44

آزاد کشمیر بھر کے وکلا نمائندوں کا پرامن احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد( اقبال اعوان سے)آزاد جموں و کشمیر بار کونسل، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آزاد کشمیر بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان کا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے خلاف اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے باہر آزاد کشمیر بھر کے وکلا نمائندوں کا پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں حکومت پاکستان کو خبردار کیا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے باز رہے کشمیر کی وحدت کو کبھی تقسیم نہیں ہونے دیں گے ، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کے وائس چیئرپرسن نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کے صدر خواجہ منظور قادر،ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ آصف ایڈووکیٹ ، عقاب احمد ہاشمی نائب صدر سپریم کورٹ بار، سردار صابر کشمیری ایڈووکیٹ ،صدر راولاکوٹ بار سردارایوب ایڈووکیٹ ، ، سردار حلیم ایڈووکیٹ صدر سدہنوتی ،قمر زمان مرزا صدر ڈسٹرکٹ بار میر پور،ناصر مسعود مغل صدر سنٹرل بار مظفر آباد،امجد حسین لون صدر ڈسٹرکٹ بار نیلم ،اعظم حیدر ایڈووکیٹ صدر ڈسٹرکٹ بار باغ ،طارق عالم ایڈووکیٹ ہٹیاں،ملک قیصر ایڈووکیٹ ، صدر ہجیرہ بار، نثار شاہ ایڈووکیٹ ، واجد بن عارف ایڈووکیٹ، سردار جاوید ایوب ایڈووکیٹ، سردارصیاد ایڈووکیٹ، سردار حبیب ایڈووکیٹ، سردار ریاض ایڈووکیٹ، سردار آزاد ایڈووکیٹ، سردار گلنواز خا لق ایڈووکیٹ،عارف چوہدری ایڈووکیٹ، سردار عاضم حیدر ایڈووکیٹ نے شرکت کی اور خطاب کیا، اس موقع پر آزاد کشمیر بھر سے وکلاء کی بڑی تعداد مظاہرے میں موجود تھی ، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین بار کونسل نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ و دیگر مقررین نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک وحدت ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت جو کشمیریوں کا بنیادی حق ہے پاکستان اور بھارت کشمیر کے جغرافیہ میں کسی قسم کے ردبدل کے مجاز نہ ہیں، بھارت نے آپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A میں غیر قانونی طور پر ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی گھنائونی سازش کی ہے اقوام متحدہ اور عالمی برادری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر خاموشی بھارت کے غیر قانونی اقدام کو تقویت دینے کے مترادف ہے،ہم ریاست پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خاتمے تک مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور کسی بھی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جموں و کشمیر کا حصہ ہے جی بی کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاز کرنے کے مترادف ہے، ایسا کرنے سے نہ صرف مسئلہ کشمیر کو ناتلافی نقصان پہنچے گا بلکے کشمیریوں کی 73 سالہ جدوجہد لاکھوں شہدا کی قربانیوں کا رائیگاں جانے کا اندشہ ہے آئینی تبدیلی نہ صرف کشمیریوں کے حق ارادیت بلکہ پاکستان کی سلامتی کے بھی خلاف ہے، ریاست جموں و کشمیر کی باشعور عوام کی خواہشات بالخصوص وکلا گلگت بلتستان پاکستان کی عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں، ہم گلگت بلتستان کی عوام کے اقتصادی مسائل روزگار ملازمت کے مساہل اور سیاسی اختیار دینے کے حق میں ہیں مگر فیصلہ کرتے وقت معاملے کی نزاکت کا بھی خیال رکھا جاہے ، اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو متاثر کیے بغیر جی بی کی عوام کو حق دے کیونکہ کسی بھی غلط فیصلے سے پاکستان کا موقف عالمی سطح پر کمزور ہو گا، گلگت بلتستان کی عوام کو اپنے وسائل خود استعمال کرنے اور نظام حکومت اپنی مرضی ضروریات کے مطابق بنانے دیا جاہے گلگت بلتستان کی عوام کو حق حکمرانی کم از کم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے برابر اختیار دیتے ہوئے عوام کی شہری آزادیوں کا مکمل خیال رکھا جائے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ختم ہونے سے دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے ، یو این سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت پاکستان اور بھارت کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند ہیں، گلگت بلتستان کی موجودہ حیثیت تبدیل ہوئی تو اسکی وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت ذمہ درار ہوگی ، سقراط کے آخری پیالے کے بچے کھچے زہر سے آخری گھونٹ ہمیں لینے ہوں گے تقسیم کشمیر کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا وکلا نے تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور وکلا ہی تعریک آزادی کشمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیں گے۔ریاستی تشخص کو بحال کریں گے قربانیوں کا قرض چکانا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری وکلاء وحدت کے کسی بھی تقسیم کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا علامتی احتجاج تھا اگر تقسیم کشمیر کی کوشش کی گئی تو ہم خون کا آخری قطرہ بھی دینے کے لیے تیار ہونگے۔انہوں نے وکلاء برادری سے اپیل کی کے 6اکتوبر کو ہجیرہ میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے کنونشن میں شرکت کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں