30

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔

پشاور: (روزنامہ تلافی ) چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کورونا کے مرض میں مبتلا تھے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد سیٹھ کے انتقال پر افسوس ہوا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، میری ہمدردی اور دعائیں مرحوم کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔

مزید برآں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے اہلخانہ کو صبر دے۔ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان کا کہنا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال کا دلی صدمہ ہوا۔

دوسری طرف چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار سیٹھ کے انتقال پر وکلاء نے کل ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا۔

وائس چیئرمین پاکستان بار عابد ساقی، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی اعظم نذیر تارڑ اور صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کل یوم سوگ منائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق ملک بھر وکلاء سوگ کے طور پر عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔

وائس چیئر مین پاکستان بار عابد ساقی کا کہنا ہے کہ قوم آج ایک نڈر اور بے باک جج سے محروم ہو گئی، جسٹس وقار سیٹھ کو پوری قوم حقیقی ہیرو کی طور پر یاد رکھے گی۔

اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے وکلاء کل یوم سوگ منائیں گے۔

عبد الطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ جسٹس وقار سیٹھ نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے فیصلے دیئے۔

جسٹس وقار کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ انہوں نے 1977 میں کینٹ پبلک سکول پشاور سے میٹرک جب کہ ہائیر سیکنڈری تعلیم ایف جی انٹر کالج فار بوائز سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسلامیہ کالج پشاور سے 1981 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

جسٹس وقار نے ایک سال سے کم عرصہ گومل یونیورسٹی کے شعبہ وکالت میں گزارا۔ وہ اس کے بعد پشاور یونیورسٹی کے لا کالج چلے گئے اور وہاں سے 1985 میں لا کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے ہمیشہ وقار سیٹھ کو خاموش طبعیت دیکھا اور وہ کبھی بھی زمانہ طالب علمی میں سیاست میں سرگرم نہیں رہے۔ ’وقار سیٹھ سکول کے زمانے سے پشاور میں رہے اور ڈگری مکمل کرنے کے بعد شہر کی پیر بخش عمارت میں ان کا دفتر تھا، جن کے ساتھ ہی میرا دفتر بھی واقع تھا۔‘

وقار احمد سیٹھ 1985 میں ذیلی عدالتوں کے وکیل بنے، 1990 میں پشاور ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں بطور ایڈووکیٹ وکالت کا آغاز کیا۔

پشاور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس وقار سیٹھ کی درج پروفائل میں لکھا گیا ہے کہ وہ 2011 میں بینچ کے ایڈیشنل جج بنے اور پشاور ہائی کورٹ میں بینکنگ جج کے حیثیت سے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

اس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے کمپنی جج بن گئے اور جوڈیشری سروس ٹریبیونل کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ آج کل وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور مشرف کیس میں سپیشل کورٹ کے جج تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں