2,599

نعمان خالق قتل کیس، ورثاء‌نے پولیس کی طرف سے بیان کردہ کہانی کی دھجیاں‌اڑا کر رکھ دیں

راولاکوٹ(خورشید بیگ سے) نعمان خالق قتل کیس میں‌ گزشتہ روز ہونے والی اہم پیش رفت پر مقتول کے ورثاء‌نے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا. ورثاء‌ پولیس نتائج سے متفق نہیں ہیں.

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پولیس کی طرف سے سلمان الطاف اور اسکی بہن ح کو قاتل قرار دئے جانے والے نتائج پر مقتول کے بھائی محمد واجد خان ، والد محمد خالق خان اور والدہ نے صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے پولیس نتائج کی دھجیاں‌ اڑا کر رکھ دیں.

مقتول کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں بار بار پولیس کے اعلی آفیسران ،ڈی آئی جی، ایس ایس پی، ڈی ایس پی، ایس ایچ او کس کس کے در پر نہ گئی لیکن میرے بیٹے کی موت کو کہانی بناکر چھپایا جارہاہے پولیس ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے من گھڑت کہانی پیش کر رہی ہے.

ورثاء‌ نے گزشتہ روز پولیس کی طرف سے پیش کی جانے والی تفصیلی رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ، انکا کہنا تھا کہ جہاں پر قتل ہوا بتایا جاتا ہے وہ گنجان آباد محلہ ہے آخر کسی نے بھی گولی کی آواز کیوں نہیں سنی؟ مقتول نے بھی کچھ مزاحمت کی ہو گی،
قتل والے دن پولیس کے بقول مبینہ قاتل کے والد محمد الطاف خان اور انکی اہلیہ جو گھر پر ہی موجود تھے ، آخر اس سارے معاملے سے کیسے بے خبر رہے؟ اسکے علاوہ سلمان کے ایک پھوپھا جومحمد الطاف خان کے گھر پر ہی رہائش پذیر ہیں اور گھر کے ہر کام کیلئے انکی گاڑی استعمال ہوتی ہے آخر کیسے قتل جیسی بھیانک واردات سے بے خبر رہے؟

ورثاء‌کے مطابق مختلف گواہوں کے بیانات اور ورثاء کی جانب سے پیش کئے گئے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس اتنا عرصہ پہلے اس کیس کو حل کرنے میں ناکام رہی اور بھاری رشوت بھی وصول کی گئی ، اب ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے من گھڑت کہانی گھڑی گئی ہے، عوام ، ورثاء‌ اور متعلقہ اداروں کو گمراہ کیا جا رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ نعمان خالق شریف النفس نوجوان تھا اور اسکا منشیات فروشی سے کوئی تعلق نہیں تھا جس کے محلہ دار بھی گواہ ہیں، ملزمان منشیات فروشی میں ملوث ہیں اور قبل ازیں علاقہ کے دو افراد نے گواہی بھی دی کہ ملزمان کے ساتھ اسے جاتے ہوئے دیکھا گیا، گھر میں اگر فائرنگ ہوتی تو محلہ میں آواز بھی نہیں ہوتی، نوجوان قتل کے بعد کالج جاتا رہا اور اس کے رویہ سے اس طرح کی کوئی بات سامنے نہ آئی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے من گھڑت کہانی بنائی ہے.

پھر ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ ایس ایچ او اعجاز خان اور تفتیشی آفیسر راجہ شاہد کو معطل کرکے انکوائری کی جائے گی مگر انھیں بھی تبدیل کرکے دوسری جگہ نوکری پر بحال رکھا گیا ہے. پولیس کی سب کہانی عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بناتی گئی ہے. غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن بنا کر دوبارہ تحقیقات کروائی جائیں اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے.

واضح رہے کہ نعمان خالق کی نعش چھ دسمبر کو ٹھنڈی کسی مذبح خانہ کے قریب کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، نعمان خالق دو اکتوبر کو لاپتہ ہوا تھا، انوسٹی گیشن آفیسر محمد طارق کی جانب سے صرف چار ہی دنوں میں قتل کی گتھی کیسے سلجھا دی گئی ہے؟

پولیس کی ساری کہانی کو ورثاء نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نعمان کے قاتل تک پہچنے کے پولیس کے اس عمل کو ٹوپی ڈرامہ قرار دیتے ہوئے اس ساری کہانی کو من گھڑت قرار دیا ہے، جسکا مقصد اصل ملزمان کو بچانا ہے.
ورثاء‌نے مزید کہا ہے کہ پولیس ابھی تک شواہد پیش کرنے میں ناکام ہے اصل حقائق کو عوام کے سامنے لانے کے لئے اعلی سطحی کمیشن کا قیام عمل میں لاکر اس کیس کا ٹرائل دوبارہ کیا جائے.

ورثا نے سیاسی ،سماجی ،تاجران اور صحافتی برادری کا شکریہ ادا کیا ہے کہ جنھوں نے نعمان کے قتل کے خلاف احتجاج کیا اور سوگواران کے ساتھ کھڑے رہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں