188

سانحہ کار ساز کو 12 سال بیت گئے،آنکھیں گنوانے والا جیالا آج بھی پر عزم

کراچی (مانیہ شکیل) کراچی میں بینظیر بھٹو پر ہونے والےحملے کو 12 سال بیت گئے ، 18 اکتوبر کوہونے والے کارسازسانحے میں متععد افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ ایک بزرگ شہری نے اپنی آنکھیں گنوادی تھیں وہ آج کل سڑک کنارے کولڈرنک فروخت کرتے ہیں۔
18 اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو شہید کی وطن واپسی پر کارساز کے مقام پر ہونے والے خوفناک سانحے میں150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور پانچ سو افراد شدید زخمی بھی ہوئے،اس سانحے میں پیپلزپارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو تو محفوظ رہیں لیکن کئی جیالے اپنی جان پارٹی پر قربان کرگئے۔ان زخمیوں میں ایک بزرگ خان بھی تھے جواس حادثے میں اپنی آنکھوں کی روشنی سے محروم ہوگئے ،تب سے ہی خان کراچی کےعلاقے طارق روڈ کے ایک مقامی قبرستان کے اطراف میں فریج لے کر فٹ پاتھ پرجوس اور کولڈرنک بیچتے ہیں۔
خان کاکہنا ہے کہ میرے تین بیٹے ہیں، کرائے کے گھر میں رہتا ہوں لیکن کسی سے مدد کی امید نہیں لگاتا۔بلا خوف ہوکراپنے تمام کام خود کرتا ہوں کسی کےسامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا اور صرف اللہ سے مدد مانگتا ہوں۔خان کامزید کہنا ہے کہ اپنے گھر کی کفالت کرنے کے لیے کوئی بھی کام کرنے میں عارمحسوس نہیں کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں