81

یوم مئی

یوم مئی
تحریر : صائمہ بتول
یکم مئی 1886 کو امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے استحصالی نظام سے چهٹکارہ حاصل کرنے کے لیے اور اپنے حق کی جنگ لڑنے کے لیے سفید پرچموں کے ساته مظاہرہ کیا جوں جوں مزدور آگے بڑهتے گئے پولیس کی گولیوں کی بوچهاڑ ان کے سفید پرچم کو سرخ کرتی گئی اور پهر وہی سرخ رنگ آفتاب کی تیز روشنی مانند مزدوروں کے لیے انقلابی جدو جہد کے راستے کا مینارہ نور ثابت ہوا اور تا دم مرگ مظلوم کی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے اور مزدوروں کو متحد کرنے میں اہم کردار ثابت ہوا ہے مزدوروں کی بین الاقوامیت تک سرخ پرچم لہراتا ہی رہے گا- اس وقت کے اور موجودہ دور کے تضادات میں مزدور کا تاریخی کردار ہمیشہ سماج پہ حاوی رہا ہے –
مزدور کی محنت ہی امیر طبقے کی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے – طبقاتی نظام میں ایک مزدور کی زندگی جہنم سے کم نہیں ہے زیادہ تر ممالک میں مزدور 18 گهنٹے کی ڈیوٹی کرتے ہیں اور انتہائی کم پیسے کما پاتے ہیں جس سے اپنا پیٹ پالنا مشکل ہو جاتا ہے بچوں کے اور گهر کے اخراجات پورے کر نے کے لیے اوور ٹائم محنت درکار ہوتی ہے دنیا بهر میں بے روزگاری کی بڑهتی ہوئی شرح بڑی بڑی کمپنیوں کی پرائویٹائزیشن عالمی منڈیوں میں چند افراد کی اجارہ داری اجناس کی زخیرہ اندوزی اور مصنوعی بحرانات پیدا کر کے محنت کشوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ کام کریں گے تو پیسہ کما سکیں گے جبکہ کارل مارکس کے بقول” ایک بچہ بهی جانتا ہے کہ اگر کوئی قوم چند ہفتوں کے لیے بهی کام چهوڑ دے تو اس کا خاتمہ ہو جائے گا ”
محنت ہی نابغہ ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں محنت انتہائی سستے داموں فروخت ہوتی ہے استحصالی طبقہ اپنا منافع حاصل کرنے کے لیے مزدوروں کی جان لینے سے بهی گریز نہیں کرتا غریب محنت کش کی محدود آمدنی میں سے آدهی آمدنی ٹیکس کی مد میں چلی جاتی ہے اوپر سے اجناس کی بڑهتی ہوئی قیمیتں مزدور کو ذلت کی گہرائی میں دهکیلتی نظر آتی ہیں ٹیکسٹائل ملز ہوں یا سیمنٹ کی فیکڑیاں ہوں یا کوئلے کی کانیں ہر جگہ مزدور اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے موت سے مقابلہ کرتا ہے تو کہیں کوئلے کی کان میں اپنی زندگی ختم کر ڈالتا ہے تو کہیں پہ مشینوں میں اپنے بازو کهو دیتا اور کہیں ٹانگوں سے ہاته دهو بیٹهتا ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مزدور کا مرنا عام سی بات ہے اگر باپ کسی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ اس کے کمسن بچے کو رکه لیا جاتا ہے -خواتین محنت کشوں کی حالت زار انتہائی ابتر ہے ایک طرف جنسی ہراسگی اور دوسری طرف گهریلو تشدد غریب محنت کش خواتین کی کڈنیپنگ ہو یا جنسی زیادتی اس پہ کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اگر کوئی غریب عورت ہمت کر کے انصاف کا دروازہ کهٹکهٹاتی بهی ہے تو اسے سپاہی سے لے کر اعلی آفیسر تک ہراس کرتے ہیں اسلامی معاشرے میں خواتین کو صنف نازک ہونے کے باوجود کولہو کے بیل کی طرح کام کرنا پڑتا ہے تب جا کہ اپنے بچوں کی روٹی بمشکل پوری کر پاتی ہے – مزدوروں میں خود کشی کا رحجان بڑهتا جا رہا ہے جو انتہائی تباہ کن ہے مزدور کے دم سے یہ دنیا کهڑی ہے اونچے اونچے محل تعمیر کرنے والا مزدور سڑک کنارے فٹ پاته پہ سونے پہ مجبور ہے اعلی ورائٹی کے کپڑے بنانے والا مزدور ننگے بدن گهومنے پہ مجبور ہے -نام نہاد ٹرید یونینز پورژوا ماہرین کے قدم سے قدم ملا کہ چل رہی ہیں مزدور کو اس کا حق دلانے کی بجائے اس کا حق غصب کر کے بهی خود کو بے گناہ ثابت کرواتی ہیں لیکن اس تمام تر صورت حال کے باوجود ایک لاوا ابل رہا ہے جو پیرس کمیون کی شکل میں ابهرے گا یا شکاگو کی مزدور تحریک کی صورت میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے زوال کی آخری حدوں پہ ہے اور پورژوا ماہرین اسے بچانے کے لیے مختلف پینترے بدل کے اس گهناونے راج کو قائم رکهنے کی کوشش میں ہیں – لیکن سلگتی ہوئی چنگاری ان دیکهی آفت کی طرح نمودار ہو کے سرمایہ دارانہ نظام کو تاراج کر کے مزدوروں کے راج کا راستہ ہموار کرے گی اور سوشلزم کی جدوجہد کو کامیابی کی طرف لے جائے گی آخری فتح حق کی ہو گی آخری فتح سچ کی ہوگی آخری فتح محنت کش کی ہوگی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں