306

ڈڈیال کی شان قلعہ رام کوٹ آزاد کشمیر کا ایک گمنام قلعہ قلعہ کی مکمل تاریخ

. (ڈڈیال کی شان)
(قلعہ رام کوٹ کی مکمل تاریخ)
سولہویں اور سترہویں صدی میں کشمیر کے مسلمان حکمرانوں نے کئی قلعے تعمیر کروائے، جن میں سے ایک رامکوٹ قلعہ بھی ہے، جو اب منگلا جھیل سے گھرا ہوا ہے۔
قلعہ جہلم اور پونچھ دریاؤں کے سنگم پر ایک اونچی پہاڑی پر قائم ہے، جہاں سے چمکدار نیلے پانیوں کا نظارہ بہت دیدہ زیب لگتا ہے۔ اپنے غیر معمولی طور پر منفرد طرزِ تعمیر کی بناء پر رام کوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔ منگلا اور مظفرآباد قلعوں سے ملتے جلتے طرزِ تعمیر والا یہ قلعہ شاید اسی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔

قلعے تک پہنچنے کے لیے آپ کو منگلا ڈیم پر واٹر اسپورٹس کلب سے ایک کشتی میں بیٹھنا ہوگا، اور تقریباً 10 منٹ کے سفر کے بعد آپ جھیل کے شمالی حصے میں پہنچ جائیں گے۔ یہاں آپ کو ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک عظیم الشان قلعہ دکھائی دے گا۔ اس کے علاوہ سڑک کے ذریعے بھی قلعہ تک جایا جاسکتا ہے لیکن تھوڑا سفر کشتی پر کرنا پڑے گا
ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال سے ہوتے ہوئے سیاکھ اور سیاکھ سے بھیلی بھٹار تک سڑک سے جایا جاسکتا ہے آگئے آدھے گھنٹے کی مسافت کشتی سے ممکن ہے کیونکہ قلعہ پانی سے گھرا ہوا ہے لہذا کشتی وہاں آپ کو مقامی افراد سے ہی مل جائے گئی
تھوڑی، کھڑی چڑھائی کے بعد آپ قلعے تک پہنچ جائے گئے ماضی میں اس کا یہ پیچیدہ محلِ وقوع اس کے لیے کافی فائدہ مند رہا ہوگا، لیکن آج کل یہی محلِ وقوع اس کی علیحدگی اور تنہائی کی وجہ بن گیا ہے۔ اسی نسبت کم ہی لوگ یہاں آتے ہیں۔
ویسے تو قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہ
‎چٹان کے آخری سرے پر واقعے چبوترے سے ایک طرف دریائے جہلم تو دوسری طرف پونچھ کی خاموش لہروں کا نظارہ ہوتا ہے۔ ماضی میں کبھی شہزادے تو کبھی کوئی ڈوگرا مہا راجہ اسی جگہ سے قدرت کی بنائی ہوئی رعنائیوں کے نظارے لیتا
تھا۔ صدیوں بعد منظر بھی بدل جاتا ہے اور دیکھنے والے بھی
ساٹھ (60) کی دہائی میں بننے والے منگلا ڈیم اور جھیل نے قلعے ایک جزیرے کی شکل دے دی ہے، لیکن وہ چبوترہ جہاں سے شہزادے اور ڈوگرا مہاراجے دو دریاؤں کا نظارہ کیا کرتے تھے، مٹی کے ڈھیر کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ پتھر کی وہ چوڑی فصیل جن پر چلتے ہوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں