86

ڈوبتا ابهرتا کشمیر

تحریر: صائمہ بتول
برِصغیر کے خونی بٹوارے کے نتیجے میں جنم لینے والی ریاستوں بھارت اور پاکستان نے اپنے آغاظ سے ہی سامراجی کردار اپناتے ہوئے خطے میں توسیع پسندانہ کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا ۔ دونوں اطراف سے سامراجی یلغار کر کے ریاست جموں کشمیر کے بھی حصے بخرے کر دیئے گئے ۔ جو طاقتور تھے ان کے حصے میں زیادہ آ یا۔ یوں انڈو پاک نےجموں کشمیر کی بندر بانٹ کر لی۔ کشمیری عوام غلامی کی طویل تاریکی میں دھکیل دئیے گئے۔ دھائیوں پر محیط جبر کے خلاف جدوجہدِ آزادی کے معرکے بھی ہوئے ۔ قربانیوں، شہادتوں اور جدوجہد کی بے مثال تاریخ بھی رقم ہوئیں لیکن آزادی کی منزل دور ہی ہوتی چلی گئی۔ آر پار منقسم کشمیریوں کا حکمران طبقہ دونوں سامراجی ریاستوں کے تنخوا دار گماشے کا کردار ادا کرنے لگا ۔ تحریکِ آزادی تمام تر قربانیوں کے باوجود منزلِ مقصود حاصل نہ کر سکی جس کی بنیادی وجہ درست نظریات ،حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ ۵ اگست ٢٠١٩ کے بھارتی فیصلے کے بعد ظلم و جبر کے ایک نئے سلسلے کا آغاظ ہوا ہے۔ ١٠ ماہ سے زائدجاری لاک ڈاون اور کرفیو عوام کو برباد کرتا جا رہا ہے۔ معاشی بربادی ، بےروزگاری اورریاستی جبرایک نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں معاشی اور سماجی بحرانوں میں دھنسی ہوئی مودی حکومت نے پاکستانی زیرِ قبضہ علاقے پر بھی انڈیا کا حصہ ہونے کا دعوہ کیا ہے اور LOCپر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔آئے روز جموں کشمیر کی سرحدوں پہ فائرنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے سرحد کے آر پار کے غریب لوگ مارے جاتے ہیں سرحدی علاقوں میں ہسپتال اور ڈسپنسریز نا ہونے کی وجہ سے زخمی انسان شہر تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے بعض اوقات فائرنگ کی وجہ سے مکان جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات سکول فائرنگ کی زد میں آجاتے ہیں
ریاست جموں و کشمیر کی دهرتی جس پہ ہمیشہ سے توپوں کا بارود کا اور فوجی وردی کا راج رہا ہے جس کی عوام ہمیشہ بندوق کے دہانے پہ کهڑی رہی ہے ہمیشہ آگ اور خون کی لپیٹ میں رہی ہے آج ایک بار پهر تاریخ کے تاریک چوراہے پہ کهڑی ہے -ہندوستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بی جے پی حکومت کے نئے فیصلے نے سرحد کے اس پار اور سرحد کے اس پار کے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ہندوستانی میڈیا نے مظفرآباد میرپور گلگلت بلتستان کے موسم کو بهی اپنے نیوز بلیٹین کا حصہ بنس لیا ہے ہندوسستان کی طرف سے پاکستان کو متعدد بار اپنا قبضہ آزاد کشمیر پہ سے اختم کرنے اور پاکستانی مقبوضہ علاقہ خالی کرنے کی دهمکیاں دی جا چکی ہیں
لیکن پاکستان نے انڈیا کے اس بیان کو صرف یہ کہ کر رد کر دیا ہے کہ ہندوستان کا کام صرف باتیں بنانا ہے جبکہ پاکستان خود مذہبی بنیادوں پہ جموں کشمیر کی مستقل سازش کا حصہ ہے- پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر اور بهارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کو ایک طرف پهر اپنا آپ بهاری فائر اور پیلٹ گن کے بیچ میں گهومتا نظر آ رہا ہے چونکہ دونوں ملکوں کے حکمران کبھی بھی جموں کشمیر کے عوام کے حق میں نہیں رہے ہیں دونوں ممالک اندرونی طور پہ سٹیٹس کو کو برقرار رکهنا چاہتے ہیں اور مسلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی مثبت پیش رفت نہیں کر رہے عوام کو ہمیشہ سے حکمران طبقات نے بیوقوف بنا کہ اپنے مقاصد حال کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس صورت حال کو دیکه کر عام آدمی کے ذہن میں بهی سوالات جنم لیتے ہیں ۔۔– کیا ہندوستان اور پاکستان اس وقت جنگ کی کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟ کیا یہ تیسری جنگ عظیم کا نقطہ آغاز ہے؟ کیا اب ایشیا خانہ جنگی کی لپیٹ میں آنے والا ہے؟ ہندوستان اور پاکستان نے ہمیشہ سے اپنے اندرونی معاملات کو دبانے کے لیے کشمیر کشمیر کهیلا ہے -سرمایہ داری کے اس دور میں جب پوری دنیا کو ایک ایسی وبا کا سامنا ہے جس کا کوئی علاج نہیں جس کی کوئی ویکسین نہیں ایسے میں انڈیا اور پاکستان اپنے اندرونی تضادات کو چهپانے کے لیے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نت نئے پلان ترتیب دے رہا ہے -کورونا وائرس سے متاثرہ لوگ حکومت کے رویے سے سخت نالاں ہیں ہندوستان میں دیہاڑی دار مزدور بهوکا مر رہا ہے ہندوستان کے لوگ آئے روز لاک ڈاون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ وائرس سے بچیں گے تو بهوک سے مر جائیں گے دونوں ملکوں کے حالات ایک جیسے ہی ہیں لاک ڈاون کے دوران آن لائن کلا سسز سے طلبا کو تعلیم دینے کی کوشش کی گئی جس پہ مختلف یونیورسٹیز کے طلبا کا ردعمل کلاسسز کے بائیکاٹ کی صورت میں سامنے آیا پسماندہ خطوں میں بغیر انٹرنیٹ کے آن لائن کلاسسز ممکن نہیں – دونوں ملکوں کے اندرونی تضادات نے حکومتوں کو پریشانی سے دو چار کیا ہوا ہے ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے اندر اندرونی تضادات وبائی صورت حال مزدوروں کی حالت زار اور طلبا کی بے بسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے – پاکستان میں بلوچستان کے اندرونی تضادات بڑهتی ہوئی غربت اور گرتی ہوئی معشیت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا دهچکا ہے ایسے حالات میں انڈیا اور پاکستان کے پاس سوائے کهوکهلے نعروں اور عوام کو بیوقوف بنانے کے کچھ نہیں ہے – امریکہ اور مفربی ممالک خطرناک حد تک معاشی پستی میں گر چکے ہیں کورونا وائرس نے سرمایہ داری کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے سامراج کی چالیں الٹی پڑ رہی ہیں چین اور امریکہ کی بلیم گیم جاری ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کو نیچا دکهانے کی کوشش میں ہیں۔۔۔ ہتهیاروں کی جنگ کے متبادل بائیولوجیکل وار اور تہذیبوں کی جنگ کو پروموٹ کیا جا رہا ہے جموں کشمیر کا مسلہ ہمیشہ سے ایشیا میں خطرے کا الارم رہا ہے اگر ہندوستان اور پاکستان کوئی قدم اٹهاتے بهی ہیں تو وہ نا صرف ان دو ممالک کے لیے بلکہ پورے ایشیا کے لیے خطرناک ثابت ہس سکتا ہے اور ایسے حالات میں جب تمام ممالک کی تجوریاں ٹهنڈی پڑ چکی ہوں اور اسلحے کو زنگ لگ چکا ہو – ریاست جموں و کشمیر کے شہری پہلے ہی غربت کی دلدل میں ہیں اور ان پہ ایسا کوئی ایڈونچر کرنا غلیظ سسٹم کی دوغلی پالیسی ہے ہندوستانی میڈیا کی طرف سے اس خبر کے بعد جموں کشمیر میں بجهی ہوئی چنگاریاں پهر سے جلنے کی تیاری کرنے لگی ہیں کشمیر میں مجاہدین نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں گزشتہ ہفتے ریاض نائیکو کی پولیس کے ہاتهوں ہلاکت کے بعد وادی میں حالات مزید خراب ہو چکے ہیں- مختلف قوم پرست تنظیموں کی طرف سے ریاست جموں کشمیر کی خودمختاری کے لائحے عمل ترتیب دیے جا رہے ہیں کشمیر میں ایک بار پهر بغاوت کے لیے بهر پور تیاری کی جا رہی ہے لیکن ماضی کی طرح بغیر کسی ٹهوس نظریے کی تحریک کو پسپا کرنے کی کوشش کے بجائے اگر درست راہ منتحب کی جائے ہندوستان اور پاکستان کے محنت کش طبقے کے ساته جڑت بناتے ہوئے سامراج سے ایک بڑی لڑائی کے ذریعے جموں کشمیر کے عوام کو ظلم وستم سے بچایا جا سکتا ہے ان حالات سے نپٹنے کے لیے ضروری ہے کہ سانجهے مسائل کو سانجهے داری سے حل کیا جائے اور بڑی طاقتوں کو منہ کے بل گرا کہ ایک نئے سماج کی بنیاد رکهی جائے جہاں آزادی صرف زمین کی نہیں بلکہ جہاں غربت سے آزادی ہو بے روزگاری سے آزادی ہو جہالت سے آزادی ہو جہاں اقوام (حکمران طبقہ) ہی نہیں انسان اور عام عوام بھی آزاد ہوں۔ ایسی حقیقی آزادی ان سامراجی ریاستوں کو استحصالی نظام سمیت تہیس نہیس کئے بغیر ممکن نہیں بر صغیر کے محنت کشوں اور محکوم عوام کی انقلابی صف بندی آج کے عہد کا بنیادی تقاظہ ہے اور آج کے انقلابیوں کا تاریخی فریضہ کہ وہ آج کے عہد کے کردار کا سائنسی ادراک حاصل کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز تر کریں سوشلسٹ سماج ہی قومی جبر اور معاشی استحصال کے خاتمے کی واحد ضمانت ہے۔ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں