60

کشمیر میں کرفیو اور جبری پابندیوں کو چھ ماہ مکمل، تمام تر سختیوں کے باوجود ایک بھی کشمیری ہار ماننے کو تیار نہیں

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور جبری پابندیوں کو چھ ماہ مکمل ہو گئے ہیں،ایک سو نوے دن کا جبر و تشدد بھی نہتے مظلوم کشمیریوں کو اپنے عزم سے ہٹا نہ سکا،آج بھی کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے مقصد کی کامیابی کے لئے پر امید ہیں-

تفصیلات کے مطابق جنت نظیر وادی میں زندگی کو قید ہوئے چھ ماہ مکمل ہوگئے،تمام تر مصائب و آلام سہہ کر بھی کشمیریوں کے عزم جواں اور حوصلے بلند ہیں۔
چھ ماہ سے وادی میں ذرائع مواصلات بلاک،بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع،گھروں میں جبری محصور کردیئے گئے کشمیری کھانے پینے کی اشیا کی قلت کا شکار،شیر خوار دودھ سے محروم ہٰیں۔
مقبوضہ وادی کے مریض ادویات کو ترستے بستر مرگ پر سانسیں گننے لگے،تمام تر سختیوں کے باوجود ایک بھی کشمیری ہار ماننے کو تیار نہیں۔
مودی سرکار نے نو لاکھ فوج لگا کر وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا،لیکن دلوں پر راج نہ کرسکیں،سڑکوں پر ہُو کاعالم ہے،گلیاں بازار ویران پڑے ہیں،لیکن کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔
آج بھی سب کشمیریوں کی زبانوں پر ایک ہی نعرہ ہے، لے کے رہیں گے آزادی اور مل کے رہے گی آزادی۔
عالمی دنیا،انسانی حقوق کے ادارے،دنیا کے منصف اور اقوام متحدہ سمیت مہذب اقوام کہلانے والے یورپی ممالک اور مغربی دنیا مفادات کی خاطر دنیا کے امن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہتے مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے بھارتی جبر و تشدد پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں