45

کوئٹہ، بلوچستان یونین آف جر نلسٹس کے زیر اہتمام صحافیو ں پر تشدد کےخلاف اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ،(روزنامہ تلافی ) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام صحافیوں پر تشدد کےخلاف اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا ہے.
وزیر داخلہ اور دیگر ایم پی ایز پا کستا ن فیڈ رل یو نین آف جر نلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقااور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین سے مذاکرات کر ر ہے ہیں۔

کوئٹہ:چمن کے صحافیوں کی گرفتاری اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں، صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار
کویٹہ:بتایا جائے کس جرم میں صحافیوں کو 3 ایم پی او کے تحت مچھ جیل میں رکھا گیا، شہزادہ ذوالفقار۔

کوئٹہ:وزیر داخلہ ضیاء لانگو اور ایم پی اے اصغر اچکزئی کی صحافیوں سے مذاکرات
کویٹہ:صحافیوں کی گرفتاری اور تشدد کی تحقیقات کروائیں گے ، ضیاء لانگو
کوئٹہ:صحافیوں کے ظلم اور زیادتی برداشت نہیں کریں گے ، وزیر داخلہ ضیاء لانگو
کوئٹہ:وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے ، ضیاء لانگو
کوئٹہ:تشدد میں ملوث اہلکاروں کو فوری معطل کیا جائے ، صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار
کوئٹہ:وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے صحافیوں کے مطالبے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا
کوئٹہ: صحافیوں پر تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں ، پارلیمانی لیڈر اے این پی اصغر خان اچکزئی
کوئٹہ: حکومت تشدد سے متاثرہ صحافیوں کو انصاف فراہم کرے گی ، اصغر خان اچکزئی۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں چمن ،قلعہ عبداللہ میں صحافیوں پر ڈی سی اور ضلعی انتظامیہ کی تشدد اور انکے خلاف بوگس کیسز بنانے کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا گیا ،صحافیوں نے اسمبلی ہال سے مارچ کرکے گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ، احتجاجی مظاہرے کی قیادت پی ایف یو جے کے مرکزی صدر شہزادہ زوالفقار کر رہے تھے جب کہ بی یو جے کے صدر ایوب ترین ،جنرل سیکرٹری رشید بلوچ ،سینئر صحافی جلال نورزئی ودیگر سینئر صحافی موجود تھے ، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو ، رکن اسمبلی اصغر خان اچکزئی ،رکن اسمبلی دنیش کمار احتجاجی مظاہرین سے مزاکرات کیلئے آئے تو مظاہرین نے واقعہ میں ملوث ڈی سی قلعہ عبداللہ و تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروئی دیگر مطالبات انکے سامنے رکھ دیئے ، اس موقع پر شہزادہ زوالفقار نے کہا ہے کہ صحافیوں کو جس طرح تشدد کا نشانہ بنا گیا اور راتوں رات مقدمات بنائے گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ اپنا ایک دیرینہ بدلہ لینا چاہ رہا تھا کسی بھی شہری کو اس بیدردی تشدد بنانا قطعی طور پر آئین کے خلاف ورزی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کے خلاف کوئی بھی کاروئی اگر ہوتی ہے تو وہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہو نا چاہئے ، ایوب ترین نے کہا کہ صحافیوں پر مقدمات بنانے کی بعد تشدد کا نشانہ بنانا سمجھ سے بالا تر ہے ،کیا چمن میں دولوگوں کو رکھنے کی جگہ میسر نہیں تھی جنہیں ضلع کے باہر منتقل کرنا پڑا ؟ جنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے کہا کہ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کر میسج دیا گیا ہے کہ ڈی سی سے متعلق رپورٹنگ کرنا ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا بہت ہی بھیانک ہوسکتا ہے ،جس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کی یقین دیہانی پر مظاہرین نے اپنا احتجاجی مظاہرہ ختم کردیا ، صوبائی وزیر داخلہ کی احکامات کی روشنی میں بلوچستان اسمبلی میں وزیر داخلہ کے چیمبر میں صوبائی وزیر داخلہ سے صحافیوں کے وفد جس کی سربراہی میں صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شہزادہ زوالفقارکر رہے تھے ،جس میں ایوب ترین ،رشید بلوچ ،جلال نورزئی ،عبدالمتین اچکزئی ،سید علی اچکزئی بھی ہمراہ تھی نے ملاقات کی اور انہیں واقعہ سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا جس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ڈی سی قلعہ عبداللہ اور تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کاروئی کے علاوہ دونوں صحافیوں کے خلاف دائر جعلی مقدمات کے خاتمے اور دوران گرفتاری ،دونوں صحافیوں سے تحویل میں لیئے گئے گاڑی ،موبائل فون و دیگر ضروی کاغذات کی واپسی کے احکامات جاری کردئیے ،اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ انعام کاکڑ بھی موجود تھے ،اس سے قبل پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ زوالفقار بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین ،جنرل سیکرٹری رشید بلوچ ،کوئٹہ پریس کلب کے نائب صدر عبدالخالق رند سینئر صحافی جلا ل نورزئی ،نے اپوزیشن لیڈرملک سکندر ایڈوکیٹ ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ملک نصیر شاہوانی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور چمن واقعہ سے متعلق بریفنگ دی جس پر اپوزیشن جماعتوں نے صحافیوں کو اپنی بھر پور تعاون اور معاملے کو اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے کی یقین دیہانی کرا دی

PAKISTAN

Two Baloch reporters tortured for covering quarantine centre on Afghan border

Reporters Without Borders (RSF) calls on the authorities in Pakistan’s southwestern Balochistan province to order a judicial investigation to identify who was responsible for torturing two TV reporters while they were held for three days by a paramilitary force, and to bring the torturers to justice.

Saeed Ali Achakzai, a reporter for the Urdu-language Samaa News TV, and Abdul Mateen Achakzai, a reporter for the Pashtun-language Khyber News TV, finally reappeared this morning with their bodies covered with the marks of torture, four days after being called to the Frontier Corps command centre in Chaman, a city near the Afghan border, at 8 p.m. on 20 June.
“We were blindfolded and taken to a place where we were handed over to the Anti-Terrorism Force that is operated by the Balochistan Levies, and the ATF took us to the notorious Machh prison and tortured us there to the point that you can see signs of the torture on our back,” Abdul Mateen Achakzai told RSF.
The Balochistan Levies are a paramilitary gendarmerie that often operates in a completely illegal manner. The Levies were asked to intervene in this case by the deputy commissioner of the Chaman police, who didn’t like the way the two reporters had covered a quarantine centre located at the border.
Constant harassment۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کا بلوچستان کے سنیئر صحافیوں پر انتظامیہ کے بدترین تشدد کی سخت مذمت ،

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر فدا خٹک اور جنرل سیکرٹری محمد نعیم نے بلوچستان کے علاقے چمن سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کیے جانےوالے دو صحافیوں عبدالمتین اچکزئی اور سعید علی اچکزئی کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں آزادی صحافت کے نعرے لگانے والی حکومت یہ بھول چکی ہے کہ میڈیا ہی کہ وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے میڈیا ہی کو نشانہ بنایا جار ہے، ملک میں کئی بھی حکومت اپنا چہرہ دکھایا جاتا ہے تو صحافیوں پر تشدد جیسے حربے استعمال کئے جاتے ہیں ،بلوچستان میں دو صحافیوں عبدالمتین اچکزئی اور سعید علی اچکزئی نے حکومت کو آئینہ دیکھا تو ان پر بد ترین تشدد کیا گیا صحافیوں کے ساتھ پیشہ وارانہ امور پر اعتراض کو بنیاد بناکر غیر انسانی سلوک ملکی آئین اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا ورزی ہے اور کوئی مہذب معاشرہ کسی صورت اسکی اجازت نہیں دیتا، کے ایچ یو جے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دونوں صحافیوں پر بہیمانہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے
محمد نعیم
جنرل سیکرٹری
خیبر یونین آف جرنلسٹس

ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار آور جنرل سیکٹری سید ناصر زیدی صاحب کو بلوچستان کے شہر چمن میں دو صحافی ورکروں کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے سچائ کی آواز کو بلند کرنے پر پاپند سلاسلِ کر کے بدترین تشدد کرنے کے خلاف سخت نوٹس لینے اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اس حادثے کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں آور دوسرا اس کیس میں بروقت اور فوری داخل ہو کر دونوں صحافیوں کو فوری رہائی دلوانے پر بھی خصوصی خراج تحسین پیش کرتے ہیں

اسسٹنٹ ایڈشنل جنرل سیکٹری محمد شاھد چوہدری۔۔۔

سید مسرور کاظمی صدر آیبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس

اقبال ساغر جنرل سیکٹری ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس ۔

سکھر یونین آف جرنلسٹس کا ہنگامی اجلاس بلوچستان کے علاقے چمن کے دو صحافیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بدترین تشدد کی سخت مذمت ، تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
سکھر پریس کلب میں سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلیم سھتو کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر لالا اسد پٹھان اور میمبران ایف ای سی ( pfuj) آصف ظہیر لودھی امداد بوزدار سکھر پریس کلب کے صدر نصراللہ وسیر جنرل سیکریٹری یاسر فاروقی سیفما کے مرکزی رہنما لالا شھباز پٹھان سیفما سکھر چیپٹر کے صدر صلاح الدین قریشی سکھر یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر جلال الدین بھیو جنرل سیکریٹری جاوید جتوئی سکھر فوٹو جرنلسٹس ایسوسیشن کے صدر بخش علی، جنرل سیکریٹری عمران شیخ سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے نائب صدر لالا اسد پٹھان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے علاقے چمن میں دو صحافیوں عبد المتین اور سعید علی اچکزی کی پیشہ وارانہ امور کی ادائیگی پر اعتراض کو بنیاد بناکر غیر انسانی سلوک ملکی آئین اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا ورزی ہے کوئی بھی مہذب معاشرہ کسی صورت اس طرح کے عمل کی اجازت نہیں دیتا
ہنگامی اجلاس سے خطاب میں سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلیم سھتو اور سکھر پریس کلب کے صدر نصراللہ وسیر نے بلوچستان کے علاقے چمن سے چند روز پہلے گرفتار کیے جانےوالے دنوں صحافیوں عبدالمتین اچکزئی اور سعید علی اچکزئی کی گرفتاری کہ بعد چمن سے مچھ جیل منتقلی کےدوران شدید تشدد کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے دونوں صحافیوں کو سچ لکھنے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر گرفتار کروایا اور ان پر بدترین تشدد کروایا ۔
اجلاس کے شرکاء نے صحافیوں پر جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت کی وجہ سے دونوں صحافیوں کی حالت انتہائی خراب ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے ۔
اجلاس کے شرکاء نے صحافیوں پر تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے واقعہ کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی جبکہ وزیراعظم پاکستان ، وزیر اعلی و وزیر داخلہ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں صحافیوں پر بہیمانہ انسانیت سوز تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور صحافیوں کو انصاف فراہم کیاجائے ۔ حکومت نے اگر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر کاروائی کیلئے اقدامات نہ کیئے تو ملک بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
سلیم سھتو
صدر
سکھر یونین آف جرنلسٹس۔
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کا بلوچستان کے سنیئر صحافیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بدترین تشدد کی سخت مذمت ،غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

آر آئی یوجے کے صدر عامر ساجد سید اور جنرل سیکرٹری آصف علی بھٹی نے مشترکہ بیان میں بلوچستان کے علاقے چمن سے چند روز پہلے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کیے جانےوالے دو صحافیوں عبدالمتین اچکزئی اور سعید علی اچکزئی کو چمن سے مچ جیل منتقلی کےدوران شدید تشدد کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی ہے، جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت کی وجہ سے دونوں صحافیوں کی حالت انتہائی خراب ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے ،آر آئی یوجے نے اپنے ہنگامی اجلاس میں قرار دیاہے کہ دونوں صحافیوں کے ساتھ پیشہ وارانہ امور پر اعتراض کو بنیاد بناکر غیر انسانی سلوک ملکی آئین اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا ورزی ہے اور کوئی مہذب معاشرہ کسی صورت اسکی اجازت نہیں دیتا۔
آر آئی یوجے نے چیف جسٹس سپریم کورٹ واقعہ کا ازخود نوٹس لینے اور وزیر اعلی و وزیر داخلہ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں صحافیوں پر بہیمانہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور صحافیوں کو انصاف فراہم کیاجائے ۔
آر آئی یوجے نےواضح کیاہے کہ بلوچستان حکومت نے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن نہ لیا تو وفاق سمیت چاروں صوبوں میں بھرپور احتجاج کیاجائےگا۔
آصف علی بھٹی،جنرل سیکرٹری آرآئی یوجے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں