182

قوت محبت سے ہر پست کو بالا کر دے

ازقلم:محمد پرویز خان
حضرت انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو جہاں اپنی کمزوریوں کے باعث اسفل سفلین کے مقام تک گر سکتی ہے وھاں اپنی خوبیوں اور فضائل کی بدولت فرشتوں پر بھی سبقت لے۔ جا سکتی ہے،،،،، انسان کی اصلاح کی خاطر ترتیب دیا جانے والا کوئی بھی ایسا نظام جس میں انسان کی شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں کو پیش نظر نہ رکھا گیا ھو ناقص ہے، ،ویسے تو میں فیس بک کی ان چیزوں پر قطا’ یقین نہیں رکھتا اور نہ ھی ان چیزوں میں کوئی صداقت ھوتی ہے، ،البتہ فیس بک پر میری پوسٹ جو محض ایک مذاق یا پھر دل بھلانے کے لئے چھوٹی سی گیم سے زیادہ کچھ نہ تھی ۔۔ دوستوں کی سنجیدگی اور سیر حاصل بحث نے اسے اہمیت کے حامل بنا دیا ہے جس کے باعث لفظ محبت نے مجھے کمال حسن خیال بخشا ہے بس اسی کو لے کر حاضر خدمت ھوں،، میری رائے میں محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ھوتی، یہ عطا ھے، یہ نصیب ھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ زمین کے سفر میں اگر کوئی چیز آسمانی ھے تو وہ محبت ھی ھے، محبت کی تعریف مشکل ہے، اس پر کتابیں لکھی گئیں افسانے رقم ہوے شعراء نے محبت کے قصیدے لکھے محبت کی کیفیات کا ذکر ہوا لیکن شا ید محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی،،، اس لیے میں بھی اس طبع آزمائی سے رہا ۔۔۔ اور نہ ہی سورج کو چراغ دکھانا کوئ عقلمندی ہے، اور نہ ہی میری ادبی صلاحیت اس کے اہل ھے، جی ہاں محبت سے آشنا ہونے والا انسان ہر طرف حسن ھی حسن دیکھتا ہے محبت کی کائنات جلوہ محبوب کے سوا کچھ اور نہیں، محبت انسان کو زمان و مکان کی ظاہری قیود سے آزاد کر دیتی ہے محبت میں داخل ہونے والا ہر داستان الفت کو کم وبیش آپنا ہی قصہ سمجھتا ہے وہ اپنے غم کا عکس دوسروں کے افسانوں میں محسوس کرتا ہے محبت زمین پر پاوں رکھے تو آسمانوں سے آہٹ سنائی دیتی ہے محبت میں دھڑکنے والے دل کے ساتھ کائنات کی دھڑکنیں ھم آہنگ ہو جاتی ہیں،، چونکہ میری محبت میرا سرمایہ میری بینائی میری زندگی میرا حاصل زندگی میری کائنات کل میرے دوست ہیں ، اور اگر محبت سچی ہو تو انسان کو اپنے وجود ہی میں کائنات کی وسعتوں اور رنگینیوں سے آشنائ ہوتی رہتی ہے مجھے افسوس ہے کہ میرے دوست میری وجہ سے دکھی ہو ئے چونکہ دوستوں کی بے لوث محبت کو کسی سر ٹیفکیٹ کی چنداں ضرورت نہ تھی بلکہ ان ہی کی فدایان محبت اور شفقت نے میرے دل میں شوق ۔ روح میں حزن والم۔اور دماغ میں فکر و غم کے چراغ روشن کیے ہیں اور اسی یقین کی روشنی سے میرا جسم منور ہوا ہے اب میں پورے وثوق اور تیقن سے یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ میری موت پر چالیس گواہوں کو ڈھونڈنا نہیں پڑے گا اس دنیا میں آپ سب لوگوں کی موجودگی میں مجھ پر کئی زمانے بیت چکے ہیں ۔۔۔۔ایک ایک لمحے میں مجھ پر صدیاں گزر گئیں کتنے جگ بیت گئے۔۔۔ مجھے جو کچھ ملا سب کے دم سے ملا۔۔ ۔سب ہیں تو ہم بھی ہیں ۔۔۔میری آج کی دعاوں کے الفاظ کسی اور کی زبان سے ادا ہوتے ہوتے میرے پاس آئے ہیں ۔۔۔میری آج کی سوچ بھی کتنے اذہان کا سفر کرتی کرتی مجھ تک آئ ہے۔۔۔ آپ سب سلامت رہیں تو میں سلامت ہوں ۔وہ جنت جس میں اپنے علاوہ کوئی نہ ہو، کسی دوزخ سے کم نہیں ہے جنت سب کی خوشی کا نام ہے سب کی عافیت کا نام ہے ،، یاد رہے کہ یہاں میں جس چیز کو کہتا ہوں وہ شاید میں نہیں، میں اپنے علاوہ بہت چیزوں کا نام ہے سچ پوچھو تو جنت میری عافیت کا نام ہے۔۔ احباب میری تکمیل کا ۔۔اور دشمن میرے ہی عزائم کا۔۔۔یہ سب نام ہیں میرے ہی ۔۔۔بس مختلف روپ ہیں، کیا تبدیل ہوتے رہنا ہی میرا کردار ہے ؟ کیا میں آپنا نصیب ہوں۔۔۔۔؟ کیا میں کسی اور کا نصیب ہوں؟ ۔۔۔کیا میں خوش نصیب ہوں ۔۔۔؟ کیا میں بدنصیب ہوں؟۔۔۔۔ میں بہرحال اپنے نصیب پر خوش ہوں ۔۔۔ میں اپنے حال پہ راضی ہوں ۔۔ دوستی سلامت رہے تو زمانہ سلامت رہتا ہے ۔۔ یہ ایک گہرا راز ہے کہ ہر شے دوسری شے کا آئینہ ہے دوری کسی قرب کے حوالے سے ہے فراق و واصال ایک ہی محبوب کی عطا ہیں طاقتور انسان کمزور انسانوں کی عنایت کا نام ہے ۔۔ہر محرومی ہر حاصل کے دم سے ہے۔۔ نیکی بدی کے حوالے سے اور بدی نیکی کے دم سے ۔۔جو ایک نہ بن سکا، اسے دوسرا بننا پڑا ۔۔جو یہ نہ بن سکا اسے وہ بننا پڑا ۔۔۔۔ہر فراز ہر پستی کا دوسرا نام ہے ۔۔۔۔۔غرض یہ کہ اگر میں نہ ہوتا تو ۔تو کیسے تو ہو جا تا ۔۔ازل نہ ہو تو ابد کیا ۔۔آغاز ہے تو انجام ہے ،نہیں تو نہیں ۔جس کا آغاز نہ ہوا ،اس کا انجام بھی نہ ہوا ۔چیزوں کے آپس میں رشتے بڑے مضبوط اور مربوط ہیں محبت اور نفرت ایک جذبہ ہے پسند کے باطن میں ناپسند کا ہونا ناگزیر ہے ۔ہم دوستوں کے دوستوں کو دوست سمجھتے ہیں اور ان کے دشمن کو دشمن، حالانکہ ہمارا ان سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا ۔میں اپنی قلم کو نفرت کے احساس سے دور رکھنا چاہوں گا چونکہ نفرت کی شدت زیادہ ہوا کرتی ہے اسلیے الجھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔البتہ لفظوں کے حجاب میں الزام کی تردید کرتے ہوئے پھر سے محبت ہی کو زیر بحث لایا جائے تو مناسب رہے گا۔میری نظر میں سوچ سے اعتقاد،پھر رویہ اورپھر احساس بدلتا ہے اور یہیں سے خیالات کا جنم ہوتا ہے اب ظاہر ہے جیسی سوچ ہو گی ویسے ہی خیالات بس ہمیں اپنی سوچ کو مثبت اور تعمیری بنانا ہے مجھے اپنے دوستوں کی بے لوث محبت پر کوئی شک نہیں میرے دوست تو معصوم ہیں انھیں کیا معلوم کہ یہ فیس بک کی چال ہے یہ تو گیم ہے بس دل بھلانے کے لئے آپ کے آپنے اختیار میں ہے چاہیں تو 100000 محبت والے ہوں اور ایک بھی نفرت والا نہ ہو اور اگر چاہیں تو میری طرح 1000 نفرت والوں کا دل جیت لیں۔اور محبت والے 69 میں اپنی پوزیشن اور جگہ نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کرتے رہ جا ہیں مجھے احساس ہے اس طرح کی مشق کوئی پسند یدہ عمل نہیں،، اور نہ ہی لائق تحسین ہے۔۔۔لیکن میں شکر گزار ہوں جدید ٹکنالوجی کا ،سوشل میڈیا کا ،بلخصوص فیس بک کا۔۔چونکہ یہی وہ ذرایع ہیں جن سے دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہوئی ۔۔۔ ۔۔اور یہی ذرایع ہماری محبت میں بقا اور سلامتی کا ضامن ٹھہرے ہیں ورنہ دنیا جہاں کے کونے کونے میں بکھرے موتیوں کو میں کیسے گلے کا ہار بناتا ۔۔۔۔۔انسان آپنی پسند کو حاصل کر لے ۔۔یا اپنے حاصل کو پسند کر، تو حسرت نہیں رہتی۔۔ اب مجھےکوئی غرض نہیں لو یا ھیٹ میں کیا فرق ہوتا ہے ۔۔۔قصہ ابھی تمام نہیں ہوا یہ پہلی قسط ہے اگر آپ کی خواہش یا حکم ہوا دوسری قسط جلد پیش خدمت ہو گی آخر میں فیض احمد فیض کی غزل کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔۔۔۔۔ آپکی محبت اور خلوص کا متمنی محمد پرویز خان ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں