206

کشمیر پہ’یو ٹرن’ اور خفیہ ملکی اہداف

اطہر مسعود وانی
گزشتہ دنوں ‘جیو ٹی وی’ پہ سلیم صافی کے پروگرام ‘ جرگہ ‘ میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور حریت نمائندگان سید عبداللہ گیلانی، رفیق ڈار اور محمود احمد ساغر کے ساتھ پروگرام کی ریکارڈنگ کی گئی۔لیکن یہ پروگرام ‘ آن ایئر’ نہ کیا جا سکا۔اطلاعات کے مطابق ‘ جیو ٹی وی’ کو یہ پروگرام نشر کرنے سے روک دیا گیا۔شرکاء کی طرف سے پروگرام میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے کردار کے حوالے سے اظہار خیال کیا تھا۔یہ پروگرام دو حصوں میں نشر ہونا تھا تاہم ‘ جیو نیوز’ نے اسے نشر کرنے کے معذرت کر لی۔جیو نیوز کی مینجمنٹ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ کچھ وجوہات کے باعث پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تنقید نشر نہیں کر سکتے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر اور سینئر حریت رہنمائوں جیسی ذمہ دار شخصیات کی طرف سے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے گفتگو پر مبنی پروگرام کو پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہائوس سے نشر ہونے سے روکے جانے پر پاکستان انتظامیہ کی طرف سے کشمیریوں کو ایک منفی پیغام دیا گیا ہے ۔ کشمیریوں پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اظہار رائے پر اس طرح کی پابندی سے اس صورتحال کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں کشمیرکاز سے متعلق کشمیریوں کی گفتگو پاکستانی حکومت اور انتظامیہ کی ” حساس” اور ”نازک”طبیعت کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
ایسی متضاد سوچ کیوں اپنائی جاتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری انڈین فوج کی ظالمانہ کاروائیوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور آزاد کشمیر و پاکستان میں کشمیری آزادی اظہار پر پابندی کوخاموشی سے قبول کر لیں گے؟ یہ کشمیریوںکے آزادی اظہار کا معاملہ ہے جس پر انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں پابندی لگا رکھی ہے اور اب پاکستان کے وسیع تر مفاد کے خلاف ملکی انتظامیہ ایسا طرز عمل اپناتے نظر آ رہی ہے۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر کشمیر سے متعلق بے عملی کے بعد خاموشی اختیار کرنے کی نشاندہی خود پاکستانی شخصیات کی طرف سے بھی کی جا رہی ہے۔کشمیر کاز سے متعلق یوں غیر محسوس انداز سے ” یو ٹرن” لیا گیاہے کہ ”یو ٹرن” مکمل ہونے تک عام شہری یہی سمجھتے رہے ہیں کشمیر پر کوئی عمل کرنے کے لئے حرکت کی جا رہی ہے۔ایسے خوش فہموں کی بھی کمی نہیں کہ جو کشمیر کاز پر جمود کو بھی ایک موثر حکمت عملی سے تعبیر کر رہے ہیں۔اب ایک عام شہری بھی یہ سوچنے لگا ہے کہ آخر وہ کون سے خفیہ اہداف ہیں جن کی تکمیل کے لئے انتظامیہ پاکستان کو کشمیر کاز سے دستبردار کروا رہی ہے؟
پہلے ملک میں قومی اہداف واضح تھے۔پھر سازشوں کی دھول میں اپنی پہچان سے محروم ہونے لگے۔ پھر گم ہوگئے ،یا گم کر دیئے گئے۔ان کی جگہ ایسے خفیہ اہداف قومی مفاد قرار پائے جنہیں چھپا کر رکھنا ،عوام کو اس سے بے خبر رکھنا ہی ملک کا نصیب بنا دیا گیا۔ملک کے لئے ایسے خفیہ اہداف بھر پور طور پر چھپانے کی کوشش کے باوجود بے نقاب ہو رہے ہیں۔اس کے خد و خال نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ملک کے لئے لازم نظر آنے والے ان خفیہ اہداف کو حساس بھی سمجھا جاتا ہے کہ ان کی نشاندہی،ان کا نام لینا بھی ملکی مفاد کی منافی ہونا قرار دیا گیا ہے۔
کیاافغانستان کے حوالے سے کوئی نئی’ اسائنمنٹ ‘ زیر کار ہے ؟ کیا ہدف ‘ سی پیک ‘ ہے؟ کیا ایران کے خلاف کوئی کردار ہے؟ کیا انڈیا کے علاقائی کردار میں انڈیا سے تعاون کا ہدف ہمیں امریکہ کی طرف سے تفویض کیا گیا ہے؟کیا مشرق وسطی کی خطرناک کشمکش میں پاکستان کے بھی استعمال کا کوئی منصوبہ روبہ عمل ہے؟ آخر پاکستان کے ایسے کون سے خفیہ اہداف قومی مفاد ہیں کہ جو پاکستان کے روائیتی قومی اہداف کو قربان کر رہے ہیں ۔ جن کے متعلق نہ تو عوام کو بتایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی نشاندہی تسلیم کی جاتی ہے۔عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخروہ کون سے خفیہ اہداف ہیں جن کی تکمیل کے لئے انتظامیہ پاکستان کو کشمیر کاز سے دستبردار کروا رہی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں