111

پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے میں تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے، جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیرمین جسٹس(ر) علی نواز چوہان نے کہا کہ ریاست پاکستان کی جانب سے تنازعہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے میں تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے۔ ریاست کو اس معاملے میں وضاحت کرنی چاہیے۔
یہ بات انہوں نے لیگل فورم فار اوپریسڈ وائسز آف کشمیر (ایل ایف او وی کی) نامی تنظیم کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قانون دانوں اور منصفین کے ایک روزہ سمینار سے خطاب کے دوران کہی۔ سیمنار کا عنوان ‘کشمیر: قانونی اور سیاسی اداروں کی لاقانونیت کی کہانی’ تھا۔ سیمینار میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو درپیش قانونی اور سیاسی مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیکر ان مشکلات کو قانون و انصاف کے عالمی اداروں تک لے جانے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے شرکاء نے اپنی تجاویز پیش کیں
سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائیٹس پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) علی نواز اعوان کے علاوہ سابق چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ و چیئرمین ایسوسی ایشن آف دی پیپل آف جموں اینڈ کشمیر جسٹس (ر) سید منظورحسین گیلانی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان محمد عابد راجہ ایڈوکیٹ، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و نائب صدر پاکستان بار کونسل کامران مرتضٰی ایڈوکیٹ، سپریم کورٹ کے وکلاء فصیح الدین وردگ، بیرسٹر افضل حسین جعفری، سابق وزیر آزاد کشمیر فرزانہ یعقوب، پی ایچ ڈی سکالر رافیہ ایڈوکیٹ اور ایل ایف اووی کے کی ریسرچ ایسوسی ایٹ لائیبہ امجد شامل تھیں۔
مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں پون صدی سے جاری ہندوستان کے غیرقانونی قبضے اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ جسٹس علی نواز چوہان جو خود دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے جج اور گیمیبیا کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں نے زور دیا کہ کشمیریوں کا ایک گروپ تشکیل دیکر اسے فلسطینی گرپووں کی طرح اقوام متحدہ میں تسلیم کروایا جائے جو وہاں کشمیریوں کی نمائندگی کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں جدوجہد آزادی کو جوازیت مہیا کرتی ہیں لیکن جب بات اس تنازعے کے قانونی پہلوں پر آتی ہے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان ایک آزاد ملک اور تنازعہ کشمیر کا اہم فریق ہونے کے باوجود اس تنازعے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے میں کیوں ناکام ہے۔ ان کہ بقول یہ ایک پراسرار معاملہ ہے۔
اگر گیمیبیا میانمارکے معاملے میں عالمی عدالت انصاف تک جا سکتا ہے تو ریاست پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو اسی عدالت میں کیوں نہیں لے جا رہی پاکستانی حکام کو اس معاملے کی وضاحت لازمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عالمی قوانین خاص طور پر جینیوا کنونشن کے آرٹیکل 42 کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
سیمینار کے دیگر مقررین نے بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی ادارے مقبوضہ کشمیر میں انسانی صورتحال کا نوٹس لیں اور اس کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس معاملے پر عالمی رائے عام کو متحرک کرنے اور کشمیرکی تحریک کو درست سمت میں موڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین نے زور دیا کہ میڈیا اور نوجوانوں کو شامل کر کے تنازعہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اس ساری سازش کے پیچھے چھپی طاقتوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بہر صورت قانونی راستہ اختیار کرنا پڑیگا۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جنگی جرائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ سیمینار کے آخر میں دو تحقیقی رپورٹس بھی جاری کی گئی جن میں سے ایک کا عنوان ‘ کشمیر پر طویل قبضے کا مقدمہ’ اور دوسری رپورٹ کا عنوان ‘کشمیر کا سوال: اسلامی قوانین کی تناظر میں’ ہے۔ سیمینار کی نقابت ناصر قادری ایڈوکیٹ نے کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں