36

مظفرآباد صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

مظفرآباد (روزنامہ تلافی ) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کو تجویز دی ہے کہ وہ بھارت سے غیر حلال گوشت اور غیر حلال مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ بھارت کے خلاف بائیکاٹ، ڈائیوسٹمنٹ اینڈ سینکشنز موومنٹ شروع کریں اور اسلامی ترقیاتی بنک اور اسلامی یکجہتی فنڈ کے تعاون سے کشمیر ہیومنٹرین فنڈ قائم کریں۔ صدر آزادکشمیر نے یہ تجاویز پاکستان کی درخواست پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیر رابطہ گروپ کے ہنگامی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پیش کیں۔ اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمدالہتھیمین، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ترکی کے وزیر خارجہ میولودچاوش اولو، سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان، نائیجریا کے سفیر ابو بکر حسن اور پاکستان کے او آئی سی میں مستقبل مندوب ایمبسیڈر رضوان شیخ نے شرکت کی۔ کشمیر رابطہ گروپ کے ہنگامی اجلاس سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے نمائندے سید فیض نقشبندی اور او آئی سی کے خودمختار مستقل انسانی حقوق کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب مرغوب بٹ نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی اذیت ناک تفصیلات سے اجلاس سے شرکاء کو آگاہ کرنے کے بعد صدر سردار مسعود خان نے اسلامی تعاون تنظیم کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو جموں وکشمیر کے بارے میں اپنا نمائندہ خصوسی مقرر کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے ایک نتیجہ خیز اجلاس بلانے کے حوالے سے پیغام بھیجے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن اپنی اس تجویز کا از سر نو جائزہ لے جس میں کمیشن نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی تسلسل کے ساتھ بدترین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ صدر سردار مسعود خان نے اجلاس میں موجود اسلامی وزراء خارجہ کو یہ بھی بتایا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں صورتحال انتہائی نازک ہے کیونکہ بھارت کی فوج کرونا وائرس کی آڑ میں ہر روز درجنوں کشمیریوں کو جعلی مسلح مقابلوں میں شہید کر رہی ہے اور پورے بھارت سے غیر کشمیری ہندوؤں کو لا کر مقبوضہ ریاست میں آباد کر رہی ہے جبکہ کشمیریوں کو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ کشمیر کی دھرتی اُن کا وطن ہے در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے حوالے سے اٹھائے گے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ ریاست کو اپنی کالونی میں تبدیل کرنے کے لئے بھارت تیزی سے اقدامات کر رہا ہے اور ریاست میں نئے آباد ہونے والے بھارتی شہریوں کو پانچ لاکھ ایسی سرکاری ملازمتیں دینے کی تیاری کی جارہی ہے جن پر پہلے کشمیریوں کا حق تھا۔ انہوں نے عالمی برادری اور دنیا کے کثیر القومی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کی چیخوں اور آہ بکا ء کو سنیں اور مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری اور ان کی زمین ان سے چھیننے کے غیر انسانی عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے نئے ڈومیسائل قوانین کا جرمنی کی نازی پارٹی اور اسرائیل فلسطین میں پالیسیوں سے موازنہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت آج وہی کچھ کررہا ہے جو اسرائیل نے اردن کے مغربی کنارے اور جرمنی کی نازی پارٹی نے 1935ء میں نورم برگ قوانین کی شکل میں کیا تھا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو مزید اجاگر کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تیرہ ہزار نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں جیلوں اور نظر بندی کیمپوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، خواتین پر جنسی تشدد کیا جا رہا ہے اور پرامن مظاہرین کے خلاف مہلک چھرے دار بندوقوں کا استعمال کر کے انہیں نابینا اور معذور کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے خلاف دو حصوں میں تقسیم کر کے براہ راست دہلی کے ماتحت کر دیا گیا ہے جو کہ ایک استعماریت کی شکل ہے اور اس طرح کشمیریوں کو ان کے حق رائے دہی اور حق ملکیت سے محروم کر کے بے دخل کیا جا رہا ہے اور بھارت اپنا یہ ناپاک ایجنڈا تشدد اور دہشت گردی کی ذریعے کشمیریوں پر مسلط کر رہا ہے۔ سردار مسعود خان نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندو بالادستی کے نظریے کو مسلمانوں، عربوں اور کشمیریوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ دراصل اسلام کے خلاف تہذیبی جنگ کے مترادف ہے جس کا مقصد بھارت سے اسلام اور دوسرے مذاہب پر یقین رکھنے والوں کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگا کر مقبوضہ کشمیر میں جاری نسل کشی، جنگی جرائم اور نسلی تطہیر جیسے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے شرکاء اجلاس کو پورے یقین کے ساتھ بتایا کہ آزادکشمیر میں کوئی لانچنگ پیڈ ہے اور نہ ہی یہاں سے حریت پسندوں کو لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمران جرمنی کے گوئیبل کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس کا کوئی وجود ہے نہ ہی بنیاد ہے۔ صدر آزادکشمیر نے اسلامی وزرائے خارجہ کو یہ بھی بتایا کہ بھارت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے کر خطے میں ایک جنگی جنون پیدا کر رہا ہے جس کا ثبوت خود بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی دھمکیاں ہیں جو دو بار یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے پاکستان کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ان دھمکیوں کے باوجود جموں وکشمیر اور پاکستان کے لوگ جھکنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور کشمیریوں نے خاص طور پر یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنی مادر وطن کی آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ صدر آزادکشمیر نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان اور سربراہان حکومت سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کا احترام کرنے اور عالمی طور پر کشمیریوں کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کو دینے پر مجبور کرنے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالیں اور اسے اس بات پر بھی مجبور کریں کہ وہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت بحال کرے، مقبوضہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی اقدامات بند کرے، مقبوضہ ریاست میں غیر کشمیریوں کی آبادکاری کا سلسلہ فی الفور روکے اور کشمیریوں کا حق زندگی، حق رہائش، جائیداد رکھنے کا حق اور روزگار اور تعلیم کے حقوق جنہیں عالمی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے بحال کرے۔ صدر سردار مسعود خان نے اسلامی تعاون تنظیم، اس کے بنیادی انسانی حقوق کمیشن، یورپین پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ان حالیہ بیانات پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا جن میں کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں