69

پہلے زینب، اب نور اور نجانے کتنی اور

نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی سات سالہ پریوں جیسی حوض نور کو بھی درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ چند سال پہلے قصور کی زینب کے ساتھ ہونے والے سانحہ پر کتنے عرصے سے قانون بنانے کا سوچ رہی ہے اور اس عرصے میں نجانے کتنی بڑی تعداد میں معصوم بچوں اور بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور سنگدلی کے ساتھ انہیں قتل کیا گیا۔ اب تو کوئی دن نہیں گزرتا کہ ایسی خبریں پڑھنے کو نہ ملیں۔ یہ جرم بڑھتا ہی جا رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جانوروں سے بھی بدتر درندوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد شاید سینکڑوں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہوں لیکن اس دوران اگر کسی درندے کو سزا دیے جانے کے بارے میں سنا تو وہ صرف زینب کا قاتل تھا، جس نے نہ صرف زینب بلکہ دیگر کئی بچیوں کو بھی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا تھا۔ لیکن اُس درندے کو بھی سزا ایسے ملی کہ وہ نشانِ عبرت نہ بن سکا۔ ایسے مجرموں کو نشانِ عبرت بنانا ہے تو اُنہیں چوکوں، چوراہوں میں پھانسی دیں اور دو تین دن تک اُن کی لاشوں کو لٹکا رہنے دیں۔ اگر زینب کے قاتل کو اس طرح سزا دی جاتی تو دوسرے کئی بچے بچیاں زیادتی اور قتل سے بچ جاتے۔ کاش! ہمارے حکمران، ہماری عدالتیں، میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبردار حوض نور، زینب اور ان جیسی زیادتی اور درندگی کی شکار لاتعداد بچیوں اور بچوں کے والدین کے درد کو سمجھیں، اُن کے دکھ کو محسوس کریں اور سب سے اہم ایسے حل تجویز کریں اور اقدامات کریں کہ ایسے جرائم کا خاتمہ ہو سکے ۔ جو درندے معصوم بچیوں اور بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں اور اُنہیں قتل کرتے ہیں وہ کسی نرمی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قانون بنائیں اور ایسے درندوں کو ہفتوں میں نہیں بلکہ دنوں میں عدالتوں سے سزا دلوا کر سرِ عام پھانسیاں دیں۔ یہ وہ اقدام ہے جو سب سے پہلے کرنے کا ہے ۔ باقی یہ کہ معاشرے کی تربیت کیسے کی جائے، فحاشی و عریانیت جو ایسے جرائم کے بڑھنے کا ایک اہم سبب ہیں، کو ختم کرنے کے لیے کیا تدبیر کی جائے، والدین کو کیسے سمجھایا جائے کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں، شادیوں کو آسان بنانے کے لیے کیا کیا جائے وغیرہ وغیرہ، ان سب معاملات پر بھی کام شروع کیا جائے۔

قصور سانحہ کو ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران ایسے بہت سے مظالم دہرائے جا چکے ہیں۔ ہمارے میڈیا، پارلیمنٹ، عدالت حتیٰ کہ معاشرے کا ان واقعات پر اب وہ ردعمل نہیں ہوتا جو ہم نے زینب کیس میں دیکھا۔ یہ بہت خطرناک بات ہے۔ حال ہی میں درندگی کا نشانہ بننے والی حوض نور کے معاملے کو میڈیا نے پھر بھی کسی حد تک اہمیت دی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور کچھ دوسرے اہم لوگ اس بچی کے والد کے پاس افسوس کے لیے بھی چلے گئے لیکن ان دو سالوں میں ایسے کئی واقعات ہوئے جہاں زیادتی کا نشانہ بننے والے معصوم بچوں اور بچیوں کے معاملے پر نہ میڈیا نے کوئی توجہ دی، نہ ہی کسی حکمران اور سیاستدان نے اُس پر کوئی بات کی۔ خدارا! ان واقعات کو معمول مت بننے دیں۔ ایسے بچوں کے والدین اور پورے معاشرے سے ہمدردی ہے تو فوٹو سیشن کے بجائے اس بات کو یقینی بنائیں کہ سب کے سامنے مجرموں کو پھانسی ہو۔
حوض نور کے والد نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں روتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اُن کی بچی کے قاتل کو پھانسی اُن کے اور بچی کی والدہ کے سامنے دی جائے۔ سرِعام پھانسی دیں گے تو ایسے افراد جن کے دل اور دماغ میں درندگی کے جراثیم پیدا ہونے کا خطرہ ہے، وہ ایسا کوئی جرم کرنے سے ڈر جائیں گے۔ سزا کا مقصد معاشرے میں جرم کے خلاف ڈر اور خوف پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ افراد کے ذہن میں سزا ملنے کا نقش پکا کر دیا جائے اور اُنہیں یقین ہو کہ اگر جرم کیا تو وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے جسے انگریزی میں Certainty of Punishmentکہا جاتا ہے جو جرائم کو سرزد ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔
میں نے ایک مرتبہ یہ بھی تجویز دی تھی کہ اگر امریکہ و یورپ کے ڈر سے سرِعام پھانسی دینے سے ہمارے حکمران ڈرتے ہیں تو پھر میڈیا کے ذریعے حکومت ان جرائم میں ملوث درندوں کی سزا یعنی پھانسی کی وڈیو بنا کر ٹی وی چینل کو ایک ڈاکیومنٹری پروفیشنلز سے تیار کروا کر دے جس میں زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے یا بچی کی تصاویر دکھائی جائیں، اُن کے والدین اور معاشرے کا اس ظلم پر ردِّعمل دکھایا جائے جس کا مقصد پھانسی چڑھنے والے درندے سے معاشرے کی نفرت کو ابھارنا ہو اور پھر اُس کی پھانسی کی فوٹیج دکھائی جائے۔ ہمیں کم از کم یہ ضرور کرنا ہو گا۔ ایسے جرائم اور مجرموں سے نفرت اور اُنہیں نشانِ عبرت بنانا لازم ہے۔
مجھے امید تھی کہ وزیراعظم حوض نور کے معاملے پر بھی کوئی بات کریں گے لیکن اُنہیں اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے گفتگو کرتے سنا جس میں وہ نوجوانوں سے کہہ رہے تھے کہ بدتہذیبی کرنے والوں کو مت چھوڑیں۔ خان صاحب! بدتہذیبی کا جواب بدتہذیبی نہیں ہونا چاہیے، جس کے لیے سب سے پہلے تحریک انصاف کی اور اب تو نون لیگ کی بھی سوشل میڈیا ٹیم مشہور ہے۔ ہمارے معاشرے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو تربیت، کردار سازی، تمیز اور تہذیب کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے وزیراعظم اور دوسرے سیاسی رہنمائوں کو خود رول ماڈل بننا ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں