39

میرپور(تلافی)سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم

میرپور(تلافی)سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ چوہدری محمد ابراہیم ضیاء کے بیٹے ارسلان ابراہیم کو میرپور پولیس نے گرفتار لیا ہے۔ارسلان ابراہیم پر الزام ہے کہ وہ ایک طالبہ کو بلیک میل اور حراساں کرنے میں ملوث ہیں۔ طالبہ کے والد کی درخواست پر سٹی پولیس میرپور نے گزشتہ رات ارسلان ابراہیم کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ارسلان ابراہیم میرپور کی ایک طالبہ سے گزشتہ ڈھائی سال سے تعلق قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا ، طالبہ نے ارسلان سے تعلق نہ رکھنا چاہا تو اس نے طالبہ کو حراساں کرنا اور بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔۔

گزشتہ دنوں ارسلان ابراہیم نے میرپور جا کر طالبہ اور اسکے فیملی ممبران کو تنگ کرنا شروع کیا تو انہوں نے تنگ آ کر گزشتہ رات سٹی تھانہ میرپور میں درخواست دی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ارسلان ابراہیم کو گرفتار کر لیا۔ مبینہ طور پر ارسلان ابراہیم میرپور کی اس اکیلی طلبہ کو ہی حراساں نہیں کرتا رہا بلکہ مظفرآباد میں جامعہ کشمیر اور میڈیکل کالجز کی طالبات کو بھی حراساں کرتا رہا ہے۔

میرپور پولیس نے گرفتاری کے بعد تفتیش شروع کر دی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق صرف واقعہ کا ہی نہیں بلکہ اس پورے گروہ کے بارے میں تفتیش جاری ہے جو خواتین کو حراسان یا بلیک میل کرتا ہے جبکہ ارسلان کے زیر استعمال جو موبائل نمبر اور سوشل میڈیا اکاونٹس ہیں ان کی جانچ پڑتال بھی کی جارہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ارسلان کے قریبی دوستوں سے بھی پولیس تفتیش کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ارسلان ابراہیم کو درخواست پر گرفتار کیے جانے کے بعد پولیس پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایف آئی آر درج نہ کرے، دوسری جانب پولیس ذرائع ایف آئی آر کے اندراج کا دعویٰ ضرور کر رہے ہیں لیکن تاحال ایف آئی آر کی کاپی سامنے نہیں لائی جا سکی ہے۔

ارسلان ابراہیم اس وقت عدالت عالیہ آزادکشمیر کے شعبہ آئی ٹی میں کنٹریکٹ پر گریڈ17 کا ملازم ہے۔ ارسلان کی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی ابراہیم ضیاء کی سفارش پر کی گئی تھی اور جب عدالت عالیہ میں آئی ٹی کا سیکشن قائم کر کے نارمل میزانیے پر لایا گیا تو ابراہیم ضیاء نے اپنے بیٹے کو بھی عدالت عالیہ کے پراجیکٹ میں شامل کرادیا۔

یاد رہے کہ چوہدری ابراہیم ضیاء نے 21فروری 2017ء کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزادکشمیر کا حلف اٹھا یا تھا۔ 14 مارچ 2017ء کو ان کے اسی بیٹے ارسلان افتخار کی تفریحی مقام مری سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں چیف جسٹس سپریم کوٹ کی گاڑی بھی نظر آ رہی تھی۔

سوشل میڈیا صارفین نے چیف جسٹس پر تنقید کی تھی کہ ان کا کنٹرول اپنے بیٹے پر نہیں تو وہ شہریوں کو انصاف کیسے دیں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ارسلان ابراہیم کی آئی ٹی کے محکمے میں بھرتی بھی خلاف میرٹ کی گئی اور بعد میں انہیں عدالت عالیہ میں بھی غیر قانونی طریقے سے ملازمت دی گئی لہذا انکی تعیناتی بارے بھی تحقیقات کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں