136

ہیلو آفیسر شاہی اور گڈ گورننس ۔۔۔!

تحریر : حمزہ نصیر
نصب العین کوئی جنگ چھیڑنے کا نہیں ہے ، کچھ باتیں یاداشت کیلئے اشد ضروری ہوتی ہیں، ہم ستر سالوں سے اس ریاست کے نظام کی درستگی کا رونا رو رہے ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ آ ٹے میں نمک کا ذائقہ تو ملا مگر جو ملنا چاہئیے تھا وہ دن بہ دن دور ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے میں یو ں کہنا نامناسب نہیں ہو گا کہ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ، گنگا سے ہی آگے چلتے ہیں جیسے کشن گنگا جسے دریائے نیلم کہتے ہیں، اگر میں کہوں کہ یہ دریا مظفرآباد سے نیلم کی جانب بہتا ہے تو کیا آ پ اسے تسلیم کریں گے؟ ہز گز نہیں کریں ۔۔۔ ! تو میرے وطن کے باسیو آ پ اس ریاست کے الٹے نظام کو کیسے تسلیم کر بیٹھے ہیں؟ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
” تمھیں خبر تو ہے دشمن کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے”
در اصل اس شعر کو شاعر نے خالصتاً ہم جیسے مفاد پرستوں کیلئے لکھا ہے، اگر ہم اس کی تشریح میں جائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم سب ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں، ہم سب ہی اس ریاست کے دشمن ہیں، اچھا اگر دوست ہوں تو کیا بہتری کیلئے اقدامات نہ اٹھائیں؟ اور شریک جرم کا مطلب یو سمجھ لیجئیے کہ اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا ۔ بل واسطہ بلا واسطہ ہم سب ہی مفاد پرستی کے عالم میں ہیں ۔عام طور پر ہم ایک جمہوری ریاست کے باشندے کہلاتے ہیں جہاں پانچ سالوں کے بعد مختلف پارٹیاں عام انتخابات کے ذریعے حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں، باریاں بدلتی رہتی ہیں وقت گزرتا رہتا ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ الیکشن سے قبل کیئے گئے وعدے الیکشن کے بعد کیا معانی رکھتے ہیں ، خیر ایک لمبی بحث کو درکنار کرتے ہوئے اصل مدے کی طرف آ نے کی کوشش کرتا ہوں ۔ موجودہ حکومت نے بھی الیکشن سے قبل کچھ وعدے، کچھ ایجنڈے سامنے لائے تھے، ایسا بھی نہیں ہے کہ اس دور حکومت میں کام نہیں ہوئے مگر گڈ گورننس کیلئے جو اقدامات ہونے چاہئیے تھے وہ کہاں ہیں؟ بظاہر عام سے بات ہے مگر اس کے سد باب نمایاں اثرات پوشیدہ ہیں، جیسے موجودہ حکومت والی پارٹی کا الیکشن سے قبل ایک ایجنڈا یہ بھی تھا کہ تھانوں میں لا گریجویٹ بندے تعینات کیئے جائیں گے ۔۔۔! کوئی بتائے گا کون سے تھانے میں تعینات ہوئے؟ دوسری اور اہم بات جو ہماری بیوروکریسی کو ناگوار گزرے گی مگر معذرت کیساتھ ایک عام آ دمی کے سوچنے کی بات ہے کہ بیوروکریٹ پی ایس سی یا سی ایس ایس کا امتحان پاس کر نے کے بعد محکمہ جات میں آ تے ہیں اور بلا شبہ یہ لوگ ریاست کی کریم کہلاتے ہیں کیونکہ یہ امتحانات پاس کرنا عام آ دمی کے بس کی بات نہیں ہوتی، اب چلتے ہیں ہم ان کے اختیارات کی طرف؟ جیسے نائب تحصیل داران، تحصیل داران، اے سی صاحبان، ان لوگوں کو مجسٹریٹ کا درجہ بھی دیا جاتا ہے، جیسے اے سی صاحب مجسٹریٹ درجہ اول بھی کہلاتے ہیں، شہروں اور تحصیلوں کے تمام تر معاملات کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد کر دی جاتی ہے جبکہ ڈی سی صاحبان پورے ضلعہ کے والی وارث ہوتے ہیں اور کمشنر صاحب ڈویژن کے ۔۔۔ کوئی مجھے یہ بات بتائے کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات پاس کر کہ اس محکمہ میں آ نے والے کتنے افراد لا گریجویٹ ہوتے ہیں جو مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہیں؟ مثال کے طور پر جب پولیس نکس امن میں دو فریقوں کو گرفتار کرتی ہے تو انھیں مجسٹریٹ درجہ اول یعنی متعلقہ تحصیل کے ایس ڈی ایم صاحب کے پاس پیش کرتی ہے ۔ اب ایس ڈی ایم صاحب لا گریجویٹ ہیں یا نہیں؟ وہ کیسے ایک جج کہ اختیارات استعمال کر رہے ہیں؟ کیا آ پ نے کبھی سوچا یہ ریاست ترقی کیوں نہیں کر رہی؟ کیونکہ یہاں رائیٹ مین فار رائیٹ جاب کا کھاتا ہی گول ہے !
دوسری جانب اگر ہم بات کریں ریاست میں آ ئی ٹی بورڈ کی جس کہ پاس نہ تو فنڈز کی کمی ہے اور نہ ہی مہارت کی تو یہ محکمہ مال کے ریکارڈ کی آ ٹومیشن کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر ڈڈیال میں ہو سکتی ہے تو باقی جگہوں پر کیوں نہیں؟ کہیں بیوروکریسی کو یہ خطرہ لاحق تو نہیں کہ پٹواریوں والا نظام ختم ہو جائے گا؟ پھر ان کے در پہ کون آ ئے گا؟ کیا عوام کا حق نہیں کہ گھر بیٹھے اپنی زمین کا خسرہ نمبر درج کر کہ وہ اس کی نقل حاصل کر سکیں؟ یا کہیں یہ خطرہ ہے کہ چند روپے مالیت کے نقل کے حوض ہزاروں ہروپے ہاتھ سے نکل جائیں گے؟ ایسے ہی ڈومیسل کے بدلے سینکڑوں روپے بھی ہتھیانے کا موقع نہیں ملے گا؟ اور ایک اہم بات کہ پوری دنیا میں دیکھ لیں بلدیہ کیا کام کرتی ہے؟ اس کے کیا اختیارات ہوتے ہیں؟ اور ہماری ریاست میں بلدیہ کو کیا اختیارات دیئے گئے ہیں اور وہ کیا کام کر رہے ہیں؟
کیا کہا تھا میں نے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ۔ تو آ پ اس الٹی گنگا کو کیوں تسلیم کر بیٹھے ہیں؟ جناب وزیراعظم آ پ اپنے اس ایجنڈے پر کب غور کریں گے؟ آ پ کب گڈ گورننس کی مثال قائم کریں گے؟ ہماری کیا مجال مگر آ پ ہی کی کابینہ کے سینیئر وزیر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب کابینہ سے زیادہ بیوروکریسی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ پوچھنا یہ تھا کہ قانوں سازی اسمبلی نے کرنی ہے یا بیوروکریسی نے؟ اور اب دیکھنا یہ ہے انصاف کے متلاشی عوام الناس اس اہم مسئلے کو اقتدار کے ایوانوں میں کیسے منواتے ہیں ، یاد رکھیں جب تک رائیٹ مین فار رائیٹ جاب نہیں ہو گا تب تک نہ تو یہ ریاست راہ راست پر آ سکے گی اور نہ ہی ہمیں انصاف ملے گا ۔ ۔ ۔ کہنے کو تو ہم بڑے تیس مار خان ہیں اب عملی طور پر ہم کیا ہیں یہ ہم نے ثابت کرنا ہے، ہم جمہوریت کے قائل ہیں آفیسر شاہی کے نہیں ، سوال کرنا ہماری جمہوری
حق ہے، اور آ پ لوگوں کو ہم نے اقتدار کے ایونوں تک اس لیئے نہیں پہنچایا کہ آ پ شریک جرم ہو کر مخبری کریں یعنی کہ باری باری اقتدار کے مزے لوٹیں اور پھر اگلی باری کا انتظار کریں ویسے تو اپوزیشن جماعتیں بھی اس اہم مسئلے کو زیر بحث لائیں تو کوئی گنا ہ نہیں ہاں مگر آ فیسر شاہی کی ناراضگی کا ذمہ آ پ کا اپنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں