967

جہاں‌ایک جج کو انصاف نہیں مل رہا وہاں عام آدمی کا کیا حال ہو گا؟

راولاکوٹ(بیورورپورٹ) چار سال قبل دھمیال کیمپ راولپنڈی سے اغواہ ہونے والاراولاکوٹ کا رہائشی معصوم بچے سعد یوسف کا تا حال کوئی سراغ نہ مل سکا سعد یوسف کے والد ایڈیشنل سیشن جج راجہ یوسف ہارون نے صدر مملکت اسلامی جموریہ پاکستان ممنون حسین کو انصاف دلانے کے لیے خط لکھ ڈالا جس میں راجہ یوسف ہارون نے اپیل کی ہے کہ ان کا بیٹا سعد یوسف 16اکتوبر 2014 ؁ء کو دھمیال کیمپ راولپنڈی سے اغوا ہوا جس کی ایف آئی آر نمبر 664تھانہ صدر بیرونی راولپنڈی میں درج ہوئی مگر تاحال بچے کا سراغ نہ ملنا لمحہ فکریہ ہے

مملکت خدا داد پاکستان کی ایجنسیوں کا شمار دنیا کی بہترین ایجنسیوں میں ہوتا ہے بے شک دنیا کی عظم فوج اور ایجنسیاں مملکت خداد دا میں ہیں مگر افسوس کے GHQسے پندرہ منٹ کی مسافت پر واقع دھمیال کیمپ سے آٹھ سالہ بچے کے اغوا کا سراغ نہ لگایا جا سکا اسی دوران پاکستان کے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بچے بھی اغوا ہوئے جو بعد ازاں واپس لوٹ آئے لیکن میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟محض اس لیے کے میں ریاست جموں کشمیر کا باشندہ ہوں یا میرے جسم میں دل کی جگہ پتھر ہے میں نے بحیثت جج اور ایک دکھی باپ کی بحثیت میں مملکت خدا دا کے ہر دروازے پر دستک دی مگر بد قسمتی کے ہنوز شنوائی نہ ہوئی

چیف جسٹس آف پاکستان نے سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو انچارج بنایا جنھوں نے معاملہ پنجاب پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا پنجاب پولیس نے بچے کو بر آمد کرنے کے بجائے تین سال بعد کہہ دیا کہ بچے کو مار دیا گیا ہے اگر یہ خبر پولیس کو مل سکتی ہے تو پھر پولیس بتائے کے کس تاریخ کس ماہ اور کس جگہ بچے کو مارا گیا اگر مارا گیا تو میرے بچے کی لاش کہاں ہے میرا گماں یہ کہتا ہے کہ میرا بیٹا زندہ حیات ہے میرے بچے کی صدا مجھ تک روحانی طور پر کہہ رہی ہے کہ میں زندہ ہوں مجھے ظالموں سے چھڑاؤ میرا سوال یہ ہے کہ تین اعلیٰ شخصیات جن کے نام درج بالا ہیں ان کے بچے تو مل سکتے ہیں لیکن راقم ہنوز نم آنکھوں سے اپنے لخت جگر کا منتظر ہے مجھے داد رسی نہ ملنا شاید اس لیے ہے کہ میرا تعلق ایک چھوٹے علاقے سے ہے اور ایک معمولی جج ہوں

بچہ کس طرح اغوا کاروں کے ہاتھوں چڑھا کون لے گیا اغوا کاروں کا نیٹ ورک کہاں کہاں رہا اس نسبت تفتیش خاموش ہے اور یہ خاموشی اس لیے کہ پنجاب پولیس کے جوان اور آفیسر پیسے کھاتے ہیں پینتیس پینتیس لاکھ میں ملزمان سے سودا ہوا یک پولیس آفیسر نے خود بتایا کہ اس کی شکایت اعلیٰ پولیس آفیسران کو کی گئی مگر پولیس کے اعلیٰ اآفیسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی رنگے ہاتھوں رشوت لینے کے الزام میں ایک پولیس انسپکٹر گرفتار رہا مگر معطل یا سزا نہ دی گئی بلکہ مقدمہ ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

کیا میرا یہی قصور ہے کہ میرا بچہ کسی گورنر یا وزیر اعظم کا بیٹا نہ تھا جس کی بازیابی کے لیے ریاستی وسائل کو استعمال نہیں کیا جا سکتا میرا بیٹا بھی اس ملک کا بیٹا ہے جو آسمان کی طرف دیکھ کر یہ سوال کرتا ہو گا کہ آکر کیا ہوا اس کے ماں باپ کدھر گئے میں چیخ چیخ کر یہ صدا دیتا ہوں کہ کوئی عمر فاروق کا جانشین کوئی محمد بن قاسم کا پیروکار آئے جو مجھے انصاف دلائے میرا سب کچھ اپنے وطن پر قربان مگر اہل وطن کو کوئی احساس نہیں

راجہ یوسف ہارون نے صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ سب سے بڑے عہدے پر براجمان ہیں وہ دوجھنڈوں سمیت حکومت اور ملک دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں فوج اور ایجنسیاں ان کے ماتحت ہیں پولیس اور چاروں صوبوں کے گورنر ان کے ماتحت ہیں انسپکٹر جنرل پولیس ان کے ماتحت ہیں جناب صدر مملکت آپ نہ صرف میرا بچہ ڈھونڈ کر میرے حوالے کرنے کا حکم دے سکتے ہیں بلکہ اسے برآمد بھی کروا سکتے ہیں۔خدا راہ مجھے انصاف دلائیں ۔

جہاں ایک جج کے اہل و عیال کو تحفظ نہیں جہاں ان کی شنوائی نہیں ہو رہی وہاں عام آدمی کو تحفظ کیسے ملے گا یہ ہے عوام کے لبوں پر ایک سوال۔۔؟ جس کا کوئی بھی جواب دینے کو تیار نہیں

واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج راولاکوٹ راجہ یوسف ہارون کا آٹھ سالہ بیٹا سعد یوسف مورخہ 16 اکتوبر 2014ء ؁ کو راولپنڈی دھمیال سے اغوا کیا گیا تھا جسکی ایف آئی آر تھانہ صدر کی حدود رنیال چوکی میں درج کی گئی تھی اسی روز مردان کے ایک رہائشی پٹھان شریف اللہ کو گرفتار بھی کیا گیا تھا جسے پولیس نے رات کی تاریکی میں فرار کر دیا اور گرفتاری غلط قرار دی چونکہ ایس ایچ او ملک اللہ یار ملزم سے بھاری رقم وصول کر چکا تھا اور اس ا س سارے گھناونے کھیل میں ایس ایچ او ملک اللہ یار کو سی پی او راولپنڈی کی آشیر باد حاصل تھی بعد ازاں صوابی سے ملزم نے والدین کو کال کر کے تاوان طلب کیا جس ضمن میں سی ڈی آر نکال کر اس فون کو بھی زیر ضبطی لایا گیا اور ملزم کو کرم ایجنسی سے گرفتاربھی کیا گیا مگر گرفتاری راولپنڈی شو کی گئی گرفتاری کے دوران ملزم کو اس قدر رعایت دی گئی کے ملزم ضمانت کروا سکے اور ملزم ضمانت کروا کر بھاگ گیا

باوجود عدالت سے اشتہاری ہونے اور وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا حالانکہ آج بھی وہ ساول دھیر میں مقیم ہے بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو انچارج بنایا جنھوں نے معاملہ پنجاب پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا پنجاب پولیس نے بچے کو بازیاب کروانے کے بجائے تین سال بعد کہہ دیا کہ بچے کو مار دیا گیا ہے اگر بچے کی مرنے کی خبر پولیس کو مل سکتی ہے تو مارنے والے کی بابت کیوں کر معلومات نہیں ہیں کیوں مارا کس نے مارا اور کب مارا اس کی تحقیقات کیوں نہ کی گئیں بچے کی نعش کیونکر برآمد نہ کی گئی

راجہ یوسف ہارون اور انکی اہلیہ محترمہ غم سے انتہائی نڈھال میڈیا ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے انکی آنکھوں سے آنسو روا ں تھے وہ اپنی داستان غم بیان کرنے سے قاصر تھے ایک بیٹے کی جدائی کا غم اسکے والدین ہی سمجھ سکتے ہیں میڈیا ٹیم انکی داستان سنتے ہوئے خود آبدیدہ ہوگئے بچے کے والدین نے فریاد کی کہ مظلوم اور دکھی لوگوں کو انصاف دلانے میں میڈیا کا ہمیشہ کردار رہا ہے ہماری الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دلانے اور ہمارے بیٹے کو بازیاب کرانے میں میڈیا اپنا کردار ادا رکرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں