98

کشمیر کے معاملے پر ہمیں چوکنا رہنا چاہیے،صدر آزادکشمیرکی لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کے موقع پر گفتگو

لاہور (ویب ڈیسک ) آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کی۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکرٹری بابرڈوگر، جوائنٹ سیکرٹری حافظ فیض احمد، ممبر گورننگ باڈی حسنین چوہدری اور طارق محمود مغل نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ صدر ارشد انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی عوام اورفوج سمیت تمام ادارے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیںاور کشمیر کی آزادی کے لئے ہرطرح کی قربانی دینے کے لئے تیارہیں۔
آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں لاہور پریس کلب کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے بار بار کشمیر کے ایشو پر توجہ دی ہے اور پریس کلب میں جب بھی کشمیر کی آواز اٹھائی جاتی ہے وہ پورے پاکستان میں سنائی دیتی ہے۔
انھوںنے مزید کہاکہ جموں کشمیر کے لوگ جو محصور ہوئے ہیں ان کے حالات بہت برے ہیں، کشمیریوں کی زمین چھین کر ہندوستان کے سرمایہ کاروں کو دی جا رہی ہے،جس طرح فلسطین کی زمین پر اسرائیل نے قبضہ کیا اسی طرح کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے،مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ارادے بلند ہیں،حریت پسند رہنما ئوںکو گرفتار کیا ہوا ہے،بچوں کو اغوا کر کے ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، بچوں کو اغوا کرنے کا مقصد ان کی سوچ بدلنا ہے، کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ہم قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے مگر ہم آزادی لیکر رہیں گے۔
ان کا کہناتھاکہ انڈیا نے اربوں روپے کی کھڑی فصلیں تباہ کر دی ہیں، شدت پسند ہندوں تنظیمیں مسلمانوں کو قتل اور ہراساں کر رہی ہے اور کشمیر کی سیاسی قیادت کو پابند سلاسل کردیاگیاہے اور عقوبت خانے قائم کرکے ان پر شدید تشددکیاجارہاہے لیکن جموں کشمیر کے مسلمانوں کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، کشمیر یوںکا نعرہ ہم لیکر رہیں گے آزادی اب پورے ہندوستان میں پھیل چکا ہے، عالمی سطح پر پاکستان نے کشمیر کا ایشوبھرپورطریقے سے پیش کیاہے اور تمام دنیاکشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے آگاہ ہوچکی ہے، عالمی میڈیا نے اور دنیا بھر کی پارلیمنٹ نے کشمیر کے معاملے پر ساتھ دیا ہے ، نیویارک میں سلامتی کونسل کے کشمیر کے ایشو پر 3 اجلاس ہو چکے ہیں ۔
انھوںنے کہاکہ ایسے حالات پاکستان میں پیدا ہو گئے ہیں جس سے کشمیر ایشو پر توجہ بٹ گئی ہے اس کے لئے میں میڈیاسے درخواست کرتاہوں کہ وہ اس مسئلہ کو ایک مرتبہ پھر بھرپورطریقے سے قومی و بین الاقوامی سطح پراٹھائے۔ انھوںنے صدر ٹرمپ انڈیا کے دورے کے حوالے سے بتایاکہ ہندوستان کے دورے کے موقع پر احمد آباد کی گندگی چھپانے کے لیے ملین روپے کی دیوار بنائی جا رہی ہے اور امریکہ کی آنکھوںمیں دھول جھونکی جارہی ہے ۔
انھوںنے مزید کہاکہ صدر ٹرمپ نے ہندوستان کے معاملے پر ثالثی کرنے کا کہا تھالیکن اب ، ثالثی کے معاملے پر امریکی صدر کا لہجہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا اور ان کا کہنا ہے کہ جب ہندوستان مانے تب ثالثی پر بات کریں گے لیکن ہندوستان اس کے لیے تیار نہیں ہے،ہندوستان اور امریکہ کے بہت گہرے مراسم رہے ہیں، کشمیر کے معاملے پر آپ پورے امریکہ کو صدر ٹرمپ نہیں کہہ سکتے، صدر ٹرمپ کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے،ہم کشمیر کے مسئلے کو سلجھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں۔
انھوںنے کہاکہ کشمیر کے معاملے پر ہمیں چوکنا رہنا چاہیے،ہماری ترجیح ہے کہ کشمیر کے معاملے پر سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کریںکیونکہ ہندوستان پاکستان پر زبردستی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ انھوںنے کہاکہ پاکستان کی معیشت آنیوالے وقت میں دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں سے ہو گی ،پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ہم سب کو کام کرنا ہو گا ۔ تقریب کے اختتام پر لاہور پریس کلب کی جانب سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں