77

نسلوں کا سفر

ازقلم : ماجد خان
گھر کے باہر کھلی دھوپ میں کرسی پر ہاشم خان کی نظریں اپنے بڑے بیٹے پر جمی تھیں۔ اس کا بیٹا اکرم خان آج گھر سے روانہ ہونے والا تھا۔ اس کا سعودیہ کا ویزہ آگیا تھا۔ ایک لمحے کے لئے ہاشم خان کی آنکھوں میں ماضی گھوم کے رہ گیا۔ یہ لمحہ در حقیقت پچھلے تیس سالوں کی داستان تھا۔ وہ تیس سال جو خود ہاشم خان نے پردیس میں بتائے تھے۔ اسے وہ وقت بھی یادآیا جب وہ ٹھیک اسی جگہ پردیس روانہ ہونے کو تیار بیٹھا تھا۔ اس کے خاندان والے اس وقت نھی جمع تھے جیسے اس بار اکرم خان کو روانہ کرنے کو بیٹھے ہیں۔ وہ ان لمحوں کو کیسے بھولتا جب اس نےساتھ ماہ کے اکرم کو رخصت ہوتے وقت آخری بار اپنے گلے سے لگایا تھا ۔ پھر وہ نہیں دیکھ پایا کہ کب اس کے بیٹے نے اپنا پہلا قدم اٹھایا تھا۔۔ اس نے جب بولنا شروع کیا ہوگا تو پہلا لفظ کیا بولا ہوگا۔۔۔ اسے وہ دن کبھی دیکھنا نصیب ہی نہیں ہوا جب اس کا بیٹا پہلی مرتبہ اسکول گیا تھا۔ اس کی آنکھیں اپنے بیٹے کا بچپن نہیں دیکھ پائیں۔ ایسا کیوں ہوا۔۔۔ یہ کہانی فقط ایک ہاشم کی کہانی نہیں ہے۔ یہ آزاد کشمیر کے ہر اس گھر کی کہانی ہے جن کے لعل اپنے پیاروں کو چھوڑ کر پردیس جاتے ہیں ۔کیونکہ انہیں اپنے وطن میں نہ تو روزگار میسر ہے اور نہ ہی ایسے حالات میسر ہیں کہ جہاں فکر معاش کے مسائل حل ہونے کے آثار پیدا ہوں۔ پردیس کے صحرائوں کی خاک چھاننا اب مقدر بن چکا۔ المیہ یہ ہے کہ ایک بار جانے والے کا یا تو تابوت واپس آتا ہے یا پھر شوگر، فشار خون اور قلب کے عارضے لے کر۔۔ رزق کی تلاش اس کا خون چوس چکی ہوتی ہے۔ ہاشم خان کی نظریں اپنے بیٹے پر جمی ہوئی تھیں ۔وہ دیکھ رہا تھا کہ اس اکرم اپنے بیٹے کو پیار کر رہا ہے۔ ایک لمحہ کو ہاشم کی آنکھوں نے اکرم کی آنکھوں کی نمی دیکھی تو یہ منظر دیکھ کر اس کا دل بیٹھ سا گیا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک اور ہاشم کی کہانی شروع ہو چکی ہے ْ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں