51

راولاکوٹ( محمد خورشید بیگ )جموں کشمیرنیشنل عوامی پارٹی

راولاکوٹ( محمد خورشید بیگ )جموں کشمیرنیشنل عوامی پارٹی کے صدرسردارلیاقت حیات خان نے کہا ہے کہ ہمارے حوصلے جواں اور پرعزم ہیں گرفتاریاں ہمارامقدر ہیں قربانیوں کے بغیرآزادی نہیں ملتی جموں کشمیرکی عوام کونکلنا هوگا اورتقسیم کشمیرکی سازشوں کوناکام بنانا ہوگا اورگلگت بلتستان کوبچاناہوگا،اب نہیں توکب اگرابھی بھی عوام نہ نکلے تو جموں کشمیرکوٹکڑے کردیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم ریاست بچانے نکلے ہیں عوام ہماراساتھ دیں کشمیری 73سالوں سے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔لاکھوں شہداء نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں پانچ اگست کو جو اقدام بھارت نے کیا وہی پاکستان کرے گا توپھردونوممالک میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانے سے تحریک آزادی کشمیرکوناقابل تلافی نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے۔انہوں نے کہاکہ چھ اکتوبرکے دن ہم گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانے اورتقسیم کشمیرکی سازشوں کے خلاف کوہالہ کی طرف نکلے تھے ہم نے کوہالہ پل پرپہنچ کردھرنا دینا تھا اور عالمی دنیاتک اپناپیغام پہنچانا تھاکہ کشمیری تقسیم کشمیرکی کسی سازش کونہیں مانتے کشمیری صرف و صرف آزادی چاہتے ہیں اورآزادی کشمیریوں کابنیادی حق ہے مگرریاستی پولیس نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے ہماراراستہ روکنے کی کوشش کی اورپھرچہالہ کے مقام پررات کے اندھیرے میں ہمارے کارکنان کو بدترین تشددکانشانہ بنایا لاٹھی چارج آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی واٹرکینن پھینکاگیا اورگرفتارکرکے پابندسلاسل کیاگیا۔تھانوں اورچوکیوں میں چھوٹے چھوٹے کمروں میں بھیڑ بکریوں کی طرح گھسیڑاگیا جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی عالمی انسانی حقوق کے اداروں کونوٹس لیناچاہیے ان خیالات کااظہار انہوں نے حراست میں مقید رہتے ہوئے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ان کاکہنا تھاکہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا اگرآزادی مانگناجرم ہے تویہ جرم باربارکریں گے گزشتہ روزصحافیوں کی ایک ٹیم نے تھانہ دھیرکوٹ پولیس چوکی ارجہ اورپولیس چوکی ساہلیاں کادورہ کیا اورسیاسی قیدیوں سے ملاقاتیں کی اوران کو درپیش مشکلات کے حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ کیا سیاسی قیدی تھانہ میں تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تھانہ دھیرکوٹ میں ایک کمرہ میں لیاقت حیات خان سمیت17افراد اورایک کمرہ میں 13 افراد ساہلیان چوکی پر5 افرادارجہ چوکی میں 7باغ میں 6افرادکورکھاگیا ہے جوانتہائی مشکلات کاشکارہیں۔جہاں کورونا وائرس کے خدشات بھی ہیں کسی طرح سے بھی ایس اوپیزکو مدنظرنہیں رکھاگیاہے اورتمام تراقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس پرصحافیوں سیاسی وسماجی شخصیات نے تشویش کااظہارکرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں