60

کرنل کی بیوی

آوازِدل
تحریر سردار آفتاب عارف
میری اس سے کوئی شناسائی نا تھی میسینجر پہ ریکوسٹ آئی ریکوسٹ قبول کی آگے ایک خاتون کی شکل دکھائی دی اگنور کر ھی پہ تھا کہ نا چاھنے کے باوجود ویڈیو آن کی پھر ویڈیو روکنا بھول گیا کیونکہ ویڈیو تھی ھی ایسی ایک ادھیڑ عمر خاتون ایک نوجوان کے ساتھ کالے رنگ کی مہنگی کار پر سفر کر رہی تھی راستے میں پولیس نے بیرئیر لگا کر سڑک کو روک رکھا تھا پولیس یا فوج کا اہلکار جو ڈیوٹی پر مامور تھا اسے وہ خاتون اپنے پاس بلاتی ھے اس سے سڑک کی بندش کا دریافت کیا اھلکار نے جواب دیا کہ صوبیدار صاحب اس کا جواب دے سکتے ہیں اس کے جواب میں خاتون نے کہا کہ وہ کرنل کی بیوی ہیں اور صوبیدار کی ماں کی آنکھ ۔
خاتون اپنے بچے کو بار بار اصرار کر رہی ہیں کہ گاڑی کو آگے بڑھاؤ پھر خاتون خود گاڑی سے نیچے اتر آتی ہیں اور سڑک پر لگے بیریئر کو ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں پولیس کا وہ کمزور سپاہی ان کو روکنے کی کوشش کرتا ہے کبھی وہ ان کی منت سماجت تو کبھی صوبیدار صاحب صوبیدار صاحب کی آوازیں لگاتا ہے تھوڑی دیر میں ایک اور پولیس اہلکار جن کے کندھے پر لگی پٹی پر میں یہ نہ دیکھ پایا کہ کتنے سٹارز ہیں البتہ اتنا ضرور تھا کہ وہ سیول سروینٹ تھے خاتون بیرئیرکو نیچے کرنا چاہتی ہیں اور وہ ان کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں خاتون بار بار ان کو یہی کر رہی ہیں کہ میں نے آپ کو اپنا انٹروڈکشن کروا دیا اب آپ کی کیا مجال کے مجھ کو روک سکیں خاتون بیرئیر کو نیچے گرا کر اپنے ساتھ بیٹھے اس نوجوان کو جو نہ جانے ان کا ڈرائیور ہے یا پھر ان کی اولاد یا پھر کوئی رشتے دار پولیس پر کئے جانے والے غصے کے اسی عالم میں اس نوجوان کو حکم دیتی ہیں کہ گاڑی آگے بڑھاؤ آنے والا پولیس اہلکار ان کی گاڑی کے آگے کھڑا ہو جاتا ہے خاتون اسے حکم دیتی ہیں کہ اس کے اوپر گاڑی چڑھا دو مگر نوجوان نے گاڑی کو سٹارٹ نہ کیا یہ دیکھ کر خاتون خود ڈرائیونگ سیٹ کو سنبھال لیتی ہیں اور وہ پولیس اہلکار ان کی گاڑی کے آگے ڈرم رکھ کر ڈرم کے سامنے خود کھڑا ہو جاتا ہے خاتون ایک بار پھر گاڑی سے نیچے اتر آئیں اور ان کو گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تم پر ہاتھ اٹھا ہوں فرض شناس پولیس آفیسر گاڑی کے آگے کھڑا رہتا ہے خاتون ڈرم کو دھکیلتے ہوئے سڑک کی سائیڈ پر لے جاتی ہیں نوجوان ایک بار پھر ڈرام اٹھا کر سڑک کے بیچ رکھتا ہے خاتون نے ایک ہی جھٹکے میں ڈرم کو اٹھا کر سڑک کے پرے پھینک دیا ساتھ کھڑے کسی پولیس کانسٹیبل نےجلدی سے پھر ڈرم کو اٹھا کر سڑک پر رکھا مگر اس دوران وہ خاتون گاڑی سٹارٹ کر کے تیزی کے ساتھ آگے نکل جاتی ہیں اگر آپ نے ویڈیو کو ملاحظہ کیا وہ تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سڑک پر اس خاتون کی گاڑی کے علاوہ درجنوں گاڑیاں کھڑی دیکھ پائیں گے ہم تمام گاڑی مالکان میں سے کوئی بھی شخص نہ تو گاڑی کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی اسٹارٹ کرتا ہے خاتون کو اگلے ناکے پر روکنے کی ایک بار پھر ناکام کوشش کی جاتی ہے یہاں آپ کو یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مذکورہ خاتون گاڑی کے اندر بیٹھ کر اور گاڑی کے باہر کھڑی ہو کر بار بار خود کو کسی کرنل صاحب کی بیگم ظاہر کرتی ہیں اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا یہ ملک اشرفیہ کے لیے کیا یہ ملک آفیسر شاہی کے لیے بنا کیا اس ملک میں رائج قانون کی حیثیت کسی بڑے کے لیے تو دور کی بات اس کی بیگم کے جوتی کی نوک پر رکھی جانے والی کوئی چیز ہے کیا اس ملک کا قانون صرف اور صرف مجھ جیسے غریب شخص کے لیے ہے کہ جو غلطی سے اگر کسی بیرئیر سے ٹکرا جائے تو دس ہزار روپے جرمانہ بھر کر تھانے سے باہر آتا ہے میرا بھتیجا انتہائی سخت بیمار تھا اور آئی سی یو وارڈ میں زندگی موت کی۔ کشمکش میں تھا ہم سب لوگ بہت پریشان تھے اسی پریشانی میں میرا چھوٹا بھائی گاڑی لے کر اسلام آباد سے راولاکوٹ کی طرف روانہ ہوتا ہے اور میں راوالاکوٹ سے اسلام آباد کی طرف تاکہ راستے میں جہاں ہمارا ملاپ ھو ہم بچے کے لیے ای بی ایم فیڈ اکسچینج کر سکیں مجھ سے فیڈ لینے کے بعد میرا چھوٹا بھائی واپس اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجاتا ہے مگر راستے میں اسلام آباد کی حدود میں لگے ناکے پر پریشانی کے عالم میں گاڑی میرے بھائی کے ہاتھ سے بے قابو ہو کر اسی طرح کے بیریر کے ساتھ ٹکرا جاتی ہے میرے بھائی کو گاڑی سمیت تھانے میں منتقل کیا جاتا ہے حالنکہ میرا بھائی ڈیوٹی پر موجود اہلکاران کو بار بار بتا رھا ھے کہ میرا بچہ آائی سی یو میں ھے مجھے جانے دیں دیں مگر اس کی ایک نہیں سنی جاتی تھانے لے جا کر اس سے دس ہزار روپے جرمانہ وصول کرکے اسے گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے حالانکہ۔ میرے بھائی سے گاڑی غلطی سے بیریئر سے ٹکرائی تھی اور میرے بھائی نے معذرت بھی کی کہ میں رات بھر جاگتا رہا بچے کے پاس اور غلطی سے میری گاڑی بیریئر کے ساتھ ٹکرائی مگر کسی نے اس کی ایک نہ سنی کی کیوں اس لیے کہ وہ ایکسویلین شہری تھا مگر اس ویڈیو میں ایک خاتون نے اسی طرح کے بیریئر کو اٹھا کر نا صرف اپنے پاؤں تلے روندا بلکہ گاڑی ٹائروں تلے روندتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہیں وہاں موجود اہلکار ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے ان کو تھانے لے جاکر جرمانہ کرنا تو دور کی بات ان کی گاڑی سے بمشکل خود کو بچا کر بے بسی کی تصویر بنے اسے فراٹے بھرتے ہوئے آگے کی جانب فراٹے بھرتے جاتے دیکھتے ھی صاف ظاہر ہے کہ یہ غلط تھا مگر یہ سب غلط کرنے کے باوجود بھی وہ اپنی یا اپنے کسی کی طاقت کے بل بوتے پر آگے روانہ ہوجاتی ہیں میرا بھائی سے قدرتا ہونے والی غلطی اسے تھانہ پہنچاتیی ہے اور دس ہزار جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے مگر یہاں یہ موصوفہ غلط کرتی ہے اور اس غلط پر اتراتی ہوئی سب کو بے بس کر کے آگے بڑھ جاتی ہیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ملک ہمارا نہیں کیا اس ملک پر ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارا بچہ آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو بتائے جانے کے باوجود کے غلطی ہے تھانے منتقل کیا جائے اور جرمانہ کیا جائے جبکہ دوسری جانب زور بازو پر طاقت کے نشے میں چور طاقت کے نشے میں دھت کوئی شخص یا خاتون بیریئر کو پیروں تلے روندے اور اسے کچھ نہ کہا جائے
فیصلہ آپ کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں