342

کرتار پور کی تاریخ، سکھوں کیلئے اسکی اہمیت اور اسکے کھلنے سے پاک و ہند پر مرتب ہونے والے اثرات

(تلافی نیو) آج بدھ کے روزپاکستان کے وزیراعظم عمران خان ہونے والی ایک تقریب میں‌ کرتارپور میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان پہلی ’ویزا فری‘ راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ رہے ہیں ، پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں کی عوام نے اسے بہترین فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے ذہنوں‌، دلوں اور امیدوں‌ کی تبدیلی کا فیصلہ قرار دیا ہے.

مختلف ممالک کے سفارتکار اور عالمی مبصرین بھی کرتارپور پہنچنا شروع ہوگئے، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور نجوت سنگھ سدھو کرتارپور روانہ ہوگئے جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی لاہور سے نارووال کے لیے روانہ ہوگئے۔

اس موقع پرسیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، بیس فٹ چوڑ ااورساٹھ فٹ لمبا اسٹیج تیارکیاگیاہے، جلسہ گاہ کی سیکورٹی کے لئے سینتیس سے زائد کیمرے لگائے گئےہیں جبکہ گردوارہ کرتارپورصاحب میں آنے جانے والے راستے کی مانٹرینگ کی جائے گی.

کرتار پور کا تعارف،

لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے ایک بستی ہے جسے کرتارپور کہا جاتا ہے۔ یہ وہ بستی ہے جسے بابا گرونانک نے 1521ء میں بسایا تھا، یہ گاؤں پاک بھارت سرحد سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
نارووال شکرگڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے۔ یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 سے 1929کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔ گرو نانک مہاراج نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے اور اُن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے۔
گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں میں ہے۔

سکھ برادری کیلئے کرتار پور کی اہمیت،

سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو کا سنہ 1539 میں جب انتقال ہوا تو روایت ہے کہ مقامی مسلمان، سکھ اور ہندو آبادی میں ان کی آخری رسومات کے حوالے سے تفرقہ پڑ گیا۔

دونوں اپنی اپنی مذہبی روایات کے مطابق ان کی میت کو دفنانا اور ارتھی کو جلانا چاہتے تھے۔ آگے کیا ہوا، اس پر آرا مختلف ہیں، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ بابا گُرو نانک کی میت چادر کے نیچے سے غائب ہو گئی اور اس کی جگہ مقامی افراد کو محض پھول پڑے ملے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت گوردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث طویل عرصے تک یہ گوردوارہ بند رہا۔
تاہم یہ مقام سکھ برادری کے لیے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ تاہم دنیا میں بسنے والے تقریباً تین کروڑ سکھوں کی اکثریت گذشتہ 71 برس سے اس کی زیارت سے محروم ہے جو اب کرتار پور راہداری کھلنے سے ممکن ہو سکے گی.
انڈیا میں مقیم دربار صاحب کرتارپور کے درشن کے خواہش مند افراد اب بھی اس کو دیکھ ضرور سکتے ہیں مگر چار کلومیٹر دور سرحد کے اُس پار سے۔
انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے ایسے دید کے خواہش مندوں کے لیے سرحد پر ایک ‘درشن استھل’ قائم کر رکھا ہے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے دربار صاحب کا دیدار کرتے ہوئے اپنی عبادت کرتے ہیں۔

کرتار پور راہداری سے جہاں نہ صرف سکھ مذہب کے لوگ اپنے مقدس مقام کی زیارت کر سکیں‌گئے بلکہ اس بیچ کو آگے دونوں‌ ملکوں کے درمیاں جمی سرد مہری کی برف توڑنے کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں