50

کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی

ارشاد محمود
یہ وہ سڑک ہے جو پچاس کی دہائی سے مسلسل زیر تعمیر ہے۔ آزادی سے پہلے پلندری سے ایک چھوٹی سی سڑک لچھمن پتن (موجودہ آزاد پتن) تک آتی تھی۔ دریائے جہلم عبور کرکے کہوٹہ تک لوگ پیدل سفر کرتے۔ رستہ اگرچہ دشوار اور خطرات سے پر تھا لیکن اورکوئی چارہ کار بھی نہ تھا۔
عوام کے مطالبے پر سڑک تو بن گئی لیکن دریا کے کنارے کی پسلتی زمین پر قابو پانے کا کوئی حل نہ نکالا گیا۔ ذرا سی بارش بھی سڑک تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بارشوں کا سلسلہ کبھی بھی اس علاقے میں رکتا نہیں۔ گزشتہ سات عشروں میں سینکڑوں لوگ اس ناہموار سڑک پر موت کے منہ میں چلے گئے۔ ہر برس درجنوں قیمتی مال گاڑیاں دریا برد ہوتی ہیں۔مفاد عامہ کے نام پرکروڑوں روپے تعمیر نو پر سرکار صرف کرتی ہے۔ اس کے باوجود دس بارہ کلومیٹر سڑک کا یہ ٹکرا ہنوز زیر تعمیر ہے۔
چین نے دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے کے بیچوں بیچ بلٹ ٹرین گزار کر تبت کے دارلحکومت لاسہ تک پہنچا دی۔ انڈیا پہاڑوں کا سینہ چیر کرکے سری نگر ریلوے لائن پہنچانے والا ہے۔ دنیا ان کے فن تعمیر کو عجوعہ قراردیتی ہے۔
ہمارا پرنالہ وہیں کا وہیں گررہاہے۔
حسرت اور رنج کی کیفیت میں سوچتاہوں کہ اپنی نالائقیوں اور نااہلیوں کا دوش کسے دوں؟ ؟ بسا اوقات گمان گزرتاہے کہ پالیسی ساز عوام کی زندگی اجیرن بناکر حظ اٹھاتے ہیں شہریوں کو راحت پہنچانےسے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ آزادپتن کی سڑک اس کی ایک چھوٹی سے مثال ہے۔ درجنوں ایسے مقامات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جہاں ہزاروں شہری روز خوار ہوتے ہیں۔ حکام پرمسافر شب و روز تبرہ کرتے ہیں۔ خلق خدا انہیں کیا کہتی ہے غائبانہ‘ کی انہیں پرواہ کہاں۔
گرمیوں کے موسم میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ پنجاب اور سندھ کی تپتی دھوپ سے بچنے کی خاطر راولاکوٹ اور اس کے گردونواح کے پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔ اگر محفوظ راستہ ہی نہیں ہوگا تو کون بنجوسہ کی سیر کو ٹرپے گا۔ کون اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال کر تولی پیر کی ٹھنڈی یخ ہوا کا لطف اٹھانے پہنچے گا؟
سینکڑوں گیسٹ ہاؤس جو سیاحوں کی مہمان نوازی کی خاطر حالیہ برسوں میں تعمیر کیے گے ان پر تالے پڑ جائیں گے۔ ہزاروں نوجوان بے روز گار اور خاندان فاقوں کا شکار ہوجائیں گے۔
؎ کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
تحریر: ارشادمحمود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں