356

کیا آزادی مارچ خود مکمل آزاد ہے؟

ازقلم:سردار جنید بہادر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جے کے ایل ایف نے آزادی مارچ نکال رکھا ہے جو لائن آف کنٹرول کے قریب پہنچ کر دھرنے میں تبدیل ہو گیا ہے. آزادی پسندوں کا کہنا ہے کے وہ بارڈر عبور کر کے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاہیں گے بے شک گولیوں سے ہی کیوں نہ استقبال ہو!

سردی ہے، خیمے ہیں، مشکل سے کھانے کا انتظام ہے. عورتیں ہیں، بچے ہیں، نوجوان ہیں اور حسبِ معمول لیڈران بھی ہیں تو ظاہر ہے تقریریں بھی ہیں.

ایک جذباتی سا منظر ہے. مگر اب ہوا کچھ یوں کے ہم تعریف تو کر لیتے ہیں مگر ایمان تو لا نہیں سکتے لہٰذا آزادی پسندوں کا جذبہ اور خلوص پر نہ ہی سوال کی گنجائش چھوڑتا ہے نہ ہی شک کی کوئی جگہ مگر لیڈران اور انتظامیہ تو سوالات سے نہیں بچ سکتے ہیں…

صلاح الدین کشمیر حزب المجاہدین و جہاد کونسل والے بابا لوگوں نے اس آزادی پسندوں کے مجمع سے خطاب مرا اور انھیں کشمیر کی آزادی کیلئے تیار کرنے کیلئے اپنی طرف سے پوری چِیک (زور) لگائی.

آزادی پسند ان کی تقریر ایسے سن رہے تھے جیسے تبلیغی مرکز میں طارق جمیل صاحب کا بیان چھ ماہ کے چِلے والے سنتے ہیں.

کچھ بھائی لوگ کو تو میں نے ہلتے یعنی جھومتے ہوئے بھی دیکھا ہے. (ہلنا ایک خاص طریقہ کار ہے جس میں سامعین، علماء کی تقریر پر اپنی ہی تشریف شریف پر دائیں بائیں ہلتے ہیں. تحقیق کے باوجود اس روایت کا پتہ نہیں چل سکا یہ کب اور کہا سے شروع ہوئی ہے. مگر کچھ سیانے کہتے ہیں اس سے علمی گفتگو کو جذب کرنے میں مدد ملتی ہے ایسے ہی جیسے چائے میں جوشاندے یا جام شیریں میں چینی وغیرہ کو ملانے میں ہلانے سے مدد ملتی ہے)

خیر صلاح الدین صاحب کی صلاحیتوں سے ہم سب واقف ہیں، تحریکِ آزادی کشمیر میں جہاد کے نام پر ہزاروں نوجوانوں کے خون سے آج بھی ان کا دامن آلود ہے. اگر جے کے ایل ایف والے ان کا دامن نچوڑ لیتے تو سب وضو بھی کر سکتے تھے.

لیجیے سوالات جن کی کھوج میں ہوں اگر کوئی جے کے ایل ایف والا جواب دے دیں تو ہم صلاح الدین پر اپنی اصلاح کر لیں گے.

صلاح الدین صاحب کی تقریر کیا paid content تھی یا جے کے ایل ایف والے لہوں گرمانے کیلئے انھیں بولا بیٹھے اور کیا “یہ” والی گرمی کی ضرورت بھی تھی؟

اگر یہ نوجوان آگے بڑھتے ہیں جام شہادت نوش کر لیتے ہیں تو کئی ان کو لاشوں پر جمع ہونے والا چندہ اگلے جہادی جتھے کیلئے استعمال تو نہیں ہونے جا رہا؟

عام آزادی پسند کشمیری تو جذبے اور اپنے کشمیری بھائیوں کیلئے بیٹھا ہے لیڈران بھی کیا اپنی مرضی سے بیٹھے ہیں، اس جلسے کی انتظامیہ جے کے ایل ایف کے پاس ہے یا کسی سرکاری ادارے کے پاس ہے؟ اور کیا یاسین ملک کو پتہ ہے؟

کئی کشمیر پھر کسی پراکسی جنگ میں استعمال ہونے والے ایندھن کا کباڑ خانہ بنانے تو نہیں جا رہا؟

اس دھرنے یا لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی مہم جوئی میں کس کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے کیا بیٹھنے والے نتائج تک دیکھ بھی سکتے ہیں یا فلحال آزادی کی محبت میں ارادہ خودکشی کر چکے ہیں؟

صلاح دین کی تقریر سے کئی یہ بات تو نہیں پتہ چل رہی کے جے کے ایل ایف بالخصوص اور آزادی پسند کشمیری بالعموم ابھی تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کے جنگ ان کے مسلے کا حل نہیں ہے.

کسی لیڈر کا موڈ بنے تو انھیں لائیو بھی لیا جا سکتا ہے. ہم بس جوابات کے متلاشی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں