50

تعلیم ہم سب کا بنیادی حق ہے

ہم نے جیسے تیسے تعلیم حاصل کی الحمد للہ بہت اچھا وقت تھا مکمل گورنمنٹ سیکٹر کا نظام تھا کوئی ایکا دوکا پریویٹ اسکول تھا بھی تو وہ آج کے ان اسکولوں جیسا بالکل نہیں تھا موجودہ حالات میں جہاں لاکھوں افراد کرونا کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار گے اور ہر طرف گزشتہ چار ماہ سے لاک ڈاؤن ہے وہاں کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گے دنیا کے بڑے بڑے بزنس مین ٹایکون زمین بوس ہو گے بالخصوص پاکستان جیسے غریب ملک میں لوگ بھوک اور افلاس سے اتنے تنگ ہیں کہ شاید اس سے پہلے کبھی ایسے حالات نہیں آے انشاءاللہ اس بیماری کا تریاق بھی ڈھونڈھ لیا جائے گا وقت لگ سکتا ہے لیکن اس برے وقت میں جہاں لوگوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی وہاں پریویٹ اسکولز کی چاندی تھی نہ وقت کا ضیاع اور نہ کسی قسم کے دوسرے اخراجات گھر بیٹھے بیٹھاے ہر ماہ چلان بچوں کے گھر مکمل ایمان داری سے بچانے کا بندوبست اپنی اول تعلیمی ترجیح سمجھتے ہیں خدارہ کچھ تو خوف خدا کا کرو کلاس میں تو کیا پڑھ رہے تھے اوپر سے آنلائن کلاسز کا نیا ورژن جاری کر دیا بالخصوص آزاد کشمیر میں بڑی تعداد گاوں میں مقیم ہیں جدھر اک کال سنے کے لیے اونچے مقام کا رُخ کرنا پڑتا ہے اور ہر کوئی گاوں میں رہنے والا انٹرنیٹ سے واقف بھی نہیں ایسے میں والدین کیا کریں ماہرین کے مطابق کسی بھی ویکسین کو بنانے میں کم از کم تین فیس سے گزرنا پڑتا ہے کرونا ویکسین کو مزید وقت درکار ہے عام لوگوں تک پہنچانے میں تو ہم کو اپنے بچوں کی زندگی تعلیم سے ذیادہ عزیز ہے بیشک اسکول دو سال اور نہ کھولیں یا نہ کھولے جانے جب تک مکمل کرونا وبا ختم نہیں ہوتی ہمیں کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہیے اور تمام والدین سے درخواست ہے سب اسکولز کی فیس بھ دینا بند کرے ان لائن تعلیم اگر پریویٹ اسکولز دیتے ہیں تو مکمل آگاہی دیں والدین کو اور ساتھ انٹرنیٹ کنکشن بھی دیں کیونکہ پوری پوری فیس کس بات کی لے رہے ہیں اس لوٹ مار کے خلاف اپنی آواز بلند کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں