112

چھت بھی اُڑ گئی

تحریر:محمد شمریز خان
”آپ لوگوں کی مدد کے قابل اب نہیں رہی“ اپنی اولاد کیلئے والدہ کے یہ الفاظ وفات سے چند روز پہلے کے ہیں۔ذندگی کے نشیب و فراز میں اولاد کی مدد،خدمت اور ہر دکھ درد سہنے والی میری ماں کو کیا یہ یقین تھا کہ عمر کے آخری حصے میں بھی میری اولاد اس قابل نہیں ہو گی کہ زندگی کے آخری ایام میں میرا سہارا بن سکے یا وہ اولاد کو خدمت یا مدد کی آزمائش میں ڈالنا ہی نہیں چاہتی تھیں؟مامتا کا احساس یا ادراک رکھنے والوں کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ماں آخری سانس تک تو اولاد کو ”چاہے وہ عمر کے کسی حصے میں بھی ہوں“پالنے کے فریضے سے دستبردار ہونا ہی نہیں چاہتی ”سو“میری ماں بھی ہمیں پالتے پالتے ہی دنیا سے پردہ فرما گئیں۔ان کا دنیا سے اس طرح چلے جانا شاہد ان دعاؤں کا اثر تھا جن میں وہ ہمیشہ محتاجی سے پناہ مانگتیں اور دعا کرتیں کہ اللہ چلتے پھرتے ہی دنیاسے اٹھا لے ”امی بوجی“نے جس سادگی اور خاموشی سے ذندگی گزاری 27جنوری”پیر کی شب“اسی سادگی اور خاموشی کیساتھ چند ساعتوں میں ہی ذندگی کے سب سے طویل سفر پر روانہ ہوئیں اور جہاں کے ُاس پار اُترگئیں ”ان للہ و ان الیہ راجعون“والدہ کی پیدائش کا صیح سال تو معلوم نہیں ہو سکا کیونکہ جس دور میں میری ماں نے آنکھ کھولی سن پیدائش لکھنے بلکہ اہل دیہہ تو لکھنے پڑنے کے جھنجھٹ سے بھی آزاد تھے ”اکا دُکا سکولوں میں بچوں کے قد کاٹھ سے ہی عمر کا اندازہ کر کہ نام درج کر دیا جاتا”والدہ نے البتہ مقامی مسجد سے ہی قرآن اور اُردو پڑھنا سیکھ لیا تھا“اپنی عمر سے متعلق پوچھنے پر بتاتیں کے 1947ء کی بغاوت کے وقت ان کی عمر 10،11سال ہوئی ہو گی۔اُس وقت وہ اس قابل تھیں کہ اپنے چھوٹے بھائی کو بمشکل ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جاتیں۔جنگ میں قُرب و جوار کا احوال اچھی طرح ان کے ذہن نشین تھااس مناسبت سے ان کی عمر کا اندازہ لگایا جائے تو پیدائش پچھلی صدی کی چوتھی دھائی کے درمیان ہو ئی ہو گی اور یہ دورانیہ 80سال سے زائد بنتا ہے۔ایک نیک سیرت اور مفلوک الحال گھرانے سے تعلق نے انھیں انتہائی صابر و شاکر،دیندار اور انتھک محنت کی حامل خاتون بنا دیا تھا۔یہی صفات زندگی کی آخری سانس تک ان میں موجود رہیں۔موجودہ دور میں اشیائے خورد و نوش اور دوسری آسائش زندگی کی فراوانی سے وہ ہمیشہ اکتاہٹ کا اظہار کرتیں۔وہ بتاتیں کہ ایک سال اناج کی قلت کے باعث میرے والدین کو مکئی اس شرط پر ادھار لینا پڑی کہ آئندہ فصل کی کٹائی کے بعد لوٹا دینگے اور اس سال مکئی کی فصل ہی اتنی ہوئی کہ جس سے محض قرض چکایا جا سکا۔والدین نے اللہ کا شکر ادا کیا اور تما م فصل قرض کی ادائیگی میں دے دی۔میں اکثر والدہ سے گزرے وقت میں معاشی تنگدستی،انسانی آسائش کیلئے سہولیات کی عدم دستیابی کے متعلق اور ایک دوسرے کیساتھ انسانی ہمدردی اور صلہ رحمی کے جذبات کے بارے میں سنتا رہتا تو آج محسوس کرتا ہوں کہ شاہد انسانی قدروں کی پہچان ایسے ہی حالات میں ہوتی ہو۔میں نے امی کو کبھی اہتمام کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا۔مکئی کی روٹی کے ساتھ ساگ،لسی یا چائے ان کی محبوب غذا رہی۔کبھی کسی مخصوص کھانے کی خواہش کا اظہارنہ کرتیں جو ملتا کھا لیا۔البتہ اولاد کیلئے وہ غزائیت سے بھر پور خوراک کا خصوصی اہتمام کرتیں۔گھر میں بنایا میرے حصے کا گھی یا مکھن وہ راولپنڈی بھی پہنچادیتیں۔
امی کا دس بہن بھائیوں میں ساتواں نمبر تھا۔نانا، نانی کی اولاد کی فصل میں والدہ کا کردار ہمیشہ ایک پل اور جج کا نظر آیا۔بہن بھائیوں میں کبھی کو ئی بھی مسلہ لیکر آتا تو ”امی بوجی“اسے انتہائی سادگی اور پر وقار انداز میں حل کر دیتیں۔میں نے کبھی بھی اپنے کسی ماموں یا خالہ کو والدہ کی بات سے رو گردانی کرتے نہیں دیکھا یا سنا! یوں وہ اپنے بہن بھائیوں میں باہمی ربط قائم رکھتیں۔ہم بھائیوں کے دوست احباب کا وہ اپنی اولاد کی طرح ہی خیال رکھتیں۔مجھے یہ احساس آج پہلے سے بڑھ کر ہے کہ والدین کا سایہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔مئی 1994ء میں والدکم و بیش90 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو ئے۔سخت گیر رویے اور مزاج کے باعث والد سے خاص رغبت اور قربت نہ تھی کسی بھی مسلے پر ان کا سامنا کرنے،اپنی بات منوانے یا اپنی بات کے حق میں دلائل دینے کی ہمت ہی نہ ہو تی باالخصوص کسی غلطی پر سامنا کرنے پر تو گویا جان ہی نکل جا تی۔لیکن والد کے انتقال پر محسوس ہوا کہ ذندگی میں احساس تحفظ دلانے والی دیوار ہی گر گئی۔ایسا لگا کہ اب وہ طوفان و بلائیں جن سے محفوظ تھا اسی راستے سے ہی گزریں گی۔لیکن وقت گزرنے کیساتھ محسوس ہوا کہ والدہ نے وہ دیوار ایک مرتبہ پھر کھڑی کر دی۔ احساس تحفظ کی عمارت ایک بار پھر تعمیر کر دی۔لیکن آج پھر محسوس ہو رہا ہے کہ اب تو سر سے”چھت بھی اڑ گئی“ ہے اب بارش کیساتھ اولے بھی بر سیں گے جن سے تحفظ کی کو ئی سبیل نظر نہیں آتی لیکن ایک ہستی ہے جو قائم و دائم ہے جسے ”رب“کہتے ہیں جو ستر ماؤں کی کل محبت سے بڑھ کر اپنے بندے کا خیال رکھتا ہے شاہد لفظ ”ماں“بھی پروردگار کی صفت سے ہی ما خوز ہے۔اب میرے گرد دعاؤں کا وہ حصار تو نہیں رہا جسے والدہ کے پروردگار کے حضور اٹھے ہاتھ بناتے تھے۔میں نے زندگی میں ان دعاؤں کے اثرات کو شدت کیساتھ محسوس کیا ہے۔والدہ نے کبھی دولت کی خواہش کی نہ کبھی دعا۔ایک مرتبہ سوال کیا میرے حق میں دعا کیجئے، جواب دیاکہ ایسی دعا نہیں کرسکتی جس سے کسی کی زات متاثر ہو۔والدہ کے اس جواب نے انسانیت کی معراج کو سمجھنے میں میری مدد کی۔ میں ان سے زیادہ دعاؤں کیلئے اس نہیں کہتا تھاکہ شاہد وہ سمجھیں کہ میں مشکل میں ہوں۔اُولاد کی مشکل اور پریشانی کے احساس کا ”درد“ماں کی بے چینی سے لگانااولاد کیلئے یقینا مشکل کام نہیں۔راولپنڈی میں ایک مرتبہ رات کے پچھلے پہر دفتر سے گھر پہنچا تو والدہ کو بستر پر بے چین پایا ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ رات بھر سو نہیں سکیں۔میں نے پو چھا کہ نیند نہیں آئی کیا؟جواب سوال کی صورت دیا کہ دفتر کے یہ اوقات تبدیل نہیں ہو سکتے کیا؟وہ چاہتی تھی کہ دفتری اوقات صبح یا دوپہر کے ہوں تو مجھے سہولت ہو اور رات میں سونا ممکن ہو سکے۔میں نے کہا کہ رات کے اوقات کا انتخاب میں نے رضا کارانہ طور پر کیا ہے میں نے اپنی ملازمت اور دفتری اوقات کے حق میں دلائل سے انھیں مطمئین کرنے کی کوشش کی۔کہنے لگیں ایسی نوکری سمجھ سے بالا تر ہے جس میں رات کو سویا بھی نہ جا سکے۔میں نے والدہ کے اس احساس کی تکلیف کو اپنی روح میں محسوس کیا اور اسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ جب بھی موقع ملا ان کی خواہش کے احترم میں ان جگ رتوں سے جان چھڑاؤں گا اور جب اس صورتحال سے باہر آیا تو احساس بھی نہ ہوا۔والدہ کی ذندگی مال و دولت کی خواہش اور ظاہری وضع قطع سے بے نیا ز رہی کبھی بھی نئے کپڑے پہننا پسند نہیں کیا۔حتیٰ کے عید کے موقع پر بھی وہ اہل خانہ کے اصرار پر محض دو،تین گھنٹوں بعد ہی نئے کپڑے تبدیل کر کہ پرانے ہی پہن لیتیں۔نئے کپڑوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہو ئے کہتیں!میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب کپڑوں کو پیوند لگانے کیلئے بھی کپڑا دستیاب نہیں ہو تا تھا۔آخری سانس تک تین چار کپڑوں کے جوڑے،دو جوتے اور ایک قرآن پاک ان کی زندگی کا کل اثاثہ رہے۔ البتہ پالتو جانوروں سے ان کا لگاؤ غیر معمولی تھا بالخصوص گھر میں ہمیشہ موجود ایک اچھی بھیس بھی ان کی ذندگی کا حصہ بن کر رہتی۔بھینس کے معیار پر کبھی کمپرمائز نہ کرتیں۔کبھی کسی نے نہ سنا ہو گا کہ ” بُوجی“ کی بھینس لاغر و نحیف ہے۔بھینس کی ضرورت اور خوراک کا وہ اولاد کی طرح خیال رکھتیں۔تحریر کی طولات سے بچنے کیلئے میں ایسے واقعات کو قلمبند نہیں کرتا لیکن ستائیس جنوری کے روز ہم نے والدہ کی بھینس کی آنکھوں سے پانی کی طرح آنسو گرتے دیکھے۔یقینا یہ اپنائیت کا احساس ہے جو انسان تک ہی محدود نہیں۔بس کسی کو اہمیت دیکر دیکھیے۔میرے لئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ والدہ اولاد کے حوالے سے خوش قسمت تھیں یا نہیں انھوں نے ساری عمر تو خود انحصاری میں ہی گزاری۔کبھی بھی اولاد کے سہارے کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کیا۔پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی بھیڑ میں بہت خوش اور مطمئن رہتیں۔عمر کے آخری حصے میں بھی وہ بڑوں،بچوں و نوجوانوں کیساتھ ان کی طبیعت کے مطابق مذاق کرتیں۔پوتوں میں سے کبھی کوئی چھیڑ خانی کر کہ پوچھتا کہ دادی دادا کے بارے میں کچھ بتائیں تو دلہن کی طرح شرما جاتیں پھر دادا سے متعلق بچوں کو ان کی زندگی کے متعلق کسی واقعہ کے بارے میں بتاتیں۔گھر میں کسی اونچ نیچ پر کسی کو ڈانٹ دیتی تو فقط اتنا ہی کہتی اللہ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے جس نے آپ لوگوں کو اولاد کی دولت سے نوازا ہے۔کسی بھی خوشی یا پریشانی کے موقع پر وہ مخصوص انداز میں ہی رد عمل کا اظہار کرتیں۔کبھی بھی کھل کر خوشی کا اظہار کیا نہ پریشانی کا۔ان کی ذندگی میں ہی ان کے بڑے و چھوٹے بھائی یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہوئے جن سے ان کو بہت لگاؤ تھا لیکن کبھی بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ایسے مواقعوں پر وہ نماز کے بعد خصوصی دعائیں مانگتیں۔البتہ کوئی نوجوان عزیز پردیس میں چلا جاتا تو بہت دکھی ہوتیں اور اس کیلئے خصوصی دعا کرتیں کیونکہ انھیں اپنے لئے بھی گھر سے دور رہنا بہت مشکل لگتا تھا۔مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں سے خصوصی رغبت تھی۔مسجدمیں جمعہ کا خطبہ وہ بڑے اہتمام کے ساتھ سنتیں۔مسجد کے امام بھی اکثر خبر گیری کیلئے تشریف لاتے تو ان کے وعظ پر ان کا خیر مقدم کرتیں۔جب مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے خطبے پر پابندی عائد کی گئی تو اس حوالے سے خصوصی طور پر دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ اب مسجد میں تقریر نہیں ہوتی۔ہماری ضروریات کا وہ ابھی تک کم سن بچوں کی طرح خیال رکھتیں۔میں جب بھی راولپنڈی کیلئے گھر سے واپس نکلتا بیگ میں کھانے کی کوئی نا کوئی چیز رکھ دیتیں میں منع کرتا تو کہتیں کہ چھوٹے بچے گاؤں سے واپسی پر کسی دیسی چیز کے انتظار میں رہتے ہیں۔یہ سمجھنا میرے مشکل ہے کہ اولاد، پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں میں وہ کیسے ہر ایک تک برابر حصہ پہنچا دیتیں۔وفات سے چند روز قبل میں اجازت لیکر گھر سے نکلا اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ میں ہفتہ وار چھٹی کے موقع پر اس مرتبہ راولپنڈی جاؤں گا۔اجازت دیکر مجھے رخصت کر دیا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے میرے بیگ میں کوئی چیز نہیں رکھی تھی میں گھر سے نکل کر چند قدم چلا ہی تھا کہ آواز دیکر واپس آنے کو کہہ کر گھر کے اندر چلی گئیں اور اندھر سے آخروٹ کا تھیلا اٹھا کر باہر لائیں۔عمر کے آخری چند ماہ یاداشت بہت کمزور ہو چکی تھی لیکن کیسی ہے یہ پیٹ کی آگ جسے اولاد کہتے ہیں دماغ سے ہر چیز مٹ تو سکتی ہے لیکن اس کی ضرورت یا مدد کا خیال پھر بھی رہتا ہے۔روح پرواز کر رہی تھی۔اچانک پیدا ہونیوالی صورتحال پربھائی گھبرا گئے اس وقت بھی حوصلے افزائی کے بول ہی زبان پر تھے اورزبان اور اشارے سے اتنا ہی کہہ پائیں کہ ”میں ٹھیک“پھر یوں محسوس ہوا کہ انتہائی اہتمام کیساتھ روح خود ہی جان آفریں کے سپرد کر دی ہو۔ابھی تو وقت خاصہ دور معلوم ہوتا تھا۔میں جانتا تھا کہ میرے متعلق ان کی کیا خواہشات ہیں۔میں ابھی اُن خواہشات کی تکمیل کے انتظار میں تھا۔لیکن رب کے فیصلے تو اٹل ہو ا کرتے ہیں۔یہاں مہلت کب ملتی ہے۔بڑی والدہ کے بعد والد اور اب امی جان بھی رخصت ہو چکیں۔مجھے نہیں معلوم کہ میں کہا ں کھڑا ہوں۔خوش قسمتی یا بد بختی تینوں نے خدمت یا سہارے کی آزمائش میں نہیں ڈالا”میں نے تحریر میں امی کے ساتھ لفظ”بوجی“لکھا ہے۔اس کی حقیقت یہ ہے کہ امی کے ایک بھتیجے ابتداء میں بولنے کی کوشش میں اپنی پھوپھی کو ”بوجی“کہتے۔یہیں سے والدہ کا نام ”بوجی پڑھ گیا تو چھوٹے بڑے سب بوجی کہنے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں