پیٹ بھی صاف رہتا ہے جس سے نظام ہضم کو بہتر ہونے میں مدد ملتی ہے۔
ہمارے ہاں یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کھانے کے بعد پانی پینا چاہئے جو انسانی جسم سے  سراسر ظلم ہے ، پانی ہمیشہ کھانے سے قبل پینا چاہئے جس  کھانے کو ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔  
ہمارے ہاں لوگ پہلے بے حساب کھاتے ہیں اور پھر موٹاپے کی صورت میں بے حساب ورزش اور ڈائٹنگ سے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اسلئے مناسب وقت پر مناسب غذا اور مناسب جسمانی حرکت  ہی اس کا مستقل حل ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں